انصاف کی بھیک مانگی نہیں جاتی

انقلاب فرانس کے بانی روسو نے کہا تھا کہ قوی ترین شخص کبھی بھی طاقتور نہیں رہتا تاوقتیکہ قوت کو حق میں نہ بدل دے اور اطاعت کو فرض میں۔ ایسا کون سا ظلم تھا جو فرانس کے جاگیردارانہ سماج میں نہ تھا۔ ظلم اور جبر کی زنجیروں میں جکڑی انسانیت کو روسو نے آزاد تو نہ کیا البتہ راہ دکھا دی۔ پھر تاریخ گواہ ہے کہ انقلاب فرانس آج بھی دنیابھر کے انقلابیوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ پہلی

Read more

طاقت کا سرچشمہ عوام

آٹے سے لدا ٹرک جونہی رو کا۔ منتشر ہجوم آؤ دیکھا نہ تاؤ ٹرک پر چڑھ دوڑا۔ جیسا کہ بلوائی حملہ اور۔ یہ دیکھ کر بالی ووڈ فلم کا وہ سین یاد آ گیا۔ جس میں زومبیز انسانی خون پینے کو دوڑ پڑتے ہیں۔ ایک طرف لوٹ مار، گالم گلوچ، دھکم پہل تو دوسری طرف ہجوم میں پیچھے رہ جانے والا لڑکا۔ کمزور سی جسامت، بڑی کالی آنکھیں جن میں ابھی تک بچپنا اور معصومیت، اور چہرے پر خوف۔ محسوس

Read more

غربت اور امید

ٹھنڈے یخ پانی سے منہ دھوتے ہوئے اسے بائیں بازو میں شدید درد محسوس ہوا، ایسا کہ ہڈی کو چیرا جا رہا ہوں۔ اس سال شدید سردی پڑھ رہی ہے اور لکڑیاں بھی ختم ہونے کو ہیں۔ درد نے اس کو منجمد کر کے رکھا ہوا تھا۔ کام کی سختی اور مسلسل پریشانیوں سے کھنڈر بن رہا تھا۔ اس احساس اور دکھ کی لہروں کو اپنے اندر سرایت کرتے ہوئے محسوس کرتا تھا۔ گزشتہ دن کام نہیں ملا اور آج

Read more

زندہ قومیں، زندہ فلسفہ، اور تائب ہونے والی سیکولر اداکارہ

کچھ دن پہلے ایک سابقہ اداکارہ جو اداکاری سے توبہ تائب ہو چکی ہیں۔ محترمہ فرما رہی تھی کہ وہ پہلے بہت سیکولر تھی اب نادم ہے اور مذہبی ہو چکی ہے۔ رینی ڈیکارٹ کا قول ہے کہ کسی بھی قوم کے تہذیب یافتہ ہونے کا براہ راست تعلق اس کی فلسفیانہ برتری پر ہے مطلب کہ وہ قومی زندہ ہیں جن کا فلسفہ زندہ ہے۔ فلسفہ؟ ہمارے سماج میں شاعروں اور دانشوروں کو ویسے ہی فارغ العقل سمجھا جاتا

Read more

شعور یا نرگسیت ؟ ھمارا المیہ

موجودہ سیاسی بحران اور عوام کی مسائل پر گفتگو۔ جب لوگ اتنے ہی علمی، فکری اور فطین ہیں تو ہمارے مسائل حل کیوں نہیں ہوتے؟ کہنے کو تو ہر کوئی اپنے آپ کو شعور کی اعلی منزل پر سمجھتا ہے مگر۔ کیا یہ واقعی شعور بھی ہے کہ نرگسیت؟ اس کو سمجھنا بھت ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم حقائق کو مدنظر رکھ کر سوچتے ہیں یا کہ پھر ذاتیات اور مفادات کے تحت ہمارا شعور کام کرتا ہے؟

