عمران خان امن کا پیامبر


پاک ہندوستان کی حالیہ کشیدگی میں عمران خان امن کا پیامبر بن کر سامنے آئے مقام شُکر ہے کہ انھیں کسی نے غدار نہیں کہا ورنہ یہاں جو بھی امن کی بات کرتا ہے وہ غدار کہلاتا ہے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ممکن ہوا کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے فوجی و سیاسی قیادت نہ صرف ایک صفحے پر تھی بلکہ ایک لکیر پر تھی۔ ہمارا ماضی ہندوستان کے ساتھ روابط کے حوالے سے اچھا نہیں جس بھی سویلین حکومت نے ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بات کی وہ غدار کہلایا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو نے کوشش کی کہ ہندوستان کے ساتھ مدبھیڑ سے بچا جائے اور اُنھیں مذاکرات کی میز پر لایا جائے وہ سیکیورٹی رسک قرار پائی۔ بات یہاں ہی نہیں رکی میاں نواز شریف کی کوششوں سے واجپائی لاہور آئے۔ واجپائی نے مینار پاکستان کے سائے تلے پاکستان کے وجود کو تسلیم کیا۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل مشرف نے واجپائی کو سیلوٹ کرنے سے انکار کر دیا بلکہ انھوں نے مذہبی جماعتوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ جماعت اسلامی کو مقتدر حلقوں کی آشیر آباد حاصل تھی جس کی وجہ سے جماعت کے امیر مرحوم قاضی حسین احمد نے واجپائی کی آمد سے پہلے اعلان کیا کہ پاکستان آمد پر انھیں جوتوں کا ہار ڈالا جائے گا۔

ہار تو وہ نہ ڈال سکے مگر لاہور میں مریل سا احتجاج کرنے میں کامیاب رہے۔ جماعت اسلامی ہمیشہ مارشل لاء کی حمایتی رہی۔ راؤ رشید اپنی کتاب ”جو میں نے دیکھا“ میں لکھتے ہیں کہ جنرل یحییٰ جب اقتدار میں تھے تو مولانا طفیل محمد امیر جماعت اسلامی تھے وہ جنرل یحییٰ کی کاسہ لیسی کرتے اور کہتے کہ اللہ نے یحییٰ کی صورت میں فرشتہ صفت انسان دیا جو ملک کو اسلامی آئین دے گا۔ کالم کے درمیان صالحین کے کردار کی بات آ گئی اب کی بار صالحین نے منفی کردار ادا نہیں کیا۔

تاریخ ہوتی ہے چار جون انیس صد ننانوے۔ میاں نواز شریف وزیراعظم ہوتے ہیں۔ کارگل کا محاذ گرم ہوتا ہے محاذ جنگ سے پاکستان ہندوستان کے ایک پائلٹ گرفتار کرتا ہے اُسے چار جون کو ریڈ کریسنٹ کے توسط سے ہندوستان کے حوالے کرتا ہے۔ پاکستان میں ہاہا کار مچ جاتی ہے کہ نواز شریف غدار ہے۔ پاکستانی تاریخ میں جتنے ٹھپے نواز شریف پر غداری کے لگے شاید کسی اور پر اتنے لگے ہو۔ں نواز شریف امن کی بات کرتا تو غدار کہلاتا وہ غربت دور کرنے کی بات کرتا تو غدار ڈکلیر کر دیا جاتا نواز شریف دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی بات کرتا تو کہا جاتا کہ نواز شریف کی ہندوستان میں لوہے کے کارخانے ہیں اور اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے یہ تجارت کی بات کر رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ کشمیر ہے اور یہ مسئلہ اُس وقت تک حل نہیں ہو گا جب تک ہندوستان پاکستان مذاکرات کی میز پر نہیں آتے۔ اس مسئلے میں کشمیر فریق اول ہیں۔ مجھ سے جو پوچھا جاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر ہے کیا؟ تو میرا سیدھا سادا سا جواب ہوتا ہے کہ ”مسئلہ کشمیر اُس تندور کی مانند ہے جس میں بہت سوں کی روزی روٹی لگی ہوئی ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ یہ تندور بند ہو جائے اگر یہ بند ہو گیا تو اس تندور سے اُن کی روزی روٹی بند ہو جائے گی“ مسئلہ کشمیر کا حل فوجی نہیں بلکہ سیاسی ہے ”جس دن دونوں اطراف کی فوجیں اس مسئلے میں لُچ تلنا چھوڑ دیں گی یہ مسئلہ حل ہو جائے گا“ دنیا کی تاریخ اُٹھا کر دیکھیں جتنے بھی بڑے مسائل تھے وہ سیاسی سفارت کاری کی وجہ سے حل ہوئے

سنہ 1960 ء کی دھائی میں ویت نام کی منظم گوریلا تحریک کی پشت پر بھی ایک جدید سیاسی پارٹی موجود تھی، جس نے بھرپور طریقے سے ساری دنیا میں سفارت کاری کے ذریعے ویت نام کی تحریک کو بین الاقوامی فورمز پر اُٹھایا۔ جس کی وجہ سے ساری دنیا نے حملہ آور قوتوں کے خلاف مظاہرے کیے حتیٰ کہ امریکی عوام نے بھی شاندار مظاہروں اور مطالبوں کے ذریعے امریکی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور 1973 ء میں ویت نام اور ہند چینی سے امریکی افواج نکل گئی۔ جنوبی افریقہ کی تحریک ابتدا میں گوریلا جنگ سے شروع ہوئی، بعد ازاں نیلسن منڈیلا کی قیادت میں افریقن نیشنل کانگریس جیسے افریقی عوام کی مقبول پارٹی نے جنوبی افریقہ کی نسل پرست قبضہ گیر کو بے نقاب کرنے کے لئے دنیا بھر میں اپنے دفاتر قائم کیے۔

جو سفارت کاری بنیادوں پر استوار تھے۔ نیلسن منڈیلا کی طویل قید کو بنیاد بناکر افریقن نیشنل کانگریس سے ساری دنیا کے پارلیمنٹیرین سے ملاقاتیں کی۔ اقوام متحدہ کو یاداشت اور خطوط بیجھے۔ حتیٰ کہ کلچرل پروگراموں کے ذریعے موسیقی کے کنسرٹ پیش کیے۔ دستاویزی اور فیچر فلمیں بنائی گئیں، اخبارات و جرائد کا اجرا کیا۔ ایسا اُسی صورت ممکن ہے جب پاکستان کی خارجہ پالیسی آہنی ہاتھوں سے مکمل آزاد ہو۔

Facebook Comments HS

بشارت راجہ

بشارت راجہ شہر اقتدار سے پچھلی ایک دہائی سے مختلف اداروں کے ساتھ بطور رپورٹر عدلیہ اور پارلیمنٹ کور کر رہے ہیں۔ یوں تو بشارت راجہ ایم فل سکالر ہیں مگر ان کا ماننا ہے کہ علم وسعت مطالعہ سے آتا ہے۔ صاحب مطالعہ کی تحریر تیغ آبدار کے جوہر دکھاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وسعت مطالعہ کے بغیر نہ لکھنے میں نکھار آتا ہے اور نہ بولنے میں سنوار اس لیے کتابیں پڑھنے کا جنون ہے۔

bisharat-siddiqui has 157 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui