پاکستان کا مزدور طبقہ


میرا بچپن لائلپور کی کوہ نور کالونی میں گزرا۔ میرا خیال ہے اس وقت کوہ نور ٹیکسٹائل مل پاکستان کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل ملز میں سے ایک تھی اور ہزاروں مزدوروں کا روزگار اس سے وابستہ تھا جو مختلف شفٹوں میں کام کرتے تھے۔ جب شفٹ چھٹتی تھی تو میں دوڑ کر چھت پر جاتی تھی اور مزدوروں کو باہر نکلتا دیکھتی تھی۔ ہمارے گھر کی عقبی سڑک پر سر ہی سر نظر آتے تھے اور مجھے یہ منظر بہت FASCINATE کرتا تھا۔ بچپن میں ہی ٹریڈ یونین لیڈرز کا ذکر سنا۔ صبیحہ شکیل کا نام یاد رہ گیا ہے، ایک صاحب بھی تھے جو بہت مشہور تھے لیکن اب نام یاد نہیں آ رہا۔

ساٹھ اور ستر کے عشروں میں بائیں بازو کی سیاست کی بدولت ٹریڈ یونین تحریک اپنے عروج پر تھی۔ ویسے تو پاکستان کے بانی محمد علی جناح بھی ٹریڈ یونین لیڈر تھے اور 1925 ء میں آل انڈیا پوسٹل اسٹاف یونین کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد جب کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگی تو بائیں بازو کے دانشوورں اور کارکنوں نے ٹریڈ یونین کے پلیٹ فارم سے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ یونینیں سرگرم تھیں۔ جب پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں آیاتو ان میں سے بہت سے پیپلز پارٹی میں چلے گئے۔

ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں مزدوروں کی تعداد تریسٹھ اعشاریہ چونتیس ملین ہے۔ پاکستان کی لیبر فورس دنیا کی دسویں بڑی لیبر فورس ہے اور یہاں فیڈریشنز اور کنفیڈریشنز کے علاوہ 945 ٹریڈ یونینز کام کر رہی ہیں۔ ان کی مجموعی ممبر شپ ایک اعشاریہ آٹھ ملین ہے مگر مجموعی طور پر صرف تین فی صد افرادی قوت یونینوں کا حصہ ہے۔ بقول منصور رضا ٹریڈ یونینز بستر مرگ پر ہیں۔ شاید ایسے ہی اک دن چپ چاپ مر جائیں اور تب کوئی ماتم کرنے والا بھی نہیں ہو گا۔ ایک زمانہ تھا ٹریڈ یونینیں کتنی طاقتور ہوا کرتی تھیں لیکن جب کنٹریکٹ سسٹم شروع ہوا تو وہ اس کو روکنے کے لئے کچھ بھی نہ کر پائیں۔ بات یہ نہیں ہے کہ اب مزدوروں کو ٹریڈ یونین کی ضرورت نہیں رہی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب ٹریڈ یونینیں لڑنے اور مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھی ہیں۔

سرمایہ داروں اور فیکٹری مالکان نے کنٹریکٹ سسٹم ٹریڈ یونین تحریک کو ختم کرنے کے لئے ہی ایجاد کیا۔ اب محنت کش اکٹھے ہو کر احتجاج نہیں کر سکتے۔ پکی نوکری کا تصور بھی ختم ہو گیا ہے۔ اب تو یہی فکر رہتی ہے کہ اگلے دن دیہاڑی لگے گی یا نہیں۔ قانون بھی مزدوروں کی مدد نہیں کرتا اور 2012 کا انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ تو یونین بنانے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ اگر قوانین میں مزدوروں کے فائدے کی کچھ چیزیں موجود بھی ہیں تو انہیں اس کا علم نہیں۔

پاکستان میں روایتی ٹریڈ یونین ختم ہو چکی ہے۔ نوکری کے بارے میں عدم تحفظ رہتا ہے۔ کنٹریکٹ مختصر مدت کا ہوتا ہے۔ فیکٹری کے باہر بے روزگاروں کی لمبی قطار لگی ہوتی ہے۔ ایک کو نکالو، دوسرا اس کی جگہ لینے کے لئے موجود ہے۔ عارضی اور ٹھیکے پر کام کرنے والے مزدور یونین کیسے بنائیں گے؟ عملی طور پر صرف مستقل ملازمین ہی یونین بنا سکتے ہیں لیکن اس کے لئے بھی بہت پیپر ورک کرنا پڑتا ہے۔

اگر انسانی حقوق کے کمیشن کی رپورٹیں دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ صنعتی حادثوں کے نتیجے میں کتنے مزدور مرتے یا زخمی ہوتے ہیں۔ بے روزگاری کے معاملے میں ہم 77ویں نمبر پر ہیں۔ زراعت سے ترتالیس اعشاریہ سات فی صد، صنعت میں بائیس اعشاریہ چار فی صد اور سروسز میں تینتیس اعشاریہ نو فی صد افرادی قوت وابستہ ہے مگر ہمارے ہاں لیبر انسپکشن نہیں ہوتا۔

اگر پاکستان کی مزدور تحریک کا جائزہ لیں تو مزدوروں نے 1963ء میں منگھو پیر کراچی میں گولیاں کھائیں۔ 1967ء میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مزدوروں نے ہڑتالیں کیں۔ اسی دور میں کراچی کے علاوہ لاہور اور ملتان میں بھی ہڑتالیں ہوئیں۔ 1967ء میں لاہور میں ریلوے ورکرز نے ہڑتال کی تھی۔ 1972ء میں بھٹو کے دور میں سائیٹ یعنی کراچی کے صنعتی علاقے میں مزدوروں پر گولیاں چلیں۔ اس سال مذاکرات میں ناکامی کے بعد مزدوروں نے ایک مل پر قبضہ کر لیا اور نتیجے میں پولیس کی گولیاں کھائیں۔ فیکڑی انتظامیہ نے یونین کے وجود کو ہمیشہ اپنے لئے چیلنج سمجھا۔

مزدوروں کے حقوق کے لئے عالمی ادارہء محنت نے بہت کام کیا ہے۔ مزدور تحریک کے حوالے سے حالیہ ادوار میں بھٹہ مزدوروں کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تحریک قابل ذکر ہے۔ پاکستان کے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے تحت ایک لاکھ خواتین کو دیہی علاقوں میں طبی خدمات فراہم کرنے کی تربیت دی گئی۔ یوں ایک قابل ذکر سماجی تبدیلی رونما ہوئی اور بعد میں انہوں نے اپنے حقوق کے لئے بھی جدوجہد کی۔ پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے دوران انہوں نے اپنی جانیں گنوائیں، مذہبی بنیادوں پر انہیں دھمکیاں دی گئیں لیکن انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ 2012ء میں ہزاروں لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنے حقوق کے حصول کے لئے احتجاجی مہم شروع کی اور آج وہ اپنے بہت سے مطالبات منوانے میں کامیاب ہو چکی ہیں لیکن اس طبقاتی نظام اور مردانہ حاکمیت والے معاشرے میں انہیں آج بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔

Facebook Comments HS