Read more

میڈیا اور مافیاز

کہا جاتا ہے کہ آج کا دور میں میڈیا کا دور ہے۔ میڈیا کے اثرات سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ کچھ دہائیاں قبل میڈیا جتنا محدود تھا معاشرہ کسی نہ کسی سمت میں ضرور تھا۔ مگر میڈیا جتنا لامحدود ہوا اتنا ہی معاشرہ ہجوم کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ معاشرہ پہلے ٹھیک تھا، مگر میڈیا کی آزادی سے معاشرے میں جو اثرات آرہے ہیں ان کی طرف سے توجہ مبذول کروانا ہے۔

Read more

صدارتی نظام حکومت

گزشتہ کچھ دنوں سے ملکی نظام حکومت کو تبدیل کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ ویسے تو یہ بات دو تین سال سے سننے میں آ رہی ہے کہ موجودہ نظام عوام کی ترجمانی کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپوزیشن اور حکمران جماعت کے حامیوں کے درمیان مکالمے۔ افسوس کہ کوئی بھی علمی دلیل نہیں دے پا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں بار بار نظام تبدیل کرنے کی بات کیوں کی جاتی

Read more

مجھے اپنی طالب علمی کی یاد سے ڈر کیوں لگتا ہے؟

کچھ عرصہ قبل ایک دوست جو کہ پرائمری سکول میں بطور استاد اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں، بتایا کہ وہ ہفتے میں ایک دن بچوں کو اپنے خیالات لکھنے کا موقع دیتے ہیں۔ بچے خوشی خوشی چھوٹی چھوٹی کہانیاں یا پھر اپنے خیالات کا برملا اظہار کرتے ہیں اور ذہنی مسرت پاتے ہیں۔ یہ جان کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ وہ دوست ایک استاد کا فرض ہی نہیں بلکہ محبت کا اظہار کر رہا ہے، محبت کا

Read more

خواجہ سرا اور خالق کی مرضی

کچھ عرصہ قبل شدید جاڑے کے موسم میں، دکان سے باہر بیٹھا سورج کی گرم شعاعوں سردی لطف اندوز کر رہا تھا کہ اچانک بازار کے ہجوم میں۔ ایک گم سم فرد دیکھا۔ یہ ایک غیر ارادی نظر تھی مگر ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی انجان اور اجنبی ہو۔ اسے ابھی ابھی ایک دوسری دنیا سے ٹھیک اسی جگہ اتارا گیا ہوں جہاں وہ کھڑا تھا۔ چپ ایسے کہ جیسے منہ میں زباں ہی نہ ہو، بس ایک ہاتھ کچھ فاصلے سے ہر راہ گزرتے آدمی کے سامنے پھیلا دیتا۔ واضح نظر آ رہا تھا کہ وہ بھیک نہیں مانگنا چاہ رہا۔ مگر تاثر یہ تھا کہ وہ کسی حکم کی تعمیل کر رہا ہوں۔ اسے یہ حکم بجا لانا ہے۔ یہ فرض ادا کرنا ہے کہ جیسے آسمان سے کوئی حکم ہو۔

Read more

شکریہ سعادت حسن منٹو

میرے ایک قریبی دوست جو کہ گورنمنٹ سکول میں اردو کے استاد ہیں۔ جن سے ملاقات میں اکثر علمی یا معاشرتی مسائل پر بات ہوتی رہتی، ایک دن کسی ادبی موضوع پر بات سے بات نکلتے منٹو تک جا پہنچی۔ کہنے لگے کبھی منٹو کو پڑھا ہے۔ میرا جواب تھا کہ مجھے منٹو تو بہت اچھا لگتا ہے تو پوری بات سنے بغیر بولے کہ جتنا ممکن ہو دور رہو، یہ بندہ افسانہ نگار کم اور گمراہ زیادہ ہے۔ مزید

