مادری زبانوں کا معاملہ


میں نے اور میرے چند دوستوں نے چار سال اور چند مہینے قبل اسلام آباد میں انڈس کلچرل فورم نامی تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ تمام احباب کا تعلق سندھ سے تھا جو اسلام آباد میں مختلف ملازمتوں کے سلسلے میں قیام پذیر تھے۔ ہم سب کا اپنی ثقافت اور زبان کے ساتھ لگاوٗ تو تھا ہی لیکن جیسا کہ کہتے ہیں کہ آپ اگر اپنی ماں کی عزت کرتے ہیں تو آپ کو سب ماوٗں کی عزت کرنی پڑے گی تو ہم سب ایک ایسا بیڑا اٹھانے کو تیار ہوئے جس کی پاکستان میں اشد ضرورت تھی اور ہے۔

ہم پاکستان میں ہونے والے تمام ادبی میلوں سے متاثر تھے، ان کی افادیت کے بھی قائل تھے تاہم کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں سجنے والے ادبی میلوں میں انگریزی اور اردو کے علاوہ باقی تمام زبانوں کو غائب دیکھتے تھے۔ حتیٰ کہ اردو کی نمائندگی بھی برائے نام یا چند بڑے ناموں کی صورت میں ہوا کرتی تھی۔ ان میلوں کے مقررین سے لے کر شرکاء تک سب کو اپنی اپنی پسند کے موضوعات پر بات کرنے، اپنی مرضی کی کتابوں کے مصنفین سے ملنے سمیت اپنی تعلیمی، علمی اور ادبی ضروریات کے مطابق مواد دیکھنے اور سننے کا موقع مل جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق پاکستان میں 65 سے لے کر 75 زبانیں بولی یا پڑھی جاتی ہیں۔ لہٰذا کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں ہونے والے ادبی میلوں سے یہ توقع کرنا کہ وہ تمام تر زبانوں کی نمائندگی کریں، غیر حقیقت پسندانہ بات ہوتی۔

کراچی میں عالمی اردو کانفرنس کی بنیاد، شاید ان ہی میلوں میں اردو کو نمایاں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے رکھی گئی۔ دیگر زبانوں جیسے کہ پنجابی کی نمائندگی کے لئے فیصل آباد میں سلیکھ فیسٹیول کا انعقاد ہوا، کراچی ہی میں سندھ لٹریچر فیسٹیول، حیدرآباد میں حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول اور خیرپور لٹریچر فیسٹیول میں سندھی زبان و ادب پر بات ہونے لگی۔ حیدرآباد اور سندھ لٹریچر فیسٹیول تو سندھی اور اردو ادیبوں کو بھی ایک دوسرے کے قریب لانے کا انتہائی اہم کام سرانجام دینے لگے۔

لیکن ہمیں لگا کہ انگریزی محاورے (Elephant in the room) کی مانند پاکستان میں ثقافتی اور لسانی تنوع کی بات پھر بھی نظر انداز ہو رہی تھی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے انڈس کلچرل فورم نے اس وقت کی لوک ورثہ کی سربراہ فوزیہ سعید کے ساتھ مل کر 2016 میں پاکستان کی مادری زبانوں کے ادبی میلے کی بنیاد رکھی۔ انڈس کلچرل فورم کے اراکین کے علاوہ اسلام آباد اور اس سے باہر متعدد ادبیوں، شاعروں اور دانشوروں، جو مختلف زبانوں کی نمائندگی کرتے ہیں، پر مشتمل ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دی گئی جو مختلف زبانوں کے ادب کے بارے میں متواتر معلومات فراہم کرتی رہتی ہے۔

اس میلے کے لئے 21 فروری سے زیادہ مناسب دن کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا اور ہماری خوش قسمتی کے اس سال 21 فروری ہفتے کے روز پڑا۔ اس سلسلے کے چار میلے منعقد کیے جاچکے ہیں۔ جس سال 21 فروری ہفتہ یا اتوار کے دن نہیں آتا تو اس سے ایک ہفتہ قبل یہ دو روزہ میلہ سجایا جاتا ہے۔ اس سال کا میلہ 16 اور 17 فروری کو لوک ورثہ اسلام آباد میں منعقد کیا گیا۔ میلے کی تفصیلی روداد مختلف مضامین اور اخباری رپورٹس کی صورت میں شائع ہوتی رہی ہے، تاہم یہاں میں اس میلے کے چند اہم پہلووٗں کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں تاکہ قارئین کو یہ بتایا جا سکے کہ ہم اس میلے سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور کیا حاصل کر رہے ہیں۔

مادری زبانوں کی نمائندگی

ہم کسی لسانی مباحثے میں پڑے بغیر زبانوں کی طرف انسانی حقوق پر مبنی رویہ رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بھی گروہ کسی زبان (چاہے وہ مکمل زبان ہو، لہجہ ہو یا کسی زبان کی شاخ ہو ) کی نمائندگی مانگتا ہے اور اس میں ہونے والے کام کی نشاندہی کرتا ہے تو ان کو بخوشی نمائندگی دی جاتی ہے۔ ہم کسی زبان کو چھوٹی، بڑی، علاقائی یا صوبائی زبان کے خانوں میں قید نہیں کرتے۔ تاہم لامحلہ ان زبانوں کی نمائندگی زیادہ نظر آتی ہے جن زبانوں میں کتب نویسی کا کام زیادہ ہو رہا ہے۔

ان میں اردو، سندھی، سرائیکی، پنجابی، بلوچی، براہوئی، پشتو، ہندکو، پہاڑی وغیرہ جیسی زبانیں شامل ہیں۔ ان زبانوں میں شائع ہونے والے ادب، کتابوں وغیرہ پر زیادہ بات ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ادبی پہلو زیادہ نمایاں ہوتا ہے اور جیسا کہ ادبی میلوں کا ایک کام کسی زبان میں ہونے والے تازہ ترین کام کو اجاگر کرنا ہے تو ہمارا میلہ مذکورہ اور دیگر زبانوں میں ہونے والے ادبی کام کو اجاگر کرنے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔

جن زبانوں میں نیا ادب یا کتابیں منظر عام پر نہیں آ رہیں، ان کے بارے میں بات ہوتی ہے، انہیں معدومی سے بچانے کی تدابیر کا تذکرہ ہوتا ہے اور ان کی نمائندگی موسیقی یا دیگر موجود مواد کی صورت میں ہوتی ہے۔ بہر صورت ہمارے میلے کو لسانیات کی کسی کانفرنس کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا جو کسی یونیورسٹی یا بڑے قومی ادارے کی جانب سے منعقد کروائی جاتی ہیں یا کروائی جانی چاہئیں۔

مادری زبانوں کی آئینی حیثیت

پاکستان میں زبانوں کا مسئلہ اس کے قیام سے لے کر آج تک ایک سنگین، سنجیدہ اور حساس معاملہ ہے۔ ہم اس معاملے کی تاریخ میں نہیں جاتے تاہم ایک عمومی رویہ یہ پایا جاتا ہے کہ جب کوئی مادری زبانوں کی اہمیت کی بات کرتا ہے تو اس کو قومی زبان قرار دی گئی اردو کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 28 اور 251 میں زبانوں، سکرپٹ اور ثقافتوں کے تحفظ اور ترویج کی بات کی گئی ہے۔ جب ہم پاکستان کی تمام زبانوں کو یکساں اہمیت دینے کی بات کرتے ہیں تو اس کا قطعی مطلب یہ نہیں کہ اردو کو وہ مقام نہیں ملنا چاہیے جو اسے حاصل ہے۔

یہاں پر سب سے حساس لفظ قومی زبان کو سمجھا جاتا ہے، لیکن جب سندھی، پنجابی، سرائیکی، بلوچی، براہوئی، پشتو، ہندکو اور دیگر زبانوں کو قومی زبان قرار دینے کا مطالبہ ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اردو قومی زبان نہیں ہونی چاہیے۔ اگر مذکورہ زبانوں کو قومی زبانیں قرار دیا بھی جاتا ہے تو اردو کی امتیازی حیثیت برقرار رہے گی، کیوں کہ وہ ایک قومی زبان کے علاوہ ملک بھر میں رابطے کی زبان کی حیثیت میں بھی رائج رہے گی اور وہ آبادی کے ایک بڑے حصے کی مادری زبان کی حیثیت سے بھی ایک معتبر زبان رہے گی۔

گذشتہ حکومت کے ادوار میں اردو کے ساتھ دیگر کئی زبانوں کوبھی قومی زبانیں قرار دینے کی کوششیں کی گئیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے پیپلز پارٹی کی سسی پلیجو اور عاجز دھامراہ کی آئینی ترمیم منظور کر لی تاہم سیاسی واقعات اور ترجیحات آڑے آ گئیں اور وہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ میرے خیال میں اس آئینی ترمیم کو دوبارہ ایوان میں پیش کرکے اس کے بارے میں سیاسی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ اس دوران پاکستان میں ایک ثقافتی پالیسی کا اعلان بھی کیا گیا جس میں پاکستان کو کثیرالسانی اور ثقافتی طور پر متنوع ملک کے طور پر دنیا سے متعارف کرانے کی بات کی گئی ہے۔

لہٰذا پاکستان میں تمام زبانوں کو یکساں حیثیت دینے سے کسی زبان کا نقصان ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں لیکن پاکستان میں بسنے والی قوموں اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی اور بھائی چارہ بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہمارے میلے میں اردو کی نمائندگی ایک مادری زبان کی حیثیت تو ہوتی ہی ہے لیکن اس کو رابطے کی زبان کے طور پر بھی رائج رکھا جاتا ہے۔ ہماری تمام تر گفتگو اردو زبان میں ہوتی ہے۔

