جنگ کے منڈلاتے بادل، کیفی اعظمی اور دو بلاگز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اور پھر کرشن نے ارجن سے کہا

نہ کوئی بھائی، نہ بیٹا، نہ بھتیجا، نہ گرو

ایک ہی شکل ابھرتی ہے ہر آئینے میں

آتما مرتی نہیں، جسم بدل لیتی ہے

دھڑکن اس سینے کی جا چھپتی ہے اس سینے میں

جنگ رحمت ہے کہ لعنت، یہ سوال اب نہ اٹھا

جنگ جب آہی گئی سر پر تو رحمت ہو گی

دور سے دیکھ نہ بھڑکے ہوئے شعلوں کا جلال

اسی دوزخ کے کسی کونے میں جنت ہو گی

زخم کھا، زخم لگا، زخم ہیں کس گنتی میں

فرض زخموں کو بھی چن لیتا ہے پھولوں کی طرح

نہ کوئی رنج، نہ راحت، نہ صلے کی پروا

پاک ہر گرد سے رکھ دل کو رسولوں کی طرح

خوف کے روپ کئی ہوتے ہیں، انداز کئی

پیارسمجھا ہے جسے خوف ہے وہ پیار نہیں

انگلیاں اور گڑا اور گڑا اور پکڑ

آج محبوب کا بازو ہے یہ تلوار نہیں

ساتھیو، دوستو ہم آج کے ارجن ہی تو ہیں

رمیز سوال اٹھاتے ہیں کہ کیفی صاحب کا یہ نقطہ نظر دائیں بازو کے کسی جنونی جنگ باز ملاسے کس قدر مختلف ہے؟ جنگ کے لیے اُکسانا اور آگ بھڑکانا اورکیا ہوتا ہے؟ انہوں نے لکھا ہے کہ یہ سطریں بھار ت میں آر ایس ایس کا کوئی رکن یا پاکستان کاکوئی جنونی ملاہی اپنے ہم وطنوں سے کہ سکتا ہے۔

خوف کے روپ کئی ہوتے ہیں، انداز کئی

پیار سمجھا ہے جسے خوف ہے وہ پیار نہیں

”بگل بج رہا ہے، درندگی منہ پھاڑ رہی ہے۔ بہادری یہ ہے کہ درندگی کو قابو میں کیا جائے، نہ کہ اس کے جنون میں اضافہ کیا جائے۔ “ یہاں میرے ذہن میں سوال ابھرا کہ کیفی صاحب نے نہ جانے کیوں ”رسولوں“ کی ترکیب استعمال کی ہے کہ ان کی طرح دل کو ”پاک“ رکھ۔ گویا اس مذہبی ترکیب کا استعمال انہوں نے مسلمانوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا؟ پوچھا جاتا، حضور والا، خوں ریزی کی تلقین کرتے ہوئے کیا ان ”تقدس آمیز“ اصطلاحات کو برتنا واجب تھا؟

کیفی صاحب زندہ ہوتے تو کیا کرتے؟ ارجن کو پھر اس کا ”فرض“ یاد دلاتے؟ ان کی زندگی میں دونوں ممالک کے جنگ آزما بار بار آگ اور خون کی بارش کرتے رہے، کون ادیب یا شاعر انہیں روک سکا۔ اور بیش تر تو اپنی اپنی ”قومی ترجیحات“ کے سبب مہر بہ لب بیٹھے ر ہے۔ مصلحت کا علم بلند رکھا۔ 1971 کی جنگ کے وقت بھی تھوک کے بھاؤ ”قومی ترانے“ لکھے جاتے رہے۔ آخر برصغیر کے لکھنے والوں میں کون رسل اور سارترجیسا متحرک کردار ادا کر سکا؟ ”بڑوں“ کا یہ حال تھا کہ مظلوم بنگالیوں کے خلاف بہیمانہ لشکر کشی کی مذمت تک نہ کر سکے۔

خاکسار کراچی میں کیٹرک ہال کے مشاعرے میں موجود تھا۔ صدارت فیض صاحب کر رہے تھے۔ حبیب جالب کی باری آئی تو انہوں نے باقاعدہ فیض صاحب کی طرف رخ کرتے ہوئے جو جملہ ادا کیا، اس کا مطلب تھا کہ بھائی جان دم پکڑو، کچھ بولو۔ سکتہ کیوں طاری ہے؟ پھر حبیب جالب نے پیغمبرانہ انداز میں اپنا یہ مشہور قطعہ پڑھا:

محبت گولیوں سے بو رہے ہو

وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو

گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے

یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

جنگ کے بعد وجود میں آنے والی فیض صاحب کی غزل مترنم دُھن کے ساتھ مقبول تو بہت ہوئی، خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد، کسی نے جواب نہ دیا کہ صاحب کوئی بیس تیس بارشوں کے بعد خون کے دھبے دھل جائیں گے، فکر نہ کریں۔ آپ سب کچھ خاک ہونے کے بعد پوچھتے ہیں کہ دھبے کب دھلیں گے! جالب نے تو لشکر کشی کے وقت ہی اسی لفظ (دھونا) کے ساتھ حکمرانوں کا گلا پکڑ لیا تھا کہ وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو، محبت گولیوں سے بو رہے ہو، خون بہانے سے بازآ جاؤ۔

اس کے برعکس فیض کی مذکورہ غزل میں کہیں بھی وہاں ہونے والے قتل عام کی مذمت نہیں کی گئی، مظلوم بنگالیوں کی فتح پر مبارک باد نہیں دی گئی، قاتلوِں کو مطعون نہیں کیا گیا، شرمندگی کا اظہار نہیں کیا گیا۔ محض ٹھنڈی سانسیں بھری جاتی رہیں۔ جب جالب نے انگشت نمائی کی تو بھی گویا دم سادھے بیٹھے رہے کہ میاں جالب تم فرض کفایہ ادا کر رہے ہو، کرتے رہو۔ تمہارا شکریہ۔ جالب بھی حال مست رہا، اخباری کاغذ میں لپٹے پکوڑے کھاتا رہا، اور جیل جاتا رہا۔ سر نہ جھکایا، گونگا بننے سے انکار کرتا رہا۔ بات وہی کہ کسی کو دیوتا بھی نہ بناؤ۔ فیض کی گراں بہاخدمات تسلیم، مگر جہاں عافیت پسندی یا تجاہل عارفانہ میں مبتلا ہوئے اس کا اعتراف کرنے میں کیا مضائقہ؟

آخر میں رمیز رحمن نے کیفی صاحب کی ”فرض“ کے مقابلے میں درویش صفت ساحرلدھیانوی (جس نے پرچھائیاں، تاج محل، چکلے جیسی نادر تخلیقات کا تحفہ ہمیں دیا)کی نظم ”اے شریف انسانو“ کے مصرعے نقل کیے ہیں جو 65ء کی جنگ ہی کے حوالے سے لکھی گئی۔ فرق صاف ظاہر ہے۔ اسے کوئی ارجن یاد نہیں آیا، صرف یہ یاد آیا کہ:

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے

جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی

آگ اور آہن آج بخشے گی

بھوک اور احتیاج کل دے گی

ساحر کیفی کی طرح ہیجان یا ہذیان میں مبتلا نہیں ہوا، گہرے سمندر میں سفر کرنا اسے راس آیا، پایاب، سطحی فکر کی آندھی کے سامنے اپنی بصیرت کا پرچم بلند رکھا۔ لابیاں بنانا، شہرت کے راستے کھولنے کے لیے پستی میں اترنا اس کی فطرت میں نہیں تھا۔ گوشہ نشیں، خلوت پسند آدمی تھا۔ مختصر وقت میں بڑا نام کمایا اور کم عمری میں رخصت ہو گیا۔

سیدھی اور سچی بات صرف یہ ہے کہ پاکستان اوربھارت کے دانش وروں کا فرض ہے کہ جنگ کے محرکات کو ہوا دینے سے گریز کریں، اپنی اپنی طرف کے قابل نفرت جنونیوں اور جنگ بازوں کو بے نقاب کریں۔ فرشتے کہیں نہیں، دیوتا کہیں نہیں، سب ننگے ہیں، پاکستان کے خوں آشام بنیاد پرست بھی اور مودی کی آر ایس ایس کے بھیڑیے بھی۔ زہر کی کاشت مت کرو، مٹھاس سے بھرے خوشبو دارپھول اگاؤ۔ سچا دانش ور اپنا یہ فرض پہچانتا ہے۔ جو ادھر ادھر کے عذر تراش کر کرتب دکھاتا ہے، اس کی نیت کھوٹ سے خالی نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2