سردی مفید ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے یہاں کئی اقسام کے موسم ہوتے ہیں، بنیادی طور پر پانچ ہوتے ہیں مگر سال میں ان کی تعداد چار ہوتی ہے، سٹھیا نہیں گیا، میں بالکل صحیح بیان کر رہا ہوں، جس طرح اگر کہوں کہ سال میں تین سو چھیاسٹھ دن ہوتے ہیں تو آپ پکار اٹھیں گے کہ اس کے دماغ کی چولیں ہل چکی ہیں مگر جب وضاحت کردوں کہ لیپ کا سال تین سو چھیاسٹھ دن کا ہوتا ہے، تو آپ میری بات سے اتفاق کریں گے۔

اسی طرح موسموں کی تعداد بھی پانچ ہے جیسا کہ سردی، بہار، گرمی، خزاں اور انتخابات کا موسم مگر سردست یہاں موسم سرما کی بات اور اس کے فوائد سے آگاہ کریں گے۔

موسم سرما کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس موسم میں گرمی نہیں لگتی نہ ہی پسینہ آتا ہے اور نہ ہی اس کی گندی بدبو سے پالا پڑتا ہے۔

’سونو‘ اور ’جانو‘ کے لیے بھی سردی اس لحاظ سے پرکشش ہے کہ اس کی رات طویل ہوتی ہے جس سے ان کا یہ شکوہ ختم ہو جاتا ہے کہ ابھی بات شروع ہی کی تھی کہ تارے ڈوب گئے اور انکل ”شمس“ نے تانکا جھانکی شروع کر دی۔

یہ بات تو سچ ہے کہ سرد موسم میں ہر چیز سکڑ جاتی ہے مگر عاشقوں کے لیے اس میں بھلائی ہے کہ رات بجائے سکڑنے کے پھیل جاتی ہے۔

سرما اس لیے بھی مفید ہے کہ بندہ بیس روپے کی مونگ پھلی لے کر اپنی جیب میں ڈال کر سارا دن مرغے کی طرح چگتا رہتا ہے، اسی طرح سردی کی دیگر سوغات (ڈرائی فروٹ ) کو بھی پاکٹ میں ڈال کر مزے لے لے کر کھا سکتا ہے جبکہ اس کے برعکس گرمی کی سوغات قلفی یا آئسکریم اسے ایسا سلوک نہیں کرنے دیتیں۔

سردی کے دنوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے بغیر استری کیے شرٹ کو پہنا جاسکتا ہے اور اپنی اسی سستی پر کوٹ کی مدد سے پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔

کمبل اور رضائی کا لطف صرف موسم سرما میں ہی اٹھایا جا سکتا ہے جبکہ یہ سہولت کسی اور موسم میں دستیاب نہیں ہوتی۔

سردی کے دنوں میں ایک خان صاحب باہر سے آئے تو کچھ دوست کمرے میں الاؤ روشن کیے آگ سینک رہے تھے، خان صاحب چوکڑی مار کر الاؤ کے قریب بیٹھے، حرارت پہنچی تو یوں دعا کی، یا پاک پروردگار! اگلے جہان میں بھی ایسی ہی آگ عطا فرما۔

موسم سرما خواتین کے لیے کسی رحمت سے کم نہیں کیونکہ سردی کے دنوں پسینہ نہیں آتا جس کی وجہ سے ان کی اصلی صورت میک اپ کی تہوں میں پنہاں رہتی ہے۔

سردی اس لیے بھی مفید ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء تادیر خراب نہیں ہوتیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ موسم سرما کی آمد کا پتا کیسے چلتا ہے، جی ہاں جو آپ سوچ رہے ہیں وہ تو ہے ہی سہی کہ سردی لگنے لگ جاتی ہے، دانت بجتے ہیں، دھند کا بسیرا ہوتا ہے، منہ سے بھاپ کا اخراج ہوتا ہے مگر حکومتی سطح پر بھی اس کی آمد کی اطلاع کا انتظام کیاجاتا ہے جب گیس کی لوڈشیڈنگ ہونا شروع ہو جائے تو سمجھ لیں کہ موسم سرما آ چکا ہے اور بجلی کی آنکھ مچولی سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ گرمی صاحبہ تشریف لا چکی ہیں۔

سرد موسم کا سب سے زیادہ فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان صبح صبح نہانے کی زحمت سے بچا رہتا ہے، کیونکہ ہمت نہیں ہوتی، اگر کوئی باہمت واش روم گھس میں جائے تو شاور کی زیارت سے اسے تسلی ہو جاتی ہے کہ بس نہا لیا ہے۔

ٹھنڈے موسم میں آپ دھوپ کو انجوائے کر سکتے ہیں جبکہ گرمی میں دھوپ سے بچاؤ کی تدابیر کرنا پڑتی ہیں۔

سرد موسم کی شروعات، درمیان یا اختتام میں کنواروں کو بڑے ذوق و شوق سے قربان کیا جاتا ہے اور شدید کنوارے بھی سرد موسم میں گرم جذبات کے ساتھ ہنستے مسکراتے، کھلکھلاتے اور قہقہے لگاتے خوشی خوشی خود کو ہونے والی بیگم پر قربان کیے جاتے ہیں۔

سرد موسم اختتامی مراحل میں ہے اپنے گرم جذبات سے اپنے اپنے انداز میں الوداع کر دیجئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •