شکر ہے، میں بھارتی نہیں


کوئی شک نہیں کہ عمران خان اس بحران میں کامیاب ہو کر ابھرے اور مودی چھوٹا دکھائی دیے رہا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ بطور ملک و قوم ہمارا قد بھارت سے اونچا بھی ہوا ہے، مگر ٹھہریں اور رک کر سوچیں کہ یہ بحران اگر ٹل بھی گیا اور اس سے ہم اپنا امیج بہتر بنا بھی پائیں سکے ہیں تو بھی کچھ سوال ہمیں خود سے کرنے ہوں گے کیونکہ اس وقتی جیت کو ہمیشہ کہ جیت میں بدلنا ہے۔

عمران خان سمیت سیاسی قیادت اور مبصرین کا یہ کہنا درست ہے کہ بھارت کے مقابلے میں ہمارا میڈیا بہت بہتر ہے اور جنگی جنون کا شکار نہیں کیونکہ ہمارے میڈیا اور معاشرہ جانتا ہے کہ جنگ کیا ہوتی ہے۔ مگر ہم ایسا جانتے کیوں ہیں۔ کس طرح ہمارے علم میں ہے کہ جنگی جنون کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اس لئے ہی نا کہ ہم خوں کے دریا سے نکلے ہیں، ہم نے ستر ہزار جنازے اٹھائے ہیں۔ اس خون کے دریا سے ہمیں کیوں گزرنا پڑا، کیا ان سوالوں پر ہم غور کرنے کو تیار ہیں۔ اگر ہم ان سوالوں کے جواب جانتے ہیں تو ہم نے بہتری کی جانب کون سے قدم اٹھائے ہیں۔ کیا آج کوئی بھی پاکستانی دل پر ہاتھ رکھ کہ یہ کہہ سکتا ہے کہ پاکستان میں کوئی دھشتگرد موجود نہیں۔

میں پاکستانی ہوتے ہوئے سیدھی بات جانتا ہوں کہ مجھے اپنی فوج کو مظبوط کرنا ہے اس کے ساتھ کھڑے بھی ہونا ہے لیکن اس فوج کے ہوتے مجھے اور ہر طرح کے مسلح گروپس کی مخالفت کرنی ہو گی۔ میں جانتا ہوں یہ وقت نازک ہے اور خدا سے دعا ہے کہ خیریت سے ہم اس مشکل سے نکل جائیں مگر ہمیں یاد رکھنا ہے کہ اگلی جنگ سے بچنے کا بہترین طریقہ خود اپنی صفائی بھی ہے۔ اگر چند سو یا چند ہزار دھشت گرد یا ان کا کوئی گروہ یہاں موجود رہا تو پھر ہر طرح کا امن بھی عارضی ہوگا۔ کیوں چند لوگ میرے ملک کی عزت اور زندگی کو اپنے جنون کی خاطر داؤ پر لگانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ کوئی گروہ مجھے، میری قوم کو ایٹم بم کا ایندھن بنا ڈالے۔ یہ کب تک چلے گا، ہمیشہ نہیں۔

میرا بھارت سے کوئی لینا دینا نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو کیا پڑھاتے ہیں کیونکہ بھارت جنگ کے میدان میں زیادہ سے زیادہ جو کر سکتا ہے اس کا جواب میری فوج دے لے گی اور اگر جان سے گزر کے ایٹم بم بھی آخری صورت میں چلانا پڑا تو چلا دے گی کہ ہار کی ذلت سے عزت کی موت کہیں بہتر ہے اور میں اس کے لئے تیار بھی ہوں اور پاک فوج کے ساتھ بھی۔ مگر اس کے ساتھ زندہ رہنے کی فطری خواہش، ترقی کی امنگ مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں اپنے بچوں کو آج کی دنیا اور آنے والے عظیم چیلنجوں کے بارے پڑھا کر تیار کروں۔

ہم اپنے بچوں کو کیا پڑھاتے رہے ہیں جس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلا۔ کہاں وہ غلطیاں ہیں کہ دنیا ہماری بات سننے کو تیار نہیں۔ سچ بتائیں کہ بھارتی شبخون کے بعد تمام دن کس ملک نے بھارت کی مذمت کی۔ میں انتظار ہی کرتا رہ گیا جب آخر کار آسٹریلین حکومت نے بیان جاری کیا مگر وہ ہمارے ہی خلاف تھا، پھر فرانس بھی بھارت کے ساتھ کھل کر کھڑا ہو گیا۔ یہ پاکستان کی اگلے دن کے کارروائی تھی اور بھارتی پائلٹ کا پکڑے جانا تھا جس کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے دونوں ملکوں سے صبر کی اپیل کی اور او آئی سی، سمیت عرب ملکوں کی مذمت سامنے آئی۔

ہمیں سوچنا ہو گا کب تک ہم اپنی تمام آبادی کو اس خطرے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر یہاں کہیں کوئی دھشت گردوں کو پال رہا ہے تو وہ سب سے پہلے کس سے دشمنی کر رہا ہے۔ مجھے جو فخر آج اپنے وزیر اعظم پر ہے، فوج پر ہے، ائیر فورس پر ہے، اپوزیشن اور میڈیا پر ہے، میں اس فخر میں آگے بھی جینا چاہتا ہوں۔ مجھے اس دن کے لئے کوشش کرنا ہے جب میں فخر سے کہوں کہ میرے ملک میں ایک ہی نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ مجھے اس دن کا انتظار ہے جب میں فخر سے کہوں کہ میرے ملک میں جو تاریخ پڑھائی جاتی ہے وہ سچ ہے، میری جدو جہد ہے کہ میرے بچوں میں کوئی دھشتگرد نہ بن پائے، میں کامیابی تب حاصل کروں گا جب بچے بھکاریوں کے روپ میں سڑکوں پر نظر نہ آئیں۔ سپر پاور بننے کا شوق نہیں اور نہ ہی خطے کا چوہدری ہاں مگر تنخواہوں کے لئے قرض تو نہ مانگنا پڑے۔ میں اس عزت کی واپسی چاہتا ہوں جو کبھی میرے ملک کے پاسپورٹ کو حاصل تھی۔ کیوں مجھے دنیا بھر میں ایک دھشتگرد سمجھا جائے کب تک میں اپنا دفاع کروں کہ میرا انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہیں۔

اس کا واحد حل تعلیم ہے۔ سچی اور کھری تعلیم۔ سچی تاریخ اور کھرا نصاب۔ سب کے لئے ایک نصاب۔ اس کی شروعات پاکستان کی سچی کہانی سنانے، پڑھانے سے ہوگا۔ ہم میں سے کتنے جانتے ہوں گے کہ قائد اعظم نے پہلے امریکی سفیر کو انٹرویو میں بھارت اور پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے کس خواہش کا اظہار کیا تھا۔ بھارت میں گاندھی کو کس نے اور کیوں گولی ماری تھی۔ پاکستان میں گاندھی کے قتل پر سرکاری سوگ قائید کی حکم پر کیوں منایا گیا تھا۔

تقسیم کے وقت کے وحشیانہ قتل و غارتگری کے تازہ خون کے چھینٹوں کے باوجود آخر کیسے اٹھارہ سال تک دونوں ممالک کے عوام سرحدوں کے آرپار آیا جایا کرتے تھے۔ حسین شہید سہروردی نے دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے یہ کس کو اور کیوں کہا تھا کہ آپ لوگ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو استعمال کر کے خود اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ یہاں ہمیشہ یا تو اسلام خطرے میں ہے یا پاکستان خطرے میں ہے کا نعرہ لگتا رہے گا۔

کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم آخر کار طے کر لیں کہ جنگ سے جڑے تمام معاملات فوج اور صرف فوج پر چھوڑ دیے جائیں اور امن و خوشحالی کے راستوں پر چلنے کی تیاری تعلیم کے ہتھیار سے کی جائے۔ اگر یہ تبدیلی آ گئی تو عمران خان، لمحوں یا دنوں کے نہیں تاریخ کے عظیم انسانوں میں شمار ہوں گے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2