Read more

مذہبی انتہا پسندی کا سیاسی پہلو

معاشرہ میں دن بدن بڑھتے ہوئے مذہبی تشدد اور ریاست کی آنکھیں بند پا کر یہ سوال اٹھتا ہے کہ ریاست اتنی غیر ذمہ دار کیوں ہو گئی ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں تیسرے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر مذہبی تشدد کا استعمال کیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ مرد حق کے علاوہ ایسا کون سا سیاسی رہنما تھا جس نے مذہب کا استعمال نہ کیا ہو۔ یہاں تک کہ قائد عوام کو بھی اپنے وزیروں کو ہدایت دینی پڑتی تھی کہ سوشلزم کا مذہبی پہلو ڈھونڈ کر نکالا جائے۔

سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہی اتنا مذہبی تشدد کیوں پایا جاتا ہے اور اسی طرح اگر ہم تاریخی پس منظر سے دیکھیں تو ہمیں مذہبی تشدد سے بھری تاریخ ملتی ہے اور ریاست آج کی طرح ہمیشہ خاموش۔ ورنہ سیاسیات اور مذہب تعلیم کا تو زیادہ زور ہی انصاف اور مساوات ہے۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ ہمارے معاشرہ کی موجودہ صورتحال سے لے کر صدیوں پیچھے تک تشدد ہی تشدد ملتا ہے۔ اس کا جواب ڈھونڈنا چاہیں تو تاریخی پس منظر سے معلوم ہوتا ہے کہ جب خلافت موروثی بادشاہت میں تبدیل ہوئی تو سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کیے گئے، کیونکہ سیاسی اختلاف سے بادشاہ اور وقت کی سیاسی اشرافیہ کو ہمیشہ سے خطرہ رہا ہے۔ لیکن جب مذہب کے اندر فرقے بننے لگے تو اس کے بعد ریاست ہمیشہ سے خاموش اور مذہبی تشدد اپنی انتہا میں نظر آتا رہا ہے۔ جب یونانی فلسفہ عرب سرزمین میں داخل ہوتا ہے تب اور زیادہ تشدد نظر آتا ہے۔ اور ہر اختلاف کو چاہے وہ سیاسی تھا، معاشی تھا، یا معاشرتی تھا ہمیشہ مذہبی پس منظر میں ہی دیکھا گیا۔

Read more

ہنستی، مسکراتی آزاد اور خود مختار نسلیں

کیا کبھی سوچا ہے کہ لفظ دھرتی ماں کیوں استعمال کیا جاتا ہے یا پھر قدیم زمانے میں جب انسان شعور کی ابتدائی منازل طے کر رہا تھا تو دیویاں اس قدر کیوں اہمیت کی حامل تھیں کہ پوجا کی جاتی تھیں۔ چھ سال پہلے میرے قریبی دوست نے کسی این جی او سے رابطہ کر کے علاقے میں سلائی کڑھائی کا سنٹر کھلنے کی کوششیں کیں تاکہ غریب نادار اور بیوہ خواتین گھروں کی دیکھ بھال میں کسی حد

Read more

پٹا مافیا، شعور اور آج کا نوجوان

گذشتہ ہفتہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مانسھرہ میں professors association for students services کی جانب سے منعقدہ کانفرنس میں emerging trends in social sciences میں جہاں بہت کچھ سیکھنے کو ملا وہاں بات پٹا مافیا کی ہوئی تو کچھ عجیب و غریب جھٹکے ہی نہیں بلکہ شدید گھٹن سی محسوس ہوئی۔ ویسے اس طرح کی کانفرنسز ہمارے سماج کے لیے ضروری ہے کیونکہ وہ سوالات جو کتابیں ہمارے ذہنوں میں چھوڑ جاتی ہیں ان کے جوابات مل جاتے ہیں، شعور

Read more

کوہستان ویڈیو سکینڈل کے مرکزی کردار افضل کوہستانی

معجزے تو عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ ہاں البتہ بعض دفعہ اتفاق ضرور ہوتے ہیں۔ پہلی ملاقات تو یاد نہیں۔ آخری ملاقات عجیب سا اتفاق تھا۔ کمرہ امتحان، خاموش فضا، پرچہ لکھتے طلبہ، جسموں پر اثر انداز مئی کی گرمی۔ اور بدن پر ہلکی ہلکی پسینے کی لہریں۔ ویسے ہمارے ہاں امتحان بھی روز محشر سے کم نہیں ہوتے۔ افراتفری تو نہیں ہوتی مگر نفسانفسی میں ایک آواز سنائی دی۔ ایک گلاس پانی۔ سر اٹھا کر دیکھا تو پہلی قطار کی پہلی کرسی ایک دبلا پتلا، کلین شیو، ہم عمر لڑکا، بال کچھ بکھرے بکھرے۔

کچھ سیکنڈز کے لیے آنکھوں ہی آنکھوں میں ملاقات اور ہلکی سی مسکراہٹ کا تبادلہ۔ مسکرائے کیوں، شاید اس مشکل گھڑی میں ایک امید، ایک حوصلہ جو ہر طالب علم کو اس وقت ضروری ہوتا ہے۔ مگر معلوم نہ تھا کہ وہ لڑکا اس سے ہزار ہا بڑا حوصلہ اور امید اپنے اندر جذب کیے ہوئے ہے۔ یاد نہیں آ رہا کہ کمرہ امتحان اس نے پہلے چھوڑا کہ میں نے۔ لیکن زندگی کے امتحانات اور کٹھن راستے۔ افضل کا حوصلہ اور امید۔ کہتے ہیں کہ ایک جاھل سماج میں شعور رکھنا ناقابل معافی جرم ہے۔

Read more

حب الوطنی

سوشل میڈیا پر وائرل ایک تصویر، پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک بچہ، سردی سے کانپتا ہوا نازک جسم، ریاست کا جھنڈا ہاتھ میں لئے۔ سوچتا ہوں تعلیم، صحت، انصاف اور فلاح جیسے الفاظ ان معصوم کانوں کے لئے کتنے اجنبی ہوں گے۔ وہ تو کسی محب وطن گاہک کی انتظار میں تھا کہ کوئی اس سے جھنڈا خریدے اور وہ اپنی بھوک مٹا سکے۔ اور دوسری جانب دو ریاستوں کے مابین جنگ کا نام سنتے ہی حب الوطنی کے نام پر مر، مٹنے کی باتیں۔ انا پرستی میں سڑکوں پر کچلتے ہزاروں من دشمن کے ٹماٹر۔

Read more

زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکیاں کیسے جیتی ہیں؟

تکلیف دیتے وقت زندگی میں کبھی یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ سہنے والا تکلیف کیسے سہتا ہے۔ جسمانی تکلیف توسہہ لیتا ہے مگر ذہنی۔ اس کا تجربہ ہوا تو احساس ہوا۔ اکثر یہ بات کئی بار سننے کو ملی کہ جنسی طور پر ہراساں کی جانے والی خواتین اپنے گھر اور خاندان کی عزت کی خاطر چپ کر جاتی ہیں۔ مگر اس جملے کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ دیتا بھی کیوں ایک مرد جو تھا۔ انصاف، حقوق کی جنگ،

Read more

جمہوریت، اشرافیہ اور عوام

جمہوریت اور اشرافیہ کے درمیان معصوم اور مظلوم عوام کی سسکیوں اور آہوں کو دیکھتا ہوں تو استاد محترم جاوید لغمانی کا ایک شعر ”روں کہ ہنسوں سمجھ نہ آئے“ ذہن میں گھومتا رہتا ہے۔ عوام سے جمہوریت کے متعلق بات کرو تو جواب دیتے ہیں کہ جمہوریت نے ہمیں کیا دیا۔ یہ سوال دراصل کئی سوالات جنم دیتا ہے۔ جن میں ایک سوال یہ ہے کہ ہم نے جمہوریت کو کیا دیا۔ یہی جمہوری نظام برطانیہ میں کچھ اور نتیجہ دے رہا ہے مگر پاکستان میں نا امیدی اور مایوسی ہی عوام کا مقدر ہے۔

Read more