سقوطِ ڈھاکہ اور بھٹو
آج بھی کئی لوگ بنگلادیش کے بننے کی وجہ بھٹو کو قرار دیتے ہیں۔ میرے خیال میں بھٹو کی صرف ایک غلطی تھی کہ وہ خاموش رہا۔ جس وقت بنگالیوں کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی تھیں بدقسمتی سے اس وقت بھٹو حکومت کا حصہ تھا۔ لیکن بنگال کے ساتھ شروع سے ہی زیادتیاں ہو رہی تھیں۔ ایسا نہیں کہا جا سکتا کہ صرف 70 کے الیکشنز کے بعد یحییٰ کے کردار کی وجہ سے یا بھٹو کی وجہ سے بنگلادیش بنا۔ اس میں کافی عوامل شامل تھے۔ بنگالیوں کو فوج و بیوروکریسی میں بھی مناسب جگہ نہیں دی جا رہی تھی۔
اس وقت کہا جاتا تھا کہ یہ چھوٹے قد والے کیا کریں گے فوج میں۔ بنگالی زبان کا اشو تو پاکستان کے بننے کے وقت سے ہی شروع ہو چلا تھا۔ ایوب خان کی صدارتی الیکشنز میں بھی مجیب الرحمان اور اس کے ساتھیوں نے فاطمہ جناح کو سپورٹ کیا تھا جس کے وجہ سے ایوب خان نے بنگالیوں بالخصوص مجیب الرحمان کو اس کی سزا دی بلکہ کچھ عرصہ کے لیے مجیب کو گرفتار کر کے جیل میں بھی ڈالا۔ 65 کی جنگ کے وقت بھی بنگالی کہتے رہے ہمیں بھی تحفظ فراہم کیا جائے لیکن وہاں آرمی نہیں بھیجی گئی اور انہیں بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔
وہ تو شکر ہے اس وقت بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ نہیں کیا (غالباً امریکا نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ بھارت مشرقی پاکستان پر حملہ نہیں کرے گا مطلب امریکا نے بھارت کو روکا تھا مشرقی سرحد پر جنگ چھیڑنے سے ) ورنہ شاید بنگلادیش 71 سے پہلے بن جاتا یا بھارت کے قبضے میں آجاتا۔ 65 کے جنگ بعد بھٹو کے ایوب سے اختلافات بڑھ گئے اور وہ بھی حکومت سے الگ ہوا اور اپنی الگ پارٹی بنائی، مجیب الرحمان نے بھی عوامی لیگ بنائی۔
مجیب نے 66 میں اپنی 6 پوائنٹس ایجنڈا پیش کیا۔ ویسے تو باقی معاملات پر بھی اعتراض تھا مگر چھٹا پوائنٹ جس میں الگ آرمی رکھنے کی بات کی گئی تھی وہ مغربی پاکستان بالخصوص ہماری آرمی کے لیے کسی طور پر قابل قبول نہیں تھا۔ خطرہ یہ بھی تھا کہ الگ آرمی رکھنے کے بعد علحیدگی کا ہی مطالبہ نہ کیا جائے۔ مجیب الرحمان و بھٹو نے اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کے ساتھ ہی الیکشنز کا مطالبہ کیا اور عوامی مقبولیت بھی حاصل کی۔
ایوب ویسے ہی 65 کی جنگ کے بعد ناکام ہو چکا تھا اور خود آرمی میں بھی اس کی مخالفت شروع ہو گئی تھی۔ جس کی وجہ سے 69 میں ایوب نے اقتدار یحییٰ کے حوالے کر دیا۔ یحییٰ نے 90 دنوں کے اندر انتخابات کرانے کا کہا لیکن دو سال لگا دیے۔ یحییٰ بھی ایوب کی طرح اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتا تھا۔ اور کسی طور اقتدار چھوڑنے پر رضامند نہ تھا۔ الیکشنز کے نتائج جب آئے تو مجیب الرحمان کی عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کی 162 سیٹس میں سے 160 سیٹس پر کامیابی حاصل کی۔
جبکہ مغربی پاکستان کی 138 سیٹس میں سے 81 سیٹس بھٹو کی پیپلز پارٹی کے حصے میں آئیں۔ ٹوٹل سیٹس کی تعداد 313 تھی جس میں سے 300 سیٹس پر الیکشنز ہوئے تھے اور 13 سیٹس خواتین کے لیے مخصوص تھی۔ یحییٰ خان کے لیے یہ نتائج کافی حیران کن تھے کیونکہ اسے یہی بتایا گیا تھا کہ کوئی بھی نہ مشرقی اور نہ ہی مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کر سکے گا اور ایک کمزور حکومت وجود میں آئے گی۔ مطلب یحییٰ اپنی شرائط منانے میں کامیاب ہو جائے گا۔