مادری زبانوں کا ادب

گذشتہ چار سال سے پاکستان بھر کی 20 سے زائد زبانوں کے سینکڑوں ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو ایک چھت تلے جمع ہونے کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ ملک بھر کی مختلف زبانیں بولنے اور لکھنے والوں کے درمیان رابطہ بڑھا ہے۔ زبانوں کے اندر روابط کی وجہ سے اہل قلم مختلف زبانوں کے اندر لکھے جانے والے ادب کے معیار اور مقدار کے بارے میں آگاہ ہوئے ہیں۔ ادبی تنقید اور زبانوں کے موازنے کے نئے نئے امکان پیدا ہوئے ہیں۔ کئی ایسے ادیب اور شاعر بھی ان میلوں میں شرکت کر چکے ہیں جو اپنی اپنی زبان میں تو معتبر حیثیت رکھتے ہیں لیکن انہیں اسلام آباد میں قومی سطح پر اپنا کام پیش کرنے کا پہلا موقع ملا ہے۔

ہر سال کچھ ایسے ادیب بھی ہمارے ساتھ شامل ہوتے ہیں جو اسلام آباد کا سفر زندگی میں پہلی بار کر رہے ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہم نے اس سال تین کتابیں شائع کی ہیں جن میں سے ایک میں آٹھ زبانوں کے منتخب افسانوں کے اردو تراجم، دوسری میں 13 زبانوں کے شعراء کی منتخب شاعری اور تیسری کتاب میں لسانی اور ثقافتی تنوع کے موضوع پر کلیدی خطبات اور مضامین شامل کیے ہیں۔ ان کتابوں اور مزید ایسی کتابوں کے ذریعے پاکستان میں زبانوں کے درمیان روابط مزید بڑھیں گے، ترجمے کے ساتھ ساتھ دیگر ادب کو پڑھنے کے رجحان کو فروغ ملے گا اور پاکستان کے قارئین اپنی زبانوں اور ادب کا موازنہ دیگر علاقائی اور بین الاقوامی ادب کے ساتھ کر پائیں گے۔

مزید کیا ہونا چاہیے؟

ہم اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ کارواں بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ ہر زبان سے تعلق رکھنے والے ادیب شاعر اور فنکار ہمارا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔ کئی ایسے اردو بولنے اور لکھنے والے ادیب بھی اس کارواں میں شامل ہیں جنہیں یہ ادراک ہے کہ باقی زبانوں کو ان کا جائز مقام دینے سے اردو کو کوئی خطرہ نہیں۔ لیکن وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کو اس میلے اور اس جیسے دیگر میلوں کے لئے وسائل فراہم کرنے چاہئیں تاکہ پاکستان کے قارئین ایک دوسرے کی زبانوں اور ادب سے واقف ہو سکیں۔ اس میلے کے لئے سندھ حکومت کا محکمہ ثقافت، لوک ورثہ اور دیگر ملکی اور بین الاقوامی ادارے معاونت فراہم کر رہے ہیں لیکن ہماری خواہش ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت نجی شعبے کے وسائل دستیاب ہوں تا کہ اس میلے کو پائیدار بنایا جا سکے۔

حکومتی سطح پر زبانوں کی حیثیت پر مختلف سیاسی جماعتوں اور ایوان کے اندر مثبت مباحثے ہونے چاہئیں تاکہ نہ صرف آئین کی موجودہ شقوں کی رو سے زبانوں کو ان کا جائزمقام دیا جا سکے لیکن آئینی ترمیم کے ذریعے اردو کے ساتھ دیگر زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دیا جا سکے۔

مختلف وفاقی اور صوبائی اداروں کو معدومی کا شکار زبانوں کی بحالی کے اقدامات کرنے چاہئیں، ان پر تحقیق کے ساتھ ساتھ ان کے بولنے، لکھنے اور پڑھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ صوبوں کے درمیان مختلف زبانوں کے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کے دورے ہونے چاہئیں اور زبانوں کے ایک دوسرے اور خاص طور پر اردو میں تراجم کا کام ہونا چاہیے۔ اکادمی ادبیات، ادراہ برائے فروغ قومی زبان (مقتدرہ قومی زبان) اور دیگر ایسے اداروں کو اردو کے ساتھ دیگر زبانوں کی ترویج پر بھی کام کرنا چاہیے۔

نیاز ندیم، انڈس کلچرل فورم کے بانی چیئرپرسن ہیں۔ وہ سندھی زبان کے شاعر اور نثر نویس ہیں۔ ان کی شاعری اور مضامین سندھی، اردو اور انگریزی میں شائع ہو چکے ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے وہ ترقیاتی شعبے سے وابستہ ہیں۔ انڈس کلچرل فورم کی جانب سے مادری زبانوں کے ادب کے اشاعتی سلسلے کے تحت شائع ہونے والی کتاب ’منتخب شاعری‘ کے مرتب ہیں۔

Facebook Comments HS