او آئی سی، اس کی رکنیت اور بھارت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات میں او آئی سی نامی تنظیم کے زیرِ اہتمام رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں، اس تنظیم کی پچاسوِیں سالگرہ کے موقع پر ایک بے نظیر اقدام کے طور پر بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج صاحبہ کو خصوصی مہمان کی حیثیت سے مدعو کیا گیا۔ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں اس اقدام پر پاکستان میں بحث کا ایک طوفان کھڑا ہوگیا اور پاکستان نے اس تقریب میں شرکت کے لیے، سابقہ روایات کے برعکس، وزیر خارجہ کے بجائے دفتر خارجہ کے افسران پر مشتمل ایک وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

کانفرنس میں کشمیر میں جاری بھارتی افواج کے ظلم کے خلاف مبینہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی لیکن کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے رسمی اعلامیے میں بھارت کے خلاف کوئی ایک سطر تو کیا، تاریخ میں پہلی بار کشمیر کا ذکر ہی سرے سے غائب تھا۔ پاکستان میں کچھ احباب بھارتی وزیرِ خارجہ کی موجودگی میں مذمتی قرارداد منظور ہونے کو کامیابی قرار دے رہے ہیں تو کچھ مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کی عدم موجودگی پر افسردہ ہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری مباحثات کو دیکھنے سے اندازہ ہوا کہ اکثر پاکستانی اس تنظیم کی تاریخ، مقاصد حتی کہ اس بات سے بھی ناواقف ہیں کہ ”او آئی سی“ کن الفاظ کا مخفف ہے۔

او آئی سی کا قیام اگست سن انہتر کے اس واقعے کے ردِعمل میں ہوا جب مبینہ طور پر آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایک بنیاد پرست مسیحی شخص ڈینس مائیکل روہن نے مسجد اقصی میں آگ لگادی جس کے نتیجے میں لکڑی کی چھت کو شدید نقصان پہنچا اور کئی صدیوں پرانا منبر جل کر راکھ ہو گیا۔ مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی نے اسے ”یہودی سازش“ قرار دے کر دنیا بھر کے مسلمانوں سے مدد کی اپیل کی۔ الاقصی سانحے کے ایک ماہ بعد پچیس ستمبر انیس سو انہتر کو چوبیس مسلم اکثریتی ممالک کے سربراہان مراکش کے شہر رباط میں جمع ہوئے اور ”آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس“ یا، بہ زبان عربی ”منظمۃ الموتمر الاسلامی“ کی بنیاد پڑی۔ اس اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں تنظیم کے اغراض و مقاصد کو کچھ یوں بیان کیا گیا، ”اسلام کی لافانی تعلیمات کی روشنی میں باہمی مشاورت کے ذریعے مسلم حکومتیں اقتصادی، سائنسی، ثقافتی اور روحانی تعاون کو فروغ دیں گی“۔

اس تاسیسی اجلاس کے بعد سربراہان مملکت اور وزرائے خارجہ کے فورم تشکیل دیے گئے جن کے اجلاس وقتا فوقتا ہوتے رہتے ہیں۔ اہلِ پاکستان کے لیے ان میں سب سے یادگار فروری سن چوہتر میں لاہور کی اسلامی سربراہی کانفرنس ہے جس کی تصاویر اور یادیں آج بھی بہت لوگوں کے دلوں کو گرما دیتی ہیں۔ اس میں شریک ہونے والے سربراہان شاہ فیصل، حواری بومدین، معمر قذافی، یاسر عرفات، جعفر نمیری، سید برے اور سب سے بڑھ کر ذوالفقارعلی بھٹو کم از کم پاکستانی عوام کی نظر میں اساطیری کرداروں کی شکل اختیار کر گئے اور ان سے وابستہ رومان اب بھی بڑی حد تک کئی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔

یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ان سب کا انجام الم ناک ہوا۔ اس خونچکاں تاریخ سے قطع نظر، درج بالا اساسی اعلامیے سے قارئین کو اندازہ ہوا ہوگا کہ اس تنظیم کے مقاصد سماجی، ثقافتی، علمی اور روحانی تو ضرور تھے، ان میں اُمہ بطور سیاسی وحدت کا نام و نشان تک نہ تھا۔ بعد کی تاریخ اس پر شاہد ہے کہ اگر اس تنظیم نے کوئی سیاسی موقف اختیار بھی کیا تو اس کی حیثیت زبانی جمع خرچ سے آگے نہ بڑھ سکی۔ سن اکہتر کی پاک بھارت جنگ، مسئلہ کشمیر، سن تہتر کا عرب اسرائیل تنازعہ، شط العرب کی جنگیں، کردستان کی شورش، پولی ساریو کا تنازعہ، کسی میں اس تنظیم کا کوئی عملی کردار سامنے نہ آسکا۔

سن دو ہزار گیارہ میں قازقستان میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں تنظیم کا نام بدل کر ”آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن“ یا منظمۃ التعاون الاسلامیہ رکھ دیا گیا اور اس کے نشان یا لوگو کو بھی تبدیل کر دیا گیا۔ اس وقت تنظیم کی مکمل رکنیت ستاون ممالک پر مشتمل ہے، جن میں فلسطین کو چھوڑ کر باقی چھپن اقوام متحدہ کے بھی رکن ہیں۔ اس وقت شام یعنی سوریہ کی رکنیت وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی بنیاد پر معطل ہے جب کہ یمن کی نمائندگی ریاض میں براجمان جلا وطن حکومت کے پاس ہے۔

رکن ممالک کی فہرست پر نظر ڈالی جائے تو دل چسپ صورت حال سامنے آتی ہے۔ ستاون میں سے سینتالیس مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔ رکن ممالک میں گیبون میں مسلم آبادی گیارہ فی صد، یوگنڈا میں ساڑھے گیارہ فی صد، کیمرون میں اٹھارہ فی صد، بنین میں تئیس فی صد، موزمبیق میں اٹھارہ فی صد، سورینام میں پندرہ فی صد اور گیانا میں ساڑھے چھے فی صد ہے۔ بوسنیا ہرزے گووینا پچاس فی صد مسلم آبادی، روس دس فی صد مسلم آبادی، وسطی افریقی جمہوریہ ساڑھے آٹھ فی صد، تھائی لینڈ ساڑھے پانچ فی صد اور شمالی قبرص ننانوے فی صد مسلم آبادی کے ساتھ مبصر کا درجہ رکھتے ہیں۔ فلپائن کا آزدی پسند گروہ مورو قومی محاذ آزادی بھی اسی درجے کا حامل ہے۔ روس، بھارت، برازیل، سری لنکا، نیپال، سربیا، کانگو سمیت کوئی چودہ ممالک مبصر یا مکمل رکنیت کے لیے بارہا کوشش کر چکے ہیں مگر مختلف وجوہات سے کامیاب نہ ہوسکے۔

رکنیت کے کسی معین معروضی معیار کی عدم موجودگی میں بوسنیا اور کوسووو جیسے مسلم اکثریتی ممالک کی عدم رکنیت تو محلِ نظر ہے ہی، سو فی صد مسلم بربر آزادی پسند پولی ساریو محاذ کا غائب ہونا جبکہ مورو محاذ آزادی کا شامل ہونا بھی بظاہر عجیب لگتا ہے۔ ایسے میں [اس تنظیم کی افادیت یا اس کے برعکس ہونے کو ایک جانب رکھتے ہوئے ] بھارت کی فی صدی اور عددی اعتبار سے عظیم مسلم آبادی کے ہوتے ہوئے اس کی حالیہ اجلاس میں شرکت پر اعتراض کی منطق تراشتے ہوئے دماغ پر کافی زور ڈالنا پڑے گا، جو جنگ زدہ اور جوشیلے ذہن کے ساتھ ذرا کٹھن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •