انڈیا نے خود کو ہی شرمندہ کروا دیا


اگر کوئی شخص آپ سے پوچھے کہ انڈیا کی شناختی علامات بتائیں تو آپ بلاتعصب کہیں گے کہ انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جس نے باوجود کثیرالقومی اختلافات کہ معجزانہ طور پر جمہوری نظام کو بلاتعطل جاری رکھا ہوا ہے۔ آپ یہ بھی کہیں گے کہ بھارت ایک سیکیولر ملک ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ کہ بھارت کشمیر کے حق خودارادیت کا احترام نہیں کر رہا اور فسادات کے دوران اپنا پلڑا ہندو اکثریت کی طرف رکھتا ہے لیکن اگر وہاں موجود ہندو اکثریتی دباؤ کو دیکھا جائے تو ان حالات میں سیکیولر امیج بنائے رکھنا قابل تعریف ہے۔ حتی کہ بی جے پی واضح اکثریت لے کر بھی سیکیولر روایات کے خلاف قانون سازی میں ناکام رہی۔ علاوہ ازیں گجرات، مہاراشٹر اور یو پی کے علاوہ قریباً تمام انڈین ریاستیں سیکیولرازم پر سختی سے کاربند ہیں۔

تیسرا بڑا حوالہ انڈیا کا بین الاقوامی تاثر ہے جو گزشتہ تین دہائیوں سے مثبت انداز میں ابھرا ہے۔ اگرچہ سرد جنگ کے دور میں انڈیا کا جھکاؤ سوویت یونین کی جانب رہا لیکن انڈین رہنماؤں نے کمال چالاکی سے اس کو سیاسی مجبوری قرار دے کر، ریاستی پالیسی کو غیر جانبداریت میں ملبوس رکھا۔ نوے کی دہائی سوویت سیاسی مجبوری کے خاتمے کے بعد عالمی معاشی آزادی نے بھارت کو اس کی آبادی اور جغرافیے کے باعث بآسانی ابھرتی طاقت کا درجہ دے دیا۔

کثیر آبادی، وسیع رقبہ اور جمہوری روایات نے مغربی سرمایہ دار طبقے کو چین کی کمی کو محسوس نہیں ہونے دی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر انڈیا نے اس موقع سے خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھایا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انڈیا عالمی منظرنامے میں نمایاں ہونے کے لئے کشمیر کے مسئلہ کا مناسب طور پر حل نکالتا اور پاکستان کو ساتھ لے کر چلتا جیسا کہ امریکہ نے دوسری عالمی جنگ کے بعد کینیڈا کو اپنے علاقائی حلیف کے طور یورپ کے مدمقابل لاکر اپنا وزن برابر بلکہ برتر رکھا۔ تاہم انڈیا اپنی تنگ اور متشکک سوچ کے باعث علاقائی برتری تک ہی الجھا رہا۔

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے وسط میں جب امریکہ نے انڈیا کے ساتھ نیوکلئیر معاہدہ کر کے پاکستان کو افغانستان کے ساتھ جوڑ کر افپاک کی طرح ڈالی تو اس سے دنیا کو واضح پیغام گیا کہ اب مغرب بھارت کو پاکستان کے تناظر میں نہیں، بحر ہند کی طاقت کے طور پر دیکھناچاہتا ہے۔ اس تبدیلی نے انڈیا پر نمایاں اثرات ڈالنا شروع کردیے۔ مائیکروسوفٹ، فیس بک سمیت ملٹی نیشنل کمپینیز کا بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لئے دوڑے چلے آنا، علاقائی تنظیموں کی بھارتی شمولیت پر دلچسپی دکھانا، عالمی اسپورٹس تنظیموں بالخصوص آئی سی سی کا ناز نخرے اٹھانا، روس اور یورپی ممالک کا اسلحہ بیچنے کے لئے رعایتی پیکیجز آفر کرانا، عرب ممالک کی گرمجوشی سمیت ترقیاتی عوامل نے کم از کم ہم پاکستانیوں کو انڈیا سے بے پناہ مرعوب کیا۔

مجموعی طور پر چودہ فروری دو ہزار انیس تک یہ تاثر بن چکا تھا کہ انڈیا معاشی و دفاعی طور پر چین کے برابر نہیں تو کم از کم اس کو چیلنج کرنے کی صلاحیت حاصل کرچکا ہے۔ برکس کا سرگرم رکن ہے، سلامتی کونسل میں مستقل سیٹ کی راہ ہموار کرتا جارہا ہے۔ نیوکلئیر سپلائر گروپ کا ممبر بھی بننے کو آیا ہے۔ ایشیا میں مغربی سرمایہ کاری کی اولین ترجیحات میں شامل ہوچکا ہے اور روس اور یورپی ممالک دفاعی سازوسامان بیچنے کے لئے رعایتی نرخ پر بیچنے کو تیار بیٹھے ہیں۔

علاقائی تناظر میں ایران شکرگزار بن چکا ہے تو افغانستان تابعدار۔ سری لنکا اور بنگلہ دیش پہلے ہی ممنون ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکہ انڈیا کو بحرہند کی کنجیاں عطا کرنے کا خواہاں ہے۔ لیکن پلوامہ حملے پر انڈیا کے ردعمل کے رویے نے سارے شائننگ انڈیا کے غبارے سے ہوا نکال دی۔ ایک تیسرے درجے کی ریاست کے انداز میں بلاتحقیق ہمسایہ ملک پر دہشت گردی کا الزام لگانا اور پھر اس ہمسایے کی تعاون کی یقین دہانیوں کے باوجود خفیہ ہوائی حملہ کرنا اور پھر اس کی ناکامی کی جگ ہنسائی۔

یہ تمام رویے ہرگز ایک عالمی جمہوری معاشی طاقت کے شایان شان نہیں۔ امریکہ میں جب نائن الیون سانحہ ہوا تھا تو اس نے اقوام متحدہ اور نیٹو کی ہمراہی کو یقینی بنایا تھا۔ یورپ کے کسی ایک ملک میں بھی دہشتگردی ہوتی ہے تو متاثرہ ملک پورے براعظم کو ساتھ بٹھا کر دباؤ تقسیم کرلیتا ہے۔ لیکن اس کیس میں انڈیا نے سارک ممالک کو تو دور کی بات اپنے مغربی اتحادیوں تک کو اعتماد میں لانے کا بھرم نہیں رکھا اور ایک غیرریاستی تنظیم کے حملے کے نتیجے میں ایٹمی جنگ کا خطرہ چھیڑ بیٹھا اور ثابت کردیا کہ انڈین جمہوریت محض سیاسی نعرہ ہے، سماجی رویہ نہیں۔ محض ایک حملے نے انڈیا کی تمام تر عظمت کو زمین بوس کردیا۔

اگر اس موقع پر پاکستان کا رویہ مثبت اور عقلمندی والا نہ ہوتا تو انڈیا نے تو طیارے بھیج کر جنگ چھیڑ دی تھی۔ انڈیا کے اس بچگانہ رویے نے انڈیا سے زیادہ ان مغربی قوتوں کو شرمندہ کیا ہے جو اس کو ایشیا کا چیمپین بنانے پر تلی ہوئی ہیں۔

Facebook Comments HS