قبائلی مہاجرین کی زندگی اور سخت ترین سردیاں


تمام باشعور محب وطن پاکستانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ان شدید سردیوں میں اورگزئی اور بکا خیل کیمپوں کا دورہ کیجیے۔ جب آپ وہاں پر عورتوں اور بچوں کے زندگی کو دیکھیں گے تو تب آپ کو احساس ہو گا کہ کس طرح انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بد ترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ اس شدید سردی کی عالم میں بچے کیسے وہاں پر اپنی زندگی کے بھیانک دن کاٹنے پر مجبور ہیں۔ طالبان ان لوگوں نے نہیں بنائے تھے اور نہ ان لوگوں نے اسلحہ ