گورنمنٹ کالج لاہور کی تاریخ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اپنی روایات کے باعث منفرد پہچان رکھتا ہے۔ کالج کی مرکزی عمارت کے سامنے اوول گراؤنڈ، مغربی طرف ایمفی تھیٹر اور علامہ اقبال ہاسٹل کی خوبصورتی انتہائی جاذب نظر ہے۔ یہاں کے ”لو گارڈن“ کے ساتھ بے شمار داستانیں وابستہ ہیں جس کا تذکرہ بانو قدسیہ کے ناولز میں بھی ملتا ہے۔ وکٹورین طرز کی اس عمارت کو گھنے درختوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کالج کی یہ عمارت 1874 ء میں مکمل ہوئی تھی جہاں سر گنگا رام اور کنہیا لال جیسے نامور انجینئرز نے تعلیم حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج میں پڑھنا اور راوین کہلانا آج بھی فخر سمجھا جاتا ہے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا قیام انگریز عہد میں اندرون شہر میں واقع سکھ دور کی تاریخی حویلی دھیان سنگھ خوشحال سنگھ میں عمل میں آیا تھا۔ 1856 ءمیں لاہور کے سینڑل کالج کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ کالج کے اساتذہ آکسفورڈ، کیمبرج، ڈبلن یا ڈرہم سے تعلیم یافتہ ہونے چاہیے۔ بالآخر یکم جنوری 1864 ءکو حویلی کے دروازے باقاعدہ طور کالج کے لئے کھول دیے گئے اور کالج نے باضابطہ طور پر اپنے کام کا آغاز کر دیا۔ گورنمنٹ کالج کے پہلے پرنسپل ڈاکٹر جی ڈبلیو لیٹنر تھے، جو کنگز کالج لندن میں عربی اور اسلامی قانون کے استاد تھے اور انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

گورنمنٹ کالج کا الحاق یونیورسٹی آف کلکتہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ کالج کی پہلی کلاس میں کل نو طالب تھے۔ سر گنگا رام نے بھی اسی دور میں کالج سے تعلیم حاصل کی تھی۔ اپریل 1871 ءمیں کالج کی عمارت کو انارکلی کے قریب ایک بنگلہ میں منقل کر دیا گیا۔ 1873 ءمیں ایک بار پھر کالج منتقل ہوا اور رحیم خان کی کوٹھی میں کلاسیں ہونے لگیں۔ اور بعدازاں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی موجودہ عمارت کی تعمیر کے بعد یہاں منتقل ہوگیا۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی عمارت کا سب سے دلکش پہلو اس کی دو مینار ہیں۔ جن میں سے ایک چھوٹا اور ایک بڑا ہے۔ بڑے ٹاور کے اوپر کلاک نصب ہے۔ انگریز دور کی عمارتوں میں متعدد عمارتوں کی تعمیر کے وقت کلاک نصب کرنے کا رواج بھی پروان چڑھا۔ کنہیا لال ہندی کے مطابق بڑے مینار کی بنیاد کرسی تک پندرہ فٹ ہے اور بلندی 176 فٹ ہے۔ اس مینار کی چار منزلیں ہیں۔ چوتھی منزل لے اوپر گنبد طولانی نہایت خوبصورت بنا ہوا ہے اور گنبد پر جست کی چادریں نصب ہیں جس سے گنبد سے گنبد کی خوبصورتی قائم ہے۔

بالائی سیخ پر پر سمت کا تعین کے لئے چار حروف درج تھے اور ہوا کا رخ معلوم کرنے کے لئے پنکھا بھی نصب تھا، اسی مینار کی چہارم منزل کے اندر ایک کلاک نصب ہے۔ اس دور میں اس آواز دور دور سنائی دیتی تھی۔ کنہیا لال کے مطابق دوسرے مینار کی بلندی 128 فٹ ہے اور یہ تین منزلوں پر مشتمل ہے۔ تیسری منزل کے اوپر مخروطی طولانی گنبد بناہے۔ تیسری منزل کے چاروں طرف محرابی در کھلے ہوئے ہیں۔ ہر ایک دہن کے ستون اور دوریاں ِ سیاہ پتھر کی اور جست کی تختی گنبد کے اوپر لگی ہوئی ہے اور بالائی سیخ میں ایک دائرہ سنہری شرق و غرب بتانے کے لئے نصب ہے۔ ہال اور کمروں کی بالائی قینچیوں کے اوپر زنجیرہ آہنہ ایسا خوبصورت نصب ہوا ہے جس سے مکان کی شان و شوکت دوبالا نظر آتی ہے۔ ان کے علاوہ کمروں کے تین روشندان چوبی بشتی مخروطی شکل کے ایسے لگائے گئے ہیں جس سے تازہ ہوا بھی کمرے کے اندر جاتی ہے اور روشنی بھی ہوتی ہے۔

