جا نندن جا! جی لے اپنی زندگی


بھارت کا جنگی جنون کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ خطے میں کشیدگی کی یہ سب سے بڑی وجہ ہے۔ موجودہ کشیدگی جو پلوامہ واقعہ سے شروع ہوئی تھی روز بروز بڑھتی چلی گئی۔ بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر کے اسے عروج پر پہنچا دیا۔ مودی سرکار نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہوئے سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا۔ بھارتی طیارے رات کے اندھیرے میں پاکستانی سرحد پار کر کے اندر تک آئے لیکن شاہینوں کے جوابی وار کے ڈر سے ویرانے میں بم پھینک کرعجلت میں واپس چلے گئے۔

نتیجے کے طور پر چند درخت بری طرح تباہ ہو گئے۔ پاکستان نے ان درختوں کا بدلہ اس طرح لیا کہ اگلے دن جب بھارت کے دو طیارے پاکستانی سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے نہ صرف انہیں مار گرایا بلکہ ان کے پائلٹ ابھی نندن کو بھی زندہ گرفتار کر لیا۔ دونوں ملکوں میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی۔ مگر ایسے میں وزیرِ اعظم عمران خان نے امن کا پیغام دیا اور امن کی علامت کے طور پر فوری طور پر نندن کو رہا کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔

اگرچہ بظاہر یہ فیصلہ عجلت میں کیا گیا لگتا تھا لیکن اس سے کم از کم یہ بات ضرور ثابت ہو گئی کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے۔ عالمی برادری کو واضح طور یہ پیغام مل گیا ہے کہ پاکستان امن کے فروغ میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ جبکہ بھارتی سورماؤں اورعوام کو ہزیمت کا سامنا ہے۔ بھارتی وزیرِاعظم کے عزائم اور ناتمام خواہشیں طشت از بام ہو گئیں ہیں۔

انہوں نے دعوے تو بہت کیے تھے لیکن ان میں سچائی نہ تھی۔ اب ان کے عوام کو بھی سمجھ آ رہی ہے کہ یہ ڈراما محض الیکشن جیتنے کے لئے رچایا گیا تھا۔ اپنے ہی فوجیوں کی لاشوں پر سیاست کر کے انہوں نے کردار کی پستی کو عیاں کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ دوسری طرف پاکستان کے پر امن کردار پر ہر پاکستانی کا دل خوشی سے معمور ہے۔

پاکستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک امن پسند ملک ہے جبکہ بھارت امن دشمن ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وزیر اعظم کا یہ بیان بھی قابلِ تعریف ہے کہ ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اگر بھارت جارحیت پر آمادہ ہو تو ہم اسے بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عمران خان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت گرفتار پائلٹ کو رہا کرنے کا جو فیصلہ کیا اس پر پوری دنیا میں پاکستان کے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے۔ اب ایسا لگ رہا کہ یہ آگ ٹھنڈی ہو گی، کشیدگی میں واضح کمی آئے گی۔ جنگ کسی طور بھی گوارا نہیں کی جا سکتی کیونکہ کہتے ہیں کہ جنگ میں کوئی فریق نہیں جیتتا سب ہارتے ہیں۔ جنگ ہمیشہ تباہی لاتی ہے۔ موجودہ دور میں تو جنگ اتنی خوفناک تباہی لا سکتی ہے کہ جس کے اثرات صدیوں تک رہیں گے۔

اس حملے سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کی امن کی خواہش اپنی جگہ لیکن مضبوط دفاع وطن کی بقا اور سلامتی کے لئے ازحد ضروری ہے۔ امن کے زمانے میں بھی جنگ کی مکمل تیاری ہونی چاہیے۔ جس قدر ملک کا دفاع مضبوط ہوگا اسی قدر امن قائم رہے گا۔ کمزور ملکوں پر طاقتور ملک چڑھائی کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ اسی طرح مضبوط دفاع کے لئے ملک کی مضبوط معیشت بھی ضروری ہے۔ اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

بہ ہر حال گرفتار پائلٹ ابھی نندن کی رہائی سے بہت سے معاملات سنور جائیں گے۔ دونوں ممالک کی طرف سے جو جنگ کے بگل سنائی دے رہے تھے ان کی جگہ امن اور چین کی بانسری بجے گی۔ بھارت جو جنگی جنون میں سب کچھ داؤ پر لگانے کے لئے تیار نظر آتا تھا نندن کی واپسی سے اس کا فوکس بھی بدل جائے گا۔ چناں چہ اس پائلٹ کی واپسی سے کروڑوں لوگوں کی زندگی کو لاحق خطرات معدوم ہوتے چلے جائیں گے۔

اس تناظر میں یہ فیصلہ بہت عمدہ دکھائی دیتا ہے۔ ہمیں اس فیصلے کو سراہنا چاہیے اور وزیرِ اعظم کی آواز سے آواز ملا کر کہنا چاہیے کہ ’جا نندن جا! جی لے اپنی زندگی‘ ۔

Facebook Comments HS