جنگ کا چہرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دونوں طرف طبل جنگ بج چکا ہے، دونوں طرف مار دیں گے، جلا دیں گے، فنا کر دیں گے جیسی آوازیں آرہی ہیں، سوشل میڈیا پر کچھ دھمکیاں لگا رہے ہیں اور کچھ ان کی دھمکیوں کا ٹھٹھا اڑا رہے ہیں۔

یہ پاک بھارت جنگ ہے۔ روایتی حریف، ازلی دشمن، اور پتہ نہیں کیا کیا کہہ کر سالوں سے ذہن تیار کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں تو کرکٹ اور ہاکی کے میچ تک زندگی موت کا مسلئہ بنا لیتے ہیں یہ تو پھر واقعی جنگ کی باتیں ہیں۔ کاٹنے مارنے کی باتیں تو ہوں گی۔

جنگیں ابتداء سے ہوتی آ رہی ہیں اور شاید انجام تک ہوتی رہیں گی مگر جنگ عشق کرنے کی شے نہیں ہے پیارو، یہ کبھی خوبصورت نہیں ہوتی۔ جنگ کو غور سے دیکھو تو صحیح۔

جوان لاشیں اور ان پربین کرتی بوڑھی مائیں، جو چاہے اس طرف کی ہوں یا اُس طرف کی آنسو ایک سے ہی بہاتی ہیں۔ مبارکبادیں وصول کرتے بوڑھے باپ، جن کو ہم غم بھی نہیں کرنے دیتے، جو اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں ایسے کہ آواز بھی نہیں آتی۔ جوان بیوائیں جن کو ہم فخر کرنے کا درس دے رہے ہوتے ہیں جو راتوں کوان کی شرٹ پہن کر سوتی ہیں کہ لمس محسوس کر سکیں، بچے جن کو ہم باپ کے جانے کی مبارک دے رہے ہوتے ہیں اور وہ ماں کے پلو سے لگ کر بلک رہے ہوتے ہیں۔

جنگ کا چہرہ خون سے سنا ہوتا ہے اور جسم گولیوں سے چھِدا ہوا، اس میں کچھ جمال نہیں کہ ہم اس کے لیے اتنے ایکسائٹد ہوں۔ خدا کے لئے جنگ کا ڈھول پیٹنا بند کیجئے۔ پرامن بقائے باہمی کا راستہ نکالئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •