ہائے مزے مزے۔ ۔ ۔


کچھ روز پہلے پاکستان حدود میں دراندازی کرنے والا بھارتی طیارہ مار گرایا، پائلٹ کی عوامی چھترول کے بعد اسے فوجی حراست میں لے لیا گیا۔ ایک ایک لمحے کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں۔ فوج اور حکومت کے طرف سے اعلان کیا گیا کہ ایک پائلٹ زندہ گرفتار کیا گیا جس نے بہتیری بھاگنے کی کوشش کی لیکن پکڑا گیا اور پاکستانی مہمان نوازی کے مزے لوٹ رہا ہے۔

اس پائلٹ کی تصاویر اور ویڈیوز کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اسے نا صرف گن پوائنٹ پر چائے پلائی گئی بلکہ چائے اور پاکستانی مہمان نوازی کی تعریف پہ مجبور بھی کیا گیا۔ پھر مزید لطف کے لیے چائے کے سڑکے بھی لگوائے گئے تاکہ اسے اور اس کے ملک اور اس کی آرمی ٹریننگ کو زیادہ سے زیادہ مذاق کا نشانہ بنایا جا سکے۔ بعد میں طے پایا کہ مہمان پائلٹ کو واپس جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر ہینڈسم وزیراعظم کا یہ تسلیم کرنا کہ انہیں یہ معلوم ہے کہ بھارت نے پاکستان پر میزائل داغنے کی تیاری کر رکھی تھی لیکن بعد میں یہ پروگرام کینسل کر دیا گیا۔ کیا یہ پروگرام دراندازی کرنے والا طیارہ گرانے کے بعد کینسل کیا گیا یا بنا ہی بعد میں تھا اور ساتھ ہی ہینڈسم کو اطلاع بھی کر دی گئی تھی کہ ہمارا سورما پائلٹ ہمیں واپس کر دو ورنہ آیا میزائل!

اور ان کی اس دھمکی سے ڈر کر پاکستان آرمی اور ہینڈسم نے پائلٹ کو واپس کرنے کا مصلحت پسندانہ فیصلہ کیا!

دوسری طرف طیارہ گرائے جانے کے دن سے آج تک دو پائلٹ گرفتار کیے جانے کی بات ہو رہی ہے لیکن دوسرے پائلٹ کا چہرہ اب تک نہیں کرایا گیا۔ یہ عجیب الجھن میں ڈالنے والی بات ہے کہ اگر دوسرا پائلٹ بھی گرفتار کیا گیا اور وہ زیر علاج ہے تو اس کی فوٹیج کیوں اب تک سامنے نہیں آئی؟ اگر اس کی حالت تشویشناک بھی ہے یا وہ بے ہوش ہے تو یہ زیادہ بڑا موقع تھا یہ دکھانے کا کہ ہم نہ صرف اچھے مہماندار ہیں بلکہ اچھے تیماردار بھی ہیں کہ انسانیت کے ناطے بے ہوش پڑے پائلٹ کی تندہی سے خدمت کر رہے ہیں اور اس کا علاج بھی اچھے طریقے سے ہو رہا ہے۔ ایک ہوش مند فوجی کو ڈرا کر اس سے مہمان نوازی کی گواہی لینے سے اچھا ہوتا کہ ہم ایک بے ہوش فوجی کو اچھی طرح ٹریٹ کرتے ہوئے دنیا کے سامنے آتے۔ کیونکہ چائے پینے والے کے چہرے پہ چائے پیتے ہوئے جیسی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں اس سے کوئی بھی اس کی حالت کا اندازہ آسانی سے کر سکتا ہے اور یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے کہ اگر دو پائلٹ تھے تو بھارت کی طرف سے بھی ایک ہی پائلٹ کو واپس کیوں مانگا جا رہا ہے؟

اس کے علاوہ ایک مضحکہ خیز بات یہ بھی ہے کہ چائے پیتے پائلٹ کی جو حالت تھی، اسے اگلے دن جب بھارت کو واپس کیا جا رہا تھا تب اس کا حال یکسر مختلف تھا۔

اس کی سوجی ہوئی آنکھ اور ٹیڑھے ہوئے نقشے کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ رات کے کسی پہر ہماری فوج کے کسی جانباز سپاہی کی غیرت ایمانی جاگی ہے اور اس نے جذبات سے مغلوب ہو کر پائلٹ کی خوب مرمت کی ہے۔

دوسری طرف بھارتی میڈیا کا کردار بے حد مخولیا ہے کہ جس پر ترس کھا کر جب کوئی اس پر ذرا سا احسان کر دیتا ہے یا اس کی کوئی بات مان لیتا ہے تو وہ باہر جا کر اپنا چموٹا اپنے ساتھی کو مار مار کر لوگوں کو بتاتا ہے کہ فلاں نے اس سے ڈر کر یا اس کے دباؤ میں آ کر کام کر دیا لیکن سننے والوں کو پتہ ہوتا ہے کہ بتانے والا کتنا پھنے خاں ہے کہ کوئی اس کی بات سنے گا یا اس سے ڈرے گا۔

عجیب صورتحال ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ سارا پہلے سے لکھا ہوا ڈرامہ تھا جس کے رائٹرز اور ڈائریکٹرز کا پکا پتہ لگانا تو مشکل ہے البتہ قیاس آرائی باآسانی کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ یہ تو ایک واضح حقیقت ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک دوسرے ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک سے جنگ کا سوچ بھی نہیں سکتا بھلے ہی ان ممالک کے رہنما ہینڈسم اور مودی جیسے بھولے ہی کیوں نہ ہوں۔

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ ہینڈسم پرچی تقریر نہیں کرتا اور اکثر وہ ایسی باتیں کہہ جاتا ہے جو یا تو کہنے کی نہیں ہوتی یا اگر کہی بھی جائیں تو ان کا صرف مذاق اڑایا جا سکتا ہے جو کہ ہر دو چار دن کے بعد کسی نہ کسی بات پہ اڑایا جا رہا ہوتا ہے اور بعد میں یہ محترم بھی بھولے کی طرح نہ سہی اپنے انداز میں یہی کہتے پائے جاتے ہیں کہ منہ کا کیا ہے۔ منہ تو اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے۔ منہ سے تو کچھ بھی نکل جاتا ہے اور عوام ان کی بات پر ہنس کر کہتے ہیں ہائے مزے مزے۔

اس سارے معاملے میں بھی میزائل داغنے کی تیاری اور پھر اس پروگرام کو کینسل کیے جانے والی بات کر کے ہینڈسم نے بیوقوفی کر دی لیکن یہ بیوقوفی اس لیے زیادہ نوٹس نہیں کی گئی کہ عوام سوشل میڈیا پہ جنگ جنگ کھیلنے میں مصروف ہیں۔

Facebook Comments HS