میڈیا، جنگ اور امن کا ایجنڈا
دنیا بھر میں عوامی رائے عامہ اور طاقت ور فریقین یا فیصلہ ساز اداروں یا افراد میں میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ پرنٹ، الیکٹرانک یا سوشل میڈیا کی نئی طاقت ہو سب ہی اپنی اپنی سطح پر اہمیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ جب یہ دلیل دی جاتی ہے کہ میڈیا محض معلومات کا پھیلاؤ ہی نہیں کرتا بلکہ لوگوں میں تعلیم اور سیاسی و سماجی شعور کو اجاگر کرنے میں بھی اس کا کلیدی کردار ہے تو اس کی اہمیت و افادیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
میڈیا بنیادی طورپر شواہد، تحقیق اور تبصرہ وتجزیاتی بنیاد پر لوگوں کے سامنے ایک ایسے سچ کو سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے جو مجموعی طور پر ملک میں مثبت تبدیلیوں اور حالات و واقعات کو درست سمت میں سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ریاست سے ہٹ کر دنیا بھر میں نجی شعبہ کی سطح پر میڈیا کے پھیلاؤ کے بعد اب زیادہ شدت کے ساتھ میڈیا مجموعی سیاست، سماجیات اور معیشت سمیت اخلاقی تناظر میں اثر انداز ہوتا ہے اور اس کردار کی نفی کرکے آگے بڑھنا ممکن نظر نہیں آتا۔
ایک ایسا میڈیا جو مجموعی طو رپر منافع یا کارپوریٹ کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہو تو اس میں ذمہ داری کی بحث اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ میڈیا اگر مسائل کے حل میں الجھاؤ یا بگاڑ پیدا کرنے کا حصہ دار بن جائے تو اس سے قومی مسائل اور زیادہ خرابی کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے میڈیا کا کام مسائل کی درست نشاندہی اور اس کی بنیا دپر مسائل کے حل کی طرف پیش قدمی ہوتا ہے۔ لیکن جب میڈیا ریٹنگ کی سیاست کا شکار ہوکر محض محاز آرائی پیدا کرنے اور اپنی مقبولیت کو بڑھانے کے لیے سچ اور جھوٹ کے درمیان سچ کی تمیز کھو دے تو مسائل کی نوعیت اور زیادہ پیچیدہ ہوجاتی ہے۔
حالیہ دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جو بڑا تناؤ اور جنگ وجدل کا منظرنامہ ابھرا اس میں میڈیا بھی خود ایک بڑا فریق بنا ہے اور اس کے کردار پر زیادہ سنجیدگی کے ساتھ بحث و مباحثہ کی ضرورت ہے۔ حالیہ پاکستان اور بھار ت کا بحران میں شدت پیدا کرنے میں بھارتی میڈیا نے جو کچھ کیا اس پر بھارت کے سنجیدہ حلقوں سمیت عالمی دنیا میں بھی شدید تنقید ہورہی ہے۔ ایک طرف بھارت میں موجو د انتہا پسند سیاست اور بی جے پی کا ہندواتہ کی بنیاد پر سیاسی فکر کو پھیلانا اور دوسری طرف میڈیا کو ہتھیار بنا کر اس انتہا پسندی، مسلم دشمنی، پاکستان دشمنی کو ایک بڑے ایجنڈے کے طور پر استعمال کرنے کے عمل نے پہلے سے موجود کشیدگی میں اور زیادہ نفرت اور جنگ کا ماحول پیدا کیا۔ بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ بھار ت کا میڈیا حکومت اور عوام سے زیادہ جنگ کا میدان سجانا چاہتا ہے۔
بھارت میں بالخصوص الیکٹرانک میڈیا سے جڑے اینکرز، تجزیہ کار، صحافی رپورٹر سب ہی مودی کی انتہا پسندی پر مبنی سیاست کا شکار ہوکر نفرت کی سیاست کے پھیلاؤ کے ذمہ دار بنے ہیں۔ ان کا یہ عمل شعوری طور پر تھا یا لاشعوری لیکن اس طرز عمل نے ان تمام قوتوں یا فریقین کو مایوس کیا جو پاکستان اور بھارت کے درمیان مضبوط جمہوریت، امن، ترقی، خوشحالی اور سماجی انصاف کو دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ اگرچہ ہم بھی پاکستان کے میڈیا کے مختلف پہلووں پر سخت تنقید کرتے ہیں اور ان کا بہت سا عمل تنقید کے زمرے میں آتا ہے۔
لیکن اس جنگ ماحول میں پاکستان کا مجموعی میڈیا کا کردار کافی مثبت رہا۔ بھارت کے میڈیا کی اشتعال انگیزی کے باوجود ہمارے میڈیا نے پہلے سے بھڑکی یا شدت پسندی پر مبنی آگ کو بڑھانے کی بجائے اس کو کم کرنے اور بار بار ریاستی و حکومتی موقف کو دہرایا کہ ہم امن پسند لوگ ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمارے معاملات بات چیت یا مذاکر ات سے حل ہوں۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جو کچھ بھارت کے میڈیا میں پاکستان دشمنی یا مسلم دشمنی کا ایجنڈا شدت پسندی پر دیکھنے کو ملا اسے پوری طرح بی جے پی، نریندر مودی حکومت سمیت ریاستی مدد حاصل تھی یا ان کا باہمی گٹھ جوڑ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مودی کی کامیابی یا ا س کی تشہیر کی مہم میں میڈیا اس کی پشت پر کھڑا ہے۔ اس کی ایک بڑ ی وجہ مودی کا حمایت یافتہ سرمایہ دار طبقہ ہے جو میڈیا میں بڑی سرمایہ کاری کو بنیاد بنا کر انتہا پسندی کی سیاست کو ایک بڑی طاقت کے طو رپر پیش کررہا ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ مود ی میڈیا گٹھ جو ڑ کو بنیاد بنا کر موجودہ کشیدگی کی سیاست کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ بات محض پاکستان یا عالمی ممالک سے ہی نہیں اٹھ رہی بلکہ خود بھارت سے بھی ایسی اہم آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ مودی
اؤ رمیڈیا خود اس کشیدگی اور جنگی جنون کو پیدا کرنے کے بڑے ذمہ دار ہیں۔ ان کے بقول انتخابات میں مودی کا ایجنڈا پاکستان دشمنی ہے
اؤ رمیڈیا اس ایجنڈے میں مودی کے ساتھ کھڑا ہے۔
پاکستان یا عالمی سطح پر لوگوں کو پچھلے تین ہفتوں میں جو تواتر کے ساتھ بھارت کے ٹی وی ٹاک شوز میں تجزیہ کاروں اور بالخصوص اینکروں کی نفرت پر مبنی سیاست کے مناظر کو دیکھنے کا موقع ملا اس نے سب کو ہی خطرات سے دوچار کیا۔ اس حد تک نفرت، تعصب، دشمنی، انتہا پسندی اور پاکستان کو ایک بڑے خوف کے طو رپر پیش کیا گیا۔ اس کا مقصد یہ ہی تھا کہ پاکستان کو دہشت گرد اور ایک ناکام ریاست کے طو رپر پیش کرکے بھارت میں ہونے والے انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہو کر اپنی مرضی کا نتیجہ حاصل کیا جائے۔
دلیل، منطق، شواہد اور سچ سمیت ذمہ داری کا احساس عملی طو رپر مفلوج ہوا اور اس کی جگہ الزام تراشیوں اور نفرت پر مبنی سیاست نے لے لی۔ حتی تک کہ بھارت کے گرفتار پائلٹ کی رہائی جو خالصتا جذبہ خیر سگالی اور امن کو طاقت دینے کے حوالے سے تھی اس پر بھی نفرت کا کھیل سمجھ سے بالاتر تھا۔ لگتا ایسا ہے کہ یہ کھیل بھارتی میڈیا کا ختم نہیں ہوگا اور کم ازکم انتخابات کی سیاست میں اسی کو غلبہ ہوگا۔
حالانکہ میڈیا کا کام چاہے وہ بھارت کا ہو یا پاکستان کا دونوں کو نفرت، خلیج، ڈیڈلاک، اشتعال انگیزی، جنگی جنون، انتہا پسندی اور دوریوں کی سیاست کو طاقت دینے کے بجائے ان مسائل کے حل میں ریاست، حکومت اور معاشرہ کی مدد کرنی چاہیے۔ دونوں ملکوں کے سامنے کلیدی ایجنڈ ا سیکورٹی یا جنگی ریاست کے مقابلے میں فلاحی اور انسانوں پر سرمایہ کاری کرنے والی ریاست کا ہونا چاہیے اور اسی پر ان کا دباؤ دونوں ریاستوں اور حکومتوں کو مجبور کرے گا کہ وہ امن، ترقی اور خوشحالی کے ایجنڈے کو تقویت دیں۔ دونوں جانب تعلیم، صحت، ماحول، روزگار، انصاف، غربت اور سیاسی، سماجی و معاشی ناہمواریاں جیسے مسائل میڈیا سے جنگی جنوں کے مقابلے میں ایک نئے سیاسی، جمہوری اور فلاحی کردار کی توقع رکھتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان اگر تعلقات بہتر ہونے ہیں اور لوگوں میں موجود دوریاں سمیت تعصب کی سیاست کا خاتمہ ہونا ہے تو اس میں دونوں اطراف کے میڈیا کو ایک برے تدبر اور فہم و فراست کا کردار ادا کرنا ہے۔ پاکستان کے میڈیا میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں بھارت دشمنی کا ایجنڈا رکھتے ہیں ان کو بھی اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہیے۔ دونوں اطراف کے حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے کو پس پشت ڈال کر امن اور ترقی کے ایجنڈے کو بنیاد بنانا ہوگا۔
بھارت میں بھی انتہا پسند میڈیا کے مقابلے میں ایسے میڈیا عناصر کو سامنے آکر خود کو ایک مضبوط آواز اور طاقت کے طو رپر پیش کرنا ہوگا۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ دونوں اطراف کے میڈیا کے لوگوں میں باہمی رابطو ں کو موثر بناکر پہلے سے موجود غلط فہمیوں یا تعصب کے خاتمہ اور اس تاثر کو ختم کرنا ہے کہ وہ تعلقات میں بہتری کی بجائے بگاڑ کا ایجنڈا رکھتا ہے۔
اس وقت دونوں اطراف کے میڈیا کو ایک برتری یہ حاصل ہے کہ پاکستان بھرپور انداز میں دوستی اور امن کے ایجنڈے کو بنیاد بنا کر دونوں ممالک میں بہتری چاہتا ہے۔ دونوں ممالک اور بالخصو ص بھارت کے میڈیا کو اپنی حکومت اور ریاست پر یہ دباؤ ڈالنا چاہیے کہ تمام تر مسائل اور تحفظات کا راستہ مذاکر ات کی میز ہی ہے۔ جو لوگ بھارت اور پاکستان میں مذاکر ات کے مخالف ہیں اور اپنی انتہا پسندی پر مبنی سوچ کے ساتھ تعلقات کو کشیدہ بنانا چاہتے ہیں ان کے خلاف میڈیا کے محاذ پر موثر انداز میں مزاحمت ہونی چاہیے۔ اس بحث کو آگے بڑھانا ہوگا کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ مسئلہ بھارت اور پاکستان کا ہی نہیں بلکہ اس خطہ کی سیاست کو بھی امن درکار ہے جو بھارت اور پاکستان کے باہمی تعلقات میں بہتری کے بغیر ممکن نہیں۔


