الیکشن جیتنے کے بعد جتنی شدت سے کپتان کی کابینہ ٹیم کے انتخاب کا تجسس تھا اتنا شاید ہی کسی اور کام کا ہوگا۔ بعض کارکنان نے تو سوشل میڈیا پر ڈریم ٹیم بھی چلادی تھیں۔ اس وقت کپتان کا یہ جملہ بھی کانوں میں گونجتا تھا کہ میں ایک بہترین ٹیم دوں گا۔ لیکن پھر سب نے دیکھا کہ کپتان کی ٹیم کی سیلیکشن ”پرچی“ کی نذر ہوگئی۔ مشرف دور کے وزرا نے فوراً اپنی اپنی وزارتیں بحال کروالیں اور جو باقی بچیں وہ پی ٹی آئی کے ممبران کے حصے میں آگئیں۔
ٹیم کے ہر کھلاڑی کے ساتھ نرالا انداز اپنایا گیا۔ نعیم الحق کی جگہ فواد چودھری کو دی گئی اور اس کے ساتھ ہی افتخار درانی جیسا فطین انسان دیا جس کی مدد سے پہلی بار عوام نے ہزار کروڑ، ہزار ارب قسم کے کرپشن کے اعداد و شمار سنے اور بے مقصد بحث کا ایک وسیع و عریض میدان مل گیا۔ قانون کی وزارت فروغ نسیم کو دینے کے بعد شہزاد اکبر کو بھی ساتھ جوت دیا یعنی کہ زمینی حقائق اور سازشی تھیوریوں کا ملغوبہ بن سکے۔ پی ٹی آئی کے دماغ اسد عمر کے ساتھ ڈاکٹر عشرت حسین کا ہمزاد مسلط کردیا گیا۔
Read more