حسین مجروح کے مجموعہ فردیات ”اشعار“ پر کچھ بات
لازم ہے نیا رنگ، سخن میں کہ روایت
قندیل ہُوا کرتی ہے، منزل نہیں ہوتی
محترم جناب حسین مجروح ادبی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہ ہیں بلکہ ایک ایسا معتبر نام ہیں جن کے بارے میں ان کی غیر موجودگی میں بھی ہمیشہ اچھا ہی سنا اور لوگوں کو ان کے کلام کے ساتھ ساتھ ان کے عمدہ اخلاق اور زندہ دلی کی تعریف کرتے پایا۔ آپ سے پہچان حلقہ ارباب ذوق کے توسط سے ہوئی جب آپ حلقہ کے کرتا دھرتا تھے اور ایوانِ اقبال میں شاندار ہفتہ وار اجلاس کا انعقاد و اہتمام کیا کرتے تھے اور آنے والے مہمانوں کو ایسی گرم جوشی اور خلوص سے خوش آمدید کہتے کہ ہر کوئی خود کو اجلاس میں مہمانِ خاص تصور کرتا۔
اب جب کہ حلقہ کا انتظام و انصرام ان کے ذمے نہ ہے تو بھی اسی بھرپور انداز میں کم و بیش ہر اجلاس میں شرکت کرتے اور نو آموز تخلیق کاروں کی خصوصی حوصلہ افزائی فرماتے دکھائی دیتے ہیں۔ پیش کردہ تخلیقات پر ان کی تنقید میں تضحیک کا پہلو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا بلکہ تعمیری اور مثبت تنقید کرتے ہیں جس سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
یہ تو خیر ضمنی پہلو تھا۔ کیوں نہ ان کے شخصی تعارف کی بجائے ان کے تازہ مجموعہ فردیات ”اشعار“ پر کچھ بات کی جائے جو کچھ روز پہلے ہی موصول ہوا اور میں نے ذوق و شوق سے مطالعہ کیا۔
یوں تو مجھ ناقص و العقل کی کیا رائے اور کیا تجزیہ، بس ”اشعار“ کو پڑھ کر جو محسوس کیا بیان کر رہی ہوں۔
”اشعار“ فردیات کا پہلا مجموعہ ہے جو میں نے پڑھا۔
یوں میرے لیے یہ ایک نیا تجربہ بھی رہا جو کہ خوب ہی پرلطف اور انوکھا تھا۔
میرا خیال ہے کہ مصرع در مصرع شعر بنتے جانا اور غزل تخلیق کر لینا اور پھر اس سے ایک بھلا، برا یا ملا جلا تاثر قائم کر لینا آسان ہے۔
لیکن فردیات ایسے متاثر کن کہنا مشکل ہے جو قاری کو اپنے حصار میں لے سکیں۔ چند نمونے ملاحظہ ہوں۔
۔
سینت کے رکھے رہنے میں خطرہ ہے عمر کی دیمک کا
اس کارن بھی روپ کی پونجی جتنی خرچ ہو، اُتّم ہے
۔
اب ہمیں راہ دکھاتے ہیں جنھیں لاحق ہے
عشق میں بھوت کا اور شعر میں نقاد کا خوف
۔
بند کمروں کی ریاکاری سے یہ ہم پر کھلا
کتنے دل برداشتہ ہوتے ہیں دروازوں کے بھید
۔
موسم کے بھید بھاؤ میں اوجھل دنوں کے خواب
دِکھتے ہیں صاف آنکھ کی پُتلی کے اس طرف
۔
فرد کے ذریعے قاری کو مسحور کرنا اور دیگر فردیات پڑھنے کی طرف مائل کرنا میرے خیال میں کارِ دشوار ہے جسے جناب حسین مجروح نے سہل کر دکھایا۔
مجھے جناب حسین مجروح کے فردیات کو پڑھ کر یوں محسوس ہوا کہ ان کے ساتھ معاملہ سراسر اور خالصتاً آمد کا ہے۔
جب ہم کسی بھی غزل کا بغور مطالعہ کریں تو عموماً محسوس ہو جاتا ہے کہ اس میں کون سا شعر آمد کا اور کہاں تخلیق کار نے اپنا ہنر آزمایا ہے۔
مجھے یوں لگتا ہے کہ آمد کے شعر میں ایک الگ ہی دمک، حُسن اور بے ساختگی ہوتی ہے جو باقاعدہ محسوس کی جا سکتی ہے۔ میں نے یہی حُسن و دمک اور بے ساختگی ”اشعار“ کی فردیات میں محسوس کی ہے۔ دوسری خاص بات جو اس آمد والے خیال کو مزید پختہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ محترم کو سخن پر اتنا عبور تو حاصل ہے کہ اگر غزل مکمل کرنا چاہتے تو کوئی شے مانع نہ ہوتی لیکن انہوں نے خود کو اس کام کے لیے مجبور نہیں کیا۔
دیکھیے فردیات سے منتخب کچھ مطلعے، کچھ مقطعے
مجروح اعتراف کے بادل کا کیا کہوں
روئیدگی کرے ہے یہ برسے بغیر بھی
۔
مہنگائی کا وہ زور ہے مجروح کہ نیکی
اجرت کی طلب گار ہے بخشش کی نہیں ہے
۔
ہم پر بھی وہ حسن کھلا، پر قیل و قال کے بعد