کالج و یونیورسٹی کا سب سے قدیم اور شاندار حصہ ”مین بلڈنگ“ کہلاتا ہے۔ کسی بھی تعلمی ادارے کی مرکزی عمارت وہاں کے طالب علموں کے لئے خاص اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اس سے طالب علموں کی اس درسگاہ سے نسبت اور فخر کا عنصر بھی پیدا ہوتا ہے۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی مرکزی عمارت گوتھک اندازِ تعمیر کا نمونہ ہے۔ کشادہ صحن اور بلند و بالا چھتیں اپنی مثال آپ ہیں جو نیو گوتھک فن تعمیر کا دلکش منظر پیش کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی عمارت کی تعمیر کے وقت لان کے لئے بھی جگہ مختص کی گئی۔ طالب علموں کے لئے ”اوول گراؤنڈ“ کے نام سے بیضوی شکل میں تیار کیا گیا میدان طلبا و طالبات کو بیٹھے، چہل قدمی کرنے اور مطالعہ کرنے کے لئے وسیع جگہ مہیا کرتا ہے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی مین بلڈنگ کا ”مین ہال“ سب سے نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ مین ہال کو اب ڈاکٹر عبدالسلام ہال کا نام دے دیا گیا ہے۔ کلاک ٹاور کے نیچے واقع یہ ہال فن تعمیر کا شاہکار ہے۔ اس میں داخل ہونے کے دو راستے ہیں۔ ایک اوول گراؤنڈ کے سامنے سے اور ایک مغرب کی جانب سے ہے۔ گورنمنٹ کاکج یونیورٹی کی قدیم عمارت کی کے علاوہ بھی اس درسگاہ کے کئی حصے ہے۔ طلبا و طالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے 1993 ءمیں نیو پوسٹ گریجوایٹ بلاک کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور اس کی تعمیر 1999 ءمیں مکمل ہوئی۔ یہ عمارت بیسمنٹ کے علاوہ چار منزلوں پر مشتمل ہے۔ بیسمنٹ کی جگہ پوسٹ گریجوایٹ لائبریری کے لئے مختص ہے۔

اس درسگاہ میں لائبریری کا قیام 1872 ءمیں عمل میں آیا۔ اس کے پہلے انچارج سرداری لال تھے۔ بعدازاں 1916 ءمیں اسد اللہ خان نے بطور لائبریرین گورنمنٹ کالج جوائن کیا۔ اسد اللہ خان کو انگریز سرکار کی جانب سے ”خان بہادر“ کا خطاب بھی دیا گیا تھا۔ البتہ گورنمنٹ کالج میں باقاعدہ طور پر لائبریری کا قیام 1937 ءمیں آیا، جب لائبریری کے لئے آفس اور کمرہ مختص کیا گیا۔ یہ لائبریری معروف تعلیم دان میاں فضل حسین کے نام سے منسوب ہیں۔

1964 ءمیں لائبریری کو مزید وسعت دی گئی تھی۔ 1999 ءمیں نیو پوسٹ گریجوایٹ بلاک کی تعمیر کے بعد اس میں جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے لائبریری بنائی گئی۔ اس کے علاوہ زوالوجی اور باٹنی کے مضامین کے لئے بھی الگ الگ لائبریوں کا قیام عمل میں آیا۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں لائبریریوں کا کل رقبہ 35000 سکوئر فٹ ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق جی سی یو کی لائبریریوں میں کتابوں کی تعداد تین لاکھ چوراسی ہزار اڑتیس ہے جبکہ دو سو چھتیس جرنلز اس کے علاوہ ہیں۔

گورنمنٹ کالج لاہور جو 2002 ءمیں یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا تھا اور اب یہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کہلاتی ہے۔ اس ادارے میں ایک سو پچاس سالہ تاریخ برصغیر کی کا اہم سرمایہ ہے۔ اس ادارے سے برصغیر کی بے شمار نامور شخصیات بحیثیت طالب علم اور مدرس منسلک رہیں۔

علم و ادب، فن، سائنس، سیاست، کھیل غرض زندگی کے ر تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کا تعلق اسی تاریخی تعلیمی ادارے سے ہے جن میں علامہ اقبال، فیض احمد فیض، پطرس بخاری، ناصر کاظمی، ساحر لدھیانوی، ڈاکٹر سمر مبارک مند، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ائرچیف مارشل مصحف علی میر، نواز شریف، میر ظفر اللہ جمالی، یوسف رضا گیلانی، سابق بھارتی وزیراعظم اندر کمار گجرال، کرکٹر رمیز راجہ، ٹینس سٹار اعصام الحق سمیت دیگر بے شمار نامور شخصیات شامل ہیں۔ جی سی یونیورسٹی لاہور دو نوبل انعام یافتہ شخصیات ڈاکٹر ہرگوبند کھرانہ اور ڈاکٹر عبدالسلام کی مادر علمی ہے۔ معروف بھارتی اداکار بلراج ساہنی اور دیوآنند بھی اسی تعلیمی ادارے سے منسلک رہے تھے۔ علاوہ ازیں پاکستان کے پانچ وزاءعظم کا تعلق بھی اسی ادارے سے ہے۔

گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں ادب، پرفارمنگ آرٹس، اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے شعبہ جات پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں سے حوالے سے یہاں 28 سوسائٹیز قائم ہیں۔ جن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریبات میں طلبا کو اپنے فن کے اظہار کا موقع ملتا ہے۔ جن میں میوزک سوسائٹی، ڈرامہ سوسائٹیِ ڈیبیٹنگ اور ادبی سوسائٹی قابل ذکر ہیں۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی شاندار عمارت کے ساتھ ساتھ اپنے تعلمی ورثے اور تاریخی اہمیت کے حوالے سے برصغیر کی اہم ترین درس گاہوں میں شمار کی جاتی ہے۔ یہ ناصرف ایک تاریخی اہمیت کی حامل عمارت ہے بلکہ یہاں سے فارغ التحصیل طلبا و طالبات نے بھی ملک کا نام دنیا بھر میں روشن کیا ہے۔ بلاشبہ گورنمنٹ کالج لاہور کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •