نوبیل انعام یافتہ سربراہان مملکت و حکومت
حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں امن کوششوں پر تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو نوبیل ایوارڈ دینے کی قرارداد قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی ہے۔ جس پر وزیر اعظم نے ٹویٹ کے ذریعے خود کو اس انعام کا حق دار قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس قرارداد کی منظوری کس حد تک کامیابی سے ہم کنار ہوتی یے۔ آئیے ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں کہ تاریخ میں اس سے پہلے کون کون سے سربراہان مملکت یا حکومت کو نوبیل انعام سے نوازا جا چکا ہے۔
اب تک کل سولہ سیاسی رہنماؤں کو ان کے دور حکومت میں نوبیل پرائز جیتنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ تمام ایوارڈ امن کے شعبے میں عطا کیے گئے، ما سوائے 1953 کے، جب سر ونسٹن چرچل کو ادب کے شعبے میں نوبیل انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔
نوبیل انعام حاصل کرنے والے لیڈران میں سب سے زیادہ یعنی چار رہنماؤں کا تعلق امریکہ سے تھا۔ جن میں تین صدور اور ایک نائب صدر شامل ہیں۔
بیسویں صدی کو انسانی تاریخ کی خوفناک ترین جنگوں کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔ جس میں کئی چھوٹی بڑی جنگوں کے علاوہ دو عالمی جنگ عظیم اور دو سپر پاورز کے درمیان ایک طویل سرد جنگ بھی شامل ہیں۔
بیسویں صدی آغاز سے ہی نہایت ہنگامہ خیز رہی۔ 1904 میں جاپان اور روس کے درمیان کوریا اور منچوریا کے علاقوں کی عملداری کے مسئلے پر جنگ چھڑ گئی۔ ڈیڑھ برس بعد کم و بیش دو لاکھ جانیں لینے کے بعد امریکی صدر تھیوڈرو روزویلٹ کی کوششوں سے 1905 میں یہ جنگ اختتام پذیر ہوئی۔ روزویلٹ کو 1906 میں جنگ بندی کرانے پر نوبیل انعام دیا گیا۔
1914 سے 1919 تک جاری رہنے والی پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ تقریباً ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی موت پر ہوا۔ پیرس امن کانفرنس (یا معاہدہ ورسائی) کے بعد لیگ آف نیشنز یا جمعیت اقوام کا قیام عمل میں آیا۔ جس میں اہم کردار ادا کرنے والے امریکی صدر ووڈرو ولسن کو 1919 میں نوبیل انعام سے نوازا گیا۔
باراک اوبامہ تیسرے امریکی صدر تھے جنہیں 2009 میں بین الاقوامی سطح پر سفارتی روابط اور تعاون میں بہتری لانے پر یہ ایوارڈ دیا گیا۔
2007 کا نوبیل امن انعام اس وقت کے امریکی نائب صدر الگور کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں آگہی اور اقدامات کرنے پر اقوام متحدہ کی ماحولیاتی ایجنسی کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔
امریکہ اور اسرائیل (تین ایوارڈ ؛ بیگن، شمعون پیریز اور اضحاک رابن) کے علاوہ کسی اور قوم کے سربراہ مملکت یا حکومت کو ایک سے زائد نوبیل ایوارڈ نہیں ملا جس سے اس ایوارڈ کی حیثیت مشکوک ہو جاتی ہے۔
1921 میں سویڈن کے وزیراعظم یلمار برانٹننگ کو جمعیت اقوام / لیگ آف نیشنز کے تحت قیام امن کے فروغ میں خدمات سر انجام دینے پر نوبیل امن انعام عطا کیا گیا۔

دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ عالمی طاقتوں کی جانب سے جرمنی کی شکست و ریخت پر ہوا تھا۔ مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کے تعلقات میں کشیدگی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔ تاہم 1964 سے 1987 تک مغربی جرمنی کے چانسلر رہنے والے وِلّی برانت کے دور حکومت میں دونوں ممالک کی دوریاں کم ہونا شروع ہوگئیں۔ اوستپولیتک (ostpolitik) یا ”نئی مشرقی پالیسی“ کے تحت مغربی جرمنی نے مشرقی بازو کے ساتھ سیاسی اور سفارتی روابط بحال کیے۔ جس کے نتیجے میں بالآخر 1989 میں دونوں ممالک کے شہریوں نے دیوار برلن گرا دی۔ اور دونوں ممالک پھر سے متحد ہو گئے۔ ولی برانت کی کوششوں کے اعتراف میں انہیں 1971 کا امن انعام دیا گیا۔


کوسٹا ریکا وسطی امریکا میں موجود ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ اوسکر آریاس 1986 سے 1990 اور پھر 2006 سے 2010 تک کوسٹا ریکا کے صدر رہے۔ انہیں وسطی امریکا کے بحران کو ختم کرنے کی کوششوں پر نوبیل امن انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔

1994 کا نوبیل انعام ایک بار پھر متنازعہ امن معاہدہ کرنے پر قابض اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم اضحاک رابن کو فلسطینی رہنما یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیر شمعون پیریز کے ہمراہ مشترکہ طور پر دیا گیا۔
2000 کا امن انعام پانے والے جنوبی کوریا کے صدر کم ڈائی جونگ کو یہ ایوارڈ انسانی حقوق اور شمالی کوریا کے ساتھ امن مذاکرات کی مساعی پر دیا گیا۔

2016 کا امن انعام جنوبی امریکہ کے ملک کولمبیا کے صدر جوآن سینتوز کو ملک میں خانہ جنگی کے خاتمے پر دیا گیا۔
ان رہنماؤں کے علاوہ ایک درجن کے لگ بھگ ایسے رہنماؤں کو بھی نوبیل انعام سے نوازا جا چکا ہے جو
ایوارڈ ملنے سے قبل یا بعد میں اپنے ملک کی سربراہی کر چکے ہیں۔ ان میں نیلسن منڈیلا، جمی کارٹر، شمعون پیریز، یاسر عرفات اور آنگ سان سوچی قابل ذکر ہیں۔
اسی سلسلے میں ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ 2016 میں امن انعام پانے والی ملالہ یوسفزئی بھی مستقبل میں پاکستان کی وزیر اعظم بننے کی خواہش کا اظہار کر چکی ہیں۔




