سندھ میں عالمی خواتین دن منعقد کرنا کیوں زیادہ ضروری ہے؟


ہر سال کی آٹھ مارچ پر منعقد ہونے والا عالمی خواتین دن عنقریب مگر ایک سوال سب کے ذہنوں میں پیدا کر رہا ہے۔

عالمی سطح پر اس دن کا منعقد کرنے کا بنیادی سبب تو عورت اور مرد کے درمیاں ہونے والا واضح امتیازی سلوک ختم کرنے کی ایک چھوٹی سے کوشش ہے۔ جس میں عورتوں کو مرد کے برابری دلانا اہم کردار ہے۔ چاہے وہ اقتصادی برابری ہو، قانونی ہو یا سیاسی معاشرے کے ہر پہلو پر تحریک نسواں اہم کردار نبھا رہی ہے۔

مگر خاص طور پر اس دن کا انتخاب کیوں؟ اس کی بھی ایک مختصر سی کہانی ہے۔ 1901 میں امریکا کی قائم ہونے والی سیاسی جماعت، سوشل ڈیموکریٹک پولیٹیکل پارٹی نے نیو یارک میں 28 فروری 1909 کو خواتین کا دن منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے سے مختلف ممالک نے یہ منقعد کرنا شروع کردیا جو اب عالمی سطح پر زور و شور سے جاری ہے۔

جب ہم اپنے ملک پاکستان خاص طور پر سندھ کی خواتین کے سماجی اور سیاسی حالات کا جائزہ لیں تو ہم ایک دردناک نتیجے پر پہنچیں گے۔ کیوں کہ سندھ کے خواتین خاص طور پر دیہی علاقے کی خواتین کو اپنے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ ان کی علم کی کمی ہے۔ سندھ میں خواتین کی آبادی میں سے نصف سے زیادہ آبادی ہے اور اقتصادی اور سماجی ضرورت کے لئے ان کو تعلیم مہیا کرنا ضروری ہے۔

مگر افسوس کے سندھ میں خواتین انتہائی بدتر حالت میں ہیں۔ انہیں زندگی کے کسی بھی میدان میں حصہ لینے کی اجازت نہیں۔ اندرون سندھ میں، خواتین کا کردار صرف گھر میں بیٹھنا ہے اور دوسرے طبقے کے شہری کی زندگی بسر کرنا ہے۔ سندھ کی اندرونی طرف، غربت کے اندر دیہی خواتین کی حالت بہت خراب ہے۔ خواتین کی غریب اقتصادی صورتحال نے انہیں معاشرے میں ایک کمزور حیثیت کا مقام دیا ہے۔ خواتین کی اکثریت ناگزیر اور غیر معمولی ہے اور خاندان میں کوئی بھی حیثیت نہیں ہے۔

سماجی، اقتصادی اور نفسیاتی دباؤ سے غریب خاندانوں کی خواتین پر گھریلو تشدد بہت عام ہے۔ ان کے شوہر اور باپ ان کو گھر کے کسی فیصلے میں کوئی حق نہیں دیتے۔ چار دیواری تک انہیں محدود کرنے اور علم کی کمی کی وجہ سے اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

ان علاقوں میں ایسی تقریبات کرنا لازم ہے جہاں ان کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے لڑنے میں مدد دی جائے۔ خاص طور پر اس عالمی خواتین دن کے موقعے پر ان جگہوں پر نطر ثانی کرنا لازم ہے۔ سندھ کے مختلف علاقوں میں یہ دن منعقد کرنا اس لئے بھی زیادہ ضروری ہے کیوں کے یہ وہ علاقہ ہے جہاں کارو کاری بہت بری طرح سے روایات میں شامل ہو چکا ہے۔ اس شرمناک روایت کے آڑ میں نا جانے کتنی خواتین کو مٹی میں ملایا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، سندھ میں تقریبا 95 فیصد رپورٹ کارو کاری کے معاملات خواتین پر غلط دعوی کرنے سے ہوتے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل صرف کارو کاری تک محدود نہیں ہے، اس میں بہت سے دوسرے فارم ہیں :

ہندو معاشرے نے ایک روایتی طرز عمل کا استعمال کیا جس کو ستی کا نام دیا گیا ہے۔ اس رواج کے مطابق شوہر جب مر گیا تو ایک خاتون اپنے شوہر کے ساتھ جلائی جاتی تھی۔

خواتین پر تشدد ایک روایت بن چکی پے جو آسانی سے مسمار نہیں ہوسکتی۔ مگر خاتون کے تحفظ پر صرف ایک مضبوط آئین جنسی استحصال کے معاملات کی تعداد کو کم کر سکتا ہے۔ پاکستان میں عدالتوں نے خواتین کے تحفظ کے قوانین کو اپنایا ضرور ہے لیکن عام طور پر ان کی خلاف ورزی کی گئی ہیں۔ یہ قانون کی طرف سے شہریوں کی ذمہ داری ہے۔ اور جب ایک عورت خود اپنے لئے آواز نہیں اٹھائے گی کوئی اس کی مدد نہیں کر پائے گا اور اس کی آواز میں دم لانے کے لئے انہیں شعور دینا لازم ہے۔ ان تک علم پہنچانا اور انہیں اپنے حقوق کا بتانا بھی ضروری ہے۔

Facebook Comments HS