کھلتی ہے تاثیر دوا کی استعمال کے بعد
۔
خیمۂ درد سواہے دلِ مجروح صفت
جس زمیں پر بھی لگایا، وہ چٹانی نکلی
یوں تو شعر کی زبان اور لفظیات روزمرہ بول چال سے کافی حد تک مختلف ہوتی ہے لیکن کچھ ایسے الفاظ جو روزمرہ گفتگو میں بھی مضحکہ خیزی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، انہیں جناب حسین مجروح نے اس سنجیدگی سے اشعار میں برتا ہے کہ جس کی تحسین کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔
کارِ دنیا بھی ہے ان دیکھی مسافت کی طرح
پاؤں اور دھیان رپٹ جاتے ہیں چلتے چلتے
۔
دلوں کی آگ کوئی پل میں بجھنے والی ہے
صبا کو دیکھا ہے لُو سے کُھسر پُھسر کرتے
سرکش ہوا خدا سے اگر آدمی تو کیا
اکثر بغاوتے ہیں ولی عہد شاہ سے
تجربہ تھا نہ سلیقہ کوئی پھر بھی دل نے
دفترِ عشق میں چپراس کی عرضی ڈالی
۔
زندگی کیا ہے جلے پاؤں کی بلی جس نے
اپنے بچوں ہی کو تندور میں ڈالا ہوا ہے
۔
تھڑے کا مال ہوا ہے سخن کا صرّافہ
کہ زرگری پہ ہیں مامور پالکی والے
۔
مکھیاں آج بھی شیدائی ہیں اصلی گُڑ کی
پر یہاں بِکتا ہے سودا وہی رس کٹ والا
۔
اگلے وقتوں میں شعر کہنے کے لگے بندھے ضابطے اور قوانین تھے، ایک مخصوص طریقہ تھا جس کو فالو کیے بغیر شعر مکمل ہو نہیں سکتا تھا۔
اور بہت سے بنیادی ضوابط کے ساتھ یہ بھی ضروری ہوا کرتا تھا کہ شعر کے پہلے مصرعے میں دعویٰ اور دوسرے مصرعے میں اس دعویٰ کی دلیل پیش کی جائے۔
تلازمہ شعر کا جزوِ لازم ہوا کرتا تھا جو مصرعوں کو مربوط کرتا لیکن اب عجیب ہوا چل پڑی ہے کہ بیشتر جدید شاعر جب خُمارِ جِدّت اور نشّۂ تازہ کاری کی کیفیت میں شعر کہتے ہیں تو اس وجدانی کیفیت سے باہر آتے ہی اپنا شعر پڑھ کر خود بھی حیران رہ جاتے ہوں گے کہ بھئی تلازمے کہاں ہوا ہو گئے!
دعویٰ کہاں راہ بھول گیا اور دلیل کیسے پِٹ گئی!
نام نہاد تازہ یا جدید اشعار کا معاملہ بھی ہمارے ہاں کے بیشتر شادی شدہ جوڑوں جیسا ہو کر رہ گیا ہے جن میں فریقین باہم متلازم نہ ہو کر بھی ساتھ رہ رہے ہوتے ہیں بالکل جس طرح کئی جدید شعراء کے شعروں کے دو مصرعے۔
لیکن جناب حسین مجروح کے ہاں تلازمہ کاری کا پورا پورا اہتمام دکھائی دیتا ہے اس کے باوجود ان کے اشعار سے تازہ خیالات و افکار ہُویدا ہوتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک منجھا ہوا تخلیق کار محض قاری کو چونکانے یا الجھانے کی غرض سے شعر نہیں کہتا بلکہ اس کے شعر میں معنوی تہہ داری موجود ہوتی ہے جو دوسری قرآت پر پہلی قرآت سے بھی زیادہ پر لطف معلوم ہوتی ہے۔ یہ صرف لمحہ بھر کے لیے زبان پر لیموں جیسی کھٹاس نہیں گھولتے کہ یکبارگی حسیات جھنجھنا اٹھیں اور بس۔
گرچہ قاتل ہوں کتنے ہی کچے شعروں کا
لیکن جگ سے داد طلب ہوں اسی ہنر کا میں
۔
بس اس قدر ہی دیے میں وہ تیل ڈالتا ہے
کہ لَو پھڑکتی رہے، روشنی نہ کر پائے
۔
جونہی وہ خوش کلام ہوا گل کے روبرو
میں نے دِیا جلا لیا منظر کی آنچ سے
۔
خرچ ہوتی ہوئی محبت کو
دے رہا ہوں کمائی کا جھانسا
۔
اب جبکہ ادب قبیلے میں ایک عجیب سی سرد جنگ کا عالم ہے۔ آنکھوں دیکھی تو نہیں کہ خود نوآموز ہوں لیکن کانوں سنی ہے کہ ہمارے ہاں ادب اس وقت نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ کوئی کسی کے ساتھ مخلص نہیں۔
کوئی اپنے علاوہ کسی کے مقام کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے میں جناب حسین مجروح جیسے مرنجاں مرنج اور نفیس تخلیق کار کا دم غنیمت ہے۔
ان کی صحت و سلامتی اور تخلیقی اُپج کے لیے دلی دعائیں۔
الجھے رہے ہزار مشاغل میں یار لوگ
جو جس کا کام تھا، وہی اس نے نہیں کیا


