کمپیوٹر اور موبائل کے استعمال میں سخت احتیاط کریں
ہم کیا سوچتے ہیں، ہمیں کیا پسند یا نا پسند ہے، ہمارے مشاغل کیا ہیں۔ ہمارے مسائل کیا ہیں، ہم کن جگہوں کو وزٹ کرتے ہیں، ہماری پرسنل اور پروفیشنل لائف کیسے گزر رہی ہے۔ اس حوالے سے ہمیں اب کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ فیس بک، واٹس ایپ، انسٹا گرام، ٹوئٹر ہمارے خیالات، جذبات، احساسات اور ہمارے عملی اقدامات کی مکمل ترجمانی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم اپنی تمام معلومات کو اپنے سمارٹ فون کی مختلف ایپلیکیشن کو کھلے دل کے ساتھ مفت میں فراہم کر رہے ہیں۔
ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے سمارٹ فون کے پلے سٹور سے مختلف ایپلیکیشن، گیمز وغیرہ ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں، اور اسی وقت مختلف آئٹمز کی ایک لسٹ سامنے آتی ہے جو آپ کے فوٹوز، مائیکروفون، میسجز، کیمرا، فون نمبرز وغیرہ تک رسائی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اور ہم سب لوگ آنکھیں بند کر کے وہ معلومات اس ایپلیکیشن کو فراہم کر دیتے ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ تمام ایپلیکیشنز سافٹ وئیرز یہ معلومات کیوں چاہ رہے ہوتے ہیں۔
وکی لیکس نے Vault 7 کے نام سے لیکس کی سیریز جاری کیں۔ ان لیکس کے مطابق امریکن ایجنسی سی آئی اے دنیا بھر میں سمارٹ فونز جس میں آئی فون، ایچ ٹی سی، سیم سنگ، سونی اور تمام اینڈرائیڈ فونز آتے ہیں ان کے تمام ڈیٹا کو پڑھ سکتی ہے، دیکھ سکتی ہے اور ہیک بھی کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ موبائل فون میں ایسے سوفٹ وئیر انسٹال ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے اگر آپ کسی کمرے میں کسی شخص کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں اور آپ نے موبائل فون سائیڈ پہ ویسے ہی رکھا ہوا ہے تو وہ موبائل فون سافٹ وئیر کی وجہ سے سپیکر آن کرنے کے بعد آپ دونوں کی آواز ر یکارڈ کر سکتا ہے اور آپ کو پتہ تک نہیں چلے گا۔
اور وہ ریکارڈنگ انٹرنیٹ کے ذریعے سی آئی اے کو ٹرانسفر ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سیم سنگ سمارٹ ٹی وی اگر آپ کے گھر میں موجود ہے اور وہ آپ نے بند کیا ہوا ہے تو وہ بند حالت میں نہ صرف آپ کی آواز سن سکتا ہے بلکہ آپ کے کمرے کی ویڈیو بھی بنا سکتا ہے۔ سمارٹ لیپ ٹاپ بھی آپ کی خفیہ آواز اور ویڈیو ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی اتنی جدید ہو چکی ہے کہ اب آپ نہ صرف خود بلکہ آپ کا گھر بھی گلوبل ویلج کا حصہ بن چکا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مختلف ایپلیکیشنز کو یہ معلومات چلی بھی گئیں تو اس سے کیا ہوگا۔ پہلی بات تو یہ کہ آپ کی کوئی بھی کمیونیکیشن چاہے وہ پرسنل ہو یا پروفیشنل وہ ایپلیکیشنز ڈویلپرز کے پاس ریکارڈ ہور ہی ہے آپ کا تمام پرسنل ڈیٹا، فوٹوزوغیرہ بھی سٹور ہو رہے ہیں۔ اور اس ڈیٹا کا کبھی بھی کسی بھی وقت غلط استعمال ہو سکتاہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے فوٹو ز میں شناختی کارڈ، پاسپورٹ وغیرہ کی سافٹ امیجز ہیں تو ذرا سوچیے کہ ان کا کتنا غلط استعمال کیا جا سکتاہے۔ جیسا کہ حالیہ تناظر میں بہت سے لوگوں کے بینک اکاؤنٹس سیکنڈل پکڑے گئے اور ان لوگوں کو پتہ تک نہیں تھا کہ ان کے نام پہ کوئی بینک اکاؤنٹ بنا ہوا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے اپنے موبائل فون میں اردو ٹائپنگ کے لیے مختلف اردو کی بورڈز ڈاؤن لوڈ کرنے کی کوشش کی اور جیسے ہی وہ ایپلیکیشن ڈاؤن لوڈ ہوتی توایکٹو ہونے سے پہلے ایک میسج دکھائی دیتاکہ اس ایپلیکیشن کے ایکٹو ہونے کے بعد موبائل فو ن میں جو کچھ بھی ٹائپ کیا جائے گا، چاہے اس میں ٹیکسٹ میسجز ہوں، پاسورڈز وغیرہ ہوں وہ اس ایپلیکیشن میں ریکارڈ ہو جائیں گے۔ اس صورتحال کے بعد موبائل فون میں آن لائن بینک اکاؤنٹس اوپن کرنے کی گنجائش قطعی طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ بلاشبہ جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہمیں بہت سی سہولیات حاصل ہیں، جہاں اس کے بے شمار فوائد ہیں وہاں اس کے غلط استعمال کی وجہ سے بہت سے نقصانات بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔
ذاتی معلومات کو محدود حد تک شئیر کرنے کے علاوہ ہمیں خود سے یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہمیں کون سی انفارمیشن شئیر کرنی چاہیے اور کون سی نہیں کرنی چاہیے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ بہت سی خبریں تحقیق سے پہلے ہی پوری دنیا میں پھیل جاتی ہیں۔ جس کے بہت سے منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اور جب تک وہ خبر پوری طور پر واضح ہوتی ہے اس وقت تک اس خبر سے کافی نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ اس لیے خبر پھیلانے سے پہلے مستند ذرائع سے اس کی تصدیق بے حد ضروری ہے۔
یہ انفار میشن ایج ہے۔ ہماری معلومات، ڈیٹا جس کو ہم خود شاید زیادہ اہمیت نہیں دے رہے ہوتے لیکن وہ انفارمیشن کسی تھرڈ پارٹی کے لیے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے اور اس انفار میشن کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹس پر اپنی مکمل معلومات دینے سے گریز کریں۔ غیر ضروری ایپلیکیشنز یا گیمز وغیرہ کو انسٹال کرنا مستقبل میں پریشانی کا باعث ہو سکتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کا مفید استعمال ضرور کیجیے مگر یہ ضرور مد نظر رکھیے کہ کہیں جدید ٹیکنالوجی آپ کو استعمال نہ کر دے۔