اتنی اکثریت لینے کے بعد مجیب الرحمان نے مغربی پاکستان آنے سے انکار کر دیا اور اسمبلی کا اجلاس مشرقی پاکستان بلانے کا کہا۔ یحییٰ بھی مجیب الرحمان کو وزیراعظم بنانے کے لیے تیار تھا لیکن مجیب اپنی 6 پوائنٹس پر کسی طور سمجھوتہ کرنے کو تیار نہ تھا۔ وہ چاہتا تھا مرکز صرف تین وزارتیں کرنسی، دفاع اور خارجہ امور اپنے پاس رکھے باقی ادارے و وزارتیں صوبوں کو دی جائیں۔ بھٹو بھی مجیب الرحمان کو دل سے وزیراعظم ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔
ایک خیال یہ بھی زیرِ غور تھا کہ دو وزیراعظم رکھے جائیں۔ لیکن معاملات نہ سلجھنے کی وجہ سے اسمبلی کا اجلاس بھی بلایا نہ جا سکا۔ مجیب و بھٹو دونوں کی ہٹ دھرمی اور مجیب کی 6 پوائنٹس بالخوص الگ آرمی رکھنے کے مطالبے کی وجہ سے یحییٰ خان اور مشرقی پاکستان (بیوروکریسی و آرمی) مجیب الرحمان کو حکومت دینے کے لیے راضی نہ تھے اور اس کی وجہ سے اسمبلی کا اجلاس بلانے میں تاخیر نے بنگالیوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا کر دیا کہ مغربی پاکستان ہمیں حکومت دینے سے گریزاں ہے اور ان کے دل میں کھوٹ ہے۔
جس کے بعد بنگال میں احتجاج شروع ہوا۔ مجیب الرحمان نے اپنی تقریروں میں علحیدگی کا اشارہ بھی دیا۔ ادھر مغربی پاکستان میں اس وقت نشتر پارک میں ایک جلسہ میں بھٹو نے کہا ’اِدھر ہماری اکثریت ہے اُدھر تمہاری‘ جس کو اس وقت کی ’آزاد‘ اخبار نے اس سرخی کے ساتھ شایع کیا کہ ”اِدھر ہم اُدھر تم: بھٹو ’جس پر مشرقی پاکستان میں احتجاج ہوا اور لوگوں نے بھٹو کو گالیاں دینا تک شروع کر دیں (صرف اس سرخی جو بھی غلط تھی کی وجہ سے بھٹو کو موردِ الزام ٹہرایا جاتا ہے کہ اس نے بنگلادیش بنانے میں راہ ہموار کی حالانکہ اس کی تردید اس وقت آزاد اخبار کے ایڈیٹر عباس اطہر کئی پروگرامز میں کر چکے ہیں ) ۔
بھٹو نے حالانکہ اس کی وضاحت تک دی کہ اس نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا لیکن یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی اور اب معاملہ بھٹو کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ اس دوران مجیب الرحمان نے بھی بنگلادیش کا نعرہ لگایا اور کہا بنگلادیش کو بننے سے اب کوئی روک نہیں سکتا۔ مجیب کو حکومت نہ ملنے کی وجہ سے بنگالیوں میں بے چینی بڑھتی گئی اور احتجاج زور پکڑتا گیا۔ احتجاج کو کنٹرول کرنے کے لیے آرمی بھیجی گئی۔ مجیب الرحمان کو گرفتار کیا گیا۔
لیکن احتجاج نہ تھما بلکہ اور بھی بڑھ گیا۔ حالات خراب ہوئے تو بنگالیوں نے بھارت سے مدد طلب کی۔ بھارت تو ویسے ہی موقعہ کی تلاش میں تھا سو انہوں نے اپنی آرمی بھیجنے میں دیر نہ کی اور بنگلادیش کے بننے میں راہ ہموار کی۔ بھارت نے پاکستان کا سمندری اور ہوائی رستہ بھی روک لیا جس سے پاک فوج کو درکار مدد بھی وقت پر پہنچ نہیں پائی نتیجتاً انہیں ہتھیار ڈالنا پڑے۔ اب اس میں اصل ذمیدار کون تھا کون نہیں اس کا فیصلہ آپ کریں۔


