جب مودی کو اپنے گھر میں شکست ہوئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاک بھارت حالیہ کشیدگی بارے بھارت کے وزراء، ججز، سول سوسائٹی کے لوگ اورصحافی کیا کہتے ہیں زیر نظر مضمون میں ان شخصیات کے بیانات کے مخصراً اقتباس پیش کیے گئے ہیں۔ پاکستان سے کشیدگی کے دوران بھارتی حکومت کی جانب سے عوام کو گمراہ کیے جانے اور جھوٹے دعوے کرنے پر مودی کو اپنے ہی ملک میں مشکل سوالات کا سامنا ہے، اپوزیشن سمیت ایک موجودہ، 3 سابق وزرائے اعلیٰ و ریاستی وزیر نے پاکستان میں حملے کو بھارتی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ناکام ہوگئی، بالاکوٹ حملے کے ثبوت دے۔

چندرا بابو نائیدو نے کہا ہے کہ جو بھی مودی کے خلاف بات کرتا ہے اس کے خلاف کیسز بنادیے جاتے ہیں، مایا وتی نے کہا ہے کہ مودی نے ملکی سلامتی کے معاملات کو نظر انداز کردیا، شیلہ دکشت نے کہا ہے کہ مودی نے سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی، محبوبہ مفتی نے کہا کہ بالا کوٹ آپریشن پر سوال کرنا ہمارا حق ہے، پریانک خرج نے کہا کہ دو تین روز میں سچ سامنے آجائے گا جبکہ سرندرا جیت سنگھ نے اعتراف کیا کہ بالاکوٹ حملے میں کوئی انسانی نقصان نہیں ہوا۔ بھارتی وزیر مملکت سرندرا جیت سنگھ آہلووالیہ نے بالاکوٹ حملے سے متعلق بھارتی انتہا پسند میڈیا کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بھارتی فضائیہ کی کاررو ائی محض وارننگ تھی اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

بھارت کے معروف ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے صحافی رویش کمار نے کہا ہے کہ ”بھارت کے نیوز چینلز“ گرافک وار رومز ”بن چکے ہیں اور ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان کے حوالے سے بیانیے میں بھارتی حکومت کے موقف کی تائید کریں۔ رویش کمارکے مطابق جو صحافی ایسا کرنے سے انکار کرتے ہیں انہیں سوشل میڈیا پر زبردست تنقید اور مذاق کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارتی ٹی وی چینلوں پر جاری تبصرے انتہائی خراب ہیں، یہ ادارے تنازع پر نہیں بلکہ تنازع کو حکمران جماعت کے الیکشن میں فائدے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ اس جنگی جنونیت کا مقصد عوام کو ایک مخصوص سمت میں لے جانا اور ان سے ووٹ حاصل کرنا ہے۔ “

سابق بھارتی جج مرکنڈے کاٹجونے کہا ہے کہ ”وزیراعظم عمران خان کی تقریر سے متاثر ہوا ہوں، عمران خان کی تقریر میں فہم اور تحمل کا پیغام تھا، جبکہ بھارتی سیاستدان جنگی جنون پیدا کررہے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں نے ابتداءمیں عمران خان پر تنقید کرتا تھا۔ لیکن وزیراعظم عمران خان کی تقریر سے معلوم ہوا کہ وہ امن کے خواہاں ہیں۔ “

بھارتی صحافی راج دیپ سردیسائی نے بھارتی حکومت اورمیڈیا کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”بالاکوٹ حملے پر قومی سلامتی کے ساتھ کھیل بند کیاجانا چاہیے۔ راج دیپ سردیسائی نے سوشل میڈیا پر لکھاکہ بھارتی فضائیہ نے پیشہ ورانہ کارروائی کرکے پاکستان کو زبردست پیغام دیا لیکن بھارتی میڈیا کی مدد سے غیرتصدیق شدہ اموات منظر عام پر لانے کا فیصلہ کس کا تھا؟ بھارتی صحافی نے سوالیہ انداز میں لکھا کہ 300 سے 350 افراد کے مارے جانے کی خبرحکومت، پارٹی کے آئی ٹی سیل نے دی یا صرف میڈیا کہ قیاس آرائیاں تھیں؟ “

بی جے پی کا سابق رکن اوی دندیا بھارتی نژاد امریکی شہری سابق بھارتی پائلٹ کے بیٹے ہیں، انہوں نے مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا مکروہ چہرہ نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ الیکشن جیتنے کی ضد میں بی جے پی اپنے ہی فوجیوں کی خون کی ہولی کھیلنے لگی۔

بھارتی نژاد امریکی شہری نے اپنا دعویٰ درست ثابت کرنے کے لیے بی جے پی کے تین رہنماؤں کی مبینہ گفتگو انٹرنیٹ پر بھی جاری کر دی، جس میں ایک لیڈر کہتا ہے ”چناؤ کے لئے یدھ (جنگ) کرنا ضروری ہے، جس پر دوسرے نے جواب دیا کہ فورسز کے لئے دیش بہت جذباتی ہے اس لیے یہیں گڑبڑ کرانا ہو گی، اس پر خاتون رہنما پوچھتی ہیں کہ کیا آپ جوانوں کو مروانا چاہتے ہیں؟ “

بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا حکومت کو بھی اپنے مشن کی کامیابی پر شکوک و شبہات ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نے ایئر فورس کے لیے رافیل طیاروں کی خریداری میں تاخیر کا ذمہ دار اپوزیشن کو قرار دیتے ہوئے، اسے پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں ہونے والے نقصان کی وجہ قرار دیا تھا۔ کانگریس نے اپنے بیان میں کہا کہ نریندر مودی یہ بیان دے کر کہ ”ملک کو رافیل طیاروں کی کمی کا سامنا ہے، اگر یہ طیارے بھارت کے پاس ہوتے تو نتائج مختلف ہوتے“ بذات خود پاکستان میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کارروائی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

معروف بھارتی ناول نگار اور انسانی حقوق کی علمبرداراروندھتی رائے مودی بارے لکھتی ہیں ”مودی نے پلوامہ حملے کو جواز بنا کر پاکستان پر حملہ کر کے مسئلہ کشمیر کو عالمی حیثیت دے ڈالی۔ انگریز سرکار (برطانوی حکومت) سے اپنی آزادی کی جدوجہد کو گراں قدر سمجھنے والے اور اس جدوجہد کی قیادت کرنے والوں کی پوجا کرنے والے بھارتی لوگ ان کشمیریوں کو نہیں سمجھ سکتے جو اسی مقصد کے لئے لڑ رہے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ساری اچھل کود“ پیشگی حملے ”کی بجائے“ الیکشن کی پیشگی تیاری ”لگتی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے پاکستان میں صحافی بھیجے جہاں بم گرانے کا دعویٰ کیا گیا۔ رائٹرز نے رپورٹ دی کہ صرف درختوں اور چٹانوں کو نقصان پہنچا ہے اور صرف ایک مقامی شخص زخمی ہوا ہے۔ اسی طرح کی رپورٹ ایسوسی ایٹڈ پریس نے دی۔ بھارت کے بڑے میڈیا اداروں نے رائٹرز کی خبر جاری نہیں کی۔ ہم ایسے شخص کو وزیر اعظم نہیں بناسکتے جس نے نشے میں اربوں افراد کے ملک کی معیشت کو تباہ کردیا۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس بحران میں با وقار اور دیانتدارانہ کردار ادا کیا۔ ”بھارت کی مذکورہ اعلیٰ شخصیات کے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے جنگی جنون بارے آراءسے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مودی نے جس جنگ کا آغاز پاکستان کے خلاف کر رکھا تھا مودی وہ جنگ اپنے گھر میں ہار گئے ہیں.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •