جد دوست نہیں ہوندا: احمد سلیم کی یاد میں

احمد سلیم صاحب کے ساتھ میرا پہلا تعارف سارہ شگفتہ کے بارے میں ان کی ایک کتاب کے توسط سے اس وقت ہوا جب میں ابھی چھٹی یا ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اس کے بعد مجھ سمیت سندھ بھر میں ان کا سب سے معتبر ترین تعارف سندھ کی دھرتی، ادب، شاعری اور ثقافت کے ساتھ ان کی دلی وابستگی تھی، جس کی بنیاد سندھی زبان کے مہا کوی شیخ ایاز کے ساتھ ان کی دیرینہ دوستی تھی۔

Read more

کلاس فور کی محبوبہ: ممتاز بخاری کا سندھی ناول

کتاب: کلاس فور کی محبوبہ (ناول) مصنف: ممتاز بخاری سندھی سے ترجمہ: سمیع کندھر ناشر: سٹی بک پوائنٹ، کراچی سن اشاعت: 2022 پاکستان کی کئی زبانوں میں ادب کی شاندار روایات موجود ہیں کیوں کہ ان تمام زبانوں کا ورثہ پاکستان بننے سے بھی قبل کئی صدیوں پر محیط ہے۔ تاہم پاکستان بننے کے بعد بنگالی کے بعد سندھی وہ زبان ہے جس میں نہ صرف زبان کے تحفظ کی تحریک عوامی سطح پر موجود رہی ہے بلکہ سندھی میں

Read more

مادری زبانوں کے میلے پر اعتراضات

پاکستان کی مادری زبانوں کی ترویج و تنوع کا جشن منانے کے لیے انڈس کلچرل فورم نے اس سال چھٹا کامیاب میلہ منعقد کیا۔ کورونا کی احتیاطی تدابیر کے پیش نظر میلے کو ایک دن تک محدود کیا گیا۔ 21 فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے یہ میلہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس، حکومت سندھ کے محکمۂ ثقافت، فریڈرک ناؤمن فاؤنڈیشن، ای سی او سائنس فاؤنڈیشن، پاکستان سائنس فاؤنڈیشن، سوسائٹی فار الٹرنیٹو میڈیا اینڈ ریسرچ

Read more

عبدالقادر جونیجو: ’چھوڑو‘ ہمیں چھوڑ گیا

سندھی میں لمبی لمبی چھوڑنے کو ’ڈاڑ‘ لگانا یا ڈاڑ مارنا کہتے ہیں۔ عبدالقادر جونیجو، جو 30 مارچ کو ہمیں الوداع کہ گئے، ایک اعلانیہ ڈاڑی تھے۔ ’ڈاڑ مارنے میں کوئی ہمارا مقابلہ کرکے دکھائے تو مانیں! ‘ ۔ وہ لمبی لمبی چھوڑنے کو اس کے روایتی معنوں میں نہیں لیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ لمبی چھوڑنا دراصل ایک فکشن نگار کا بنیادی ہنر ہوتا ہے۔ آپ جس خوبصورتی اور کاریگری سے لمبی چھوڑیں گے آپ اتنے ہی

Read more

مادری زبانوں کا معاملہ

میں نے اور میرے چند دوستوں نے چار سال اور چند مہینے قبل اسلام آباد میں انڈس کلچرل فورم نامی تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ تمام احباب کا تعلق سندھ سے تھا جو اسلام آباد میں مختلف ملازمتوں کے سلسلے میں قیام پذیر تھے۔ ہم سب کا اپنی ثقافت اور زبان کے ساتھ لگاوٗ تو تھا ہی لیکن جیسا کہ کہتے ہیں کہ آپ اگر اپنی ماں کی عزت کرتے ہیں تو آپ کو سب ماوٗں کی عزت کرنی پڑے گی تو ہم سب ایک ایسا بیڑا اٹھانے کو تیار ہوئے جس کی پاکستان میں اشد ضرورت تھی اور ہے۔ہم پاکستان میں ہونے والے تمام ادبی میلوں سے متاثر تھے، ان کی افادیت کے بھی قائل تھے تاہم کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں سجنے والے ادبی میلوں میں انگریزی اور اردو کے علاوہ باقی تمام زبانوں کو غائب دیکھتے تھے۔ حتیٰ کہ اردو کی نمائندگی بھی برائے نام یا چند بڑے ناموں کی صورت میں ہوا کرتی تھی۔ ان میلوں کے مقررین سے لے کر شرکاء تک سب کو اپنی اپنی پسند کے موضوعات پر بات کرنے، اپنی مرضی کی کتابوں کے مصنفین سے ملنے سمیت اپنی تعلیمی، علمی اور ادبی ضروریات کے مطابق مواد دیکھنے اور سننے کا موقع مل جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق پاکستان میں 65 سے لے کر 75 زبانیں بولی یا پڑھی جاتی ہیں۔ لہٰذا کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں ہونے والے ادبی میلوں سے یہ توقع کرنا کہ وہ تمام تر زبانوں کی نمائندگی کریں، غیر حقیقت پسندانہ بات ہوتی۔

Read more

آج کے انتخابات اور ڈمرو کا منکہ

پی کے فلم میں جب پی کے (عامر خان) ملکی سطح پر مشہور ہو جاتا ہے اور مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اس کے مناظرے ٹی وی چینلز پر چلنے لگتے ہیں تو وہ دیہاتی ڈاکو جو زمین پر آتے ہی اسے لوٹ لیتا ہے وہ اپنے دوستوں کو بتانے لگتا ہے کہ اس کو میں نے اس مقام پر پہنچایا ہے۔ میں اس کو نہ لوٹتا تو یہ آج اس مقام پر نہیں ہوتا۔ ہماری جمہوریت کا بھی یہی حال

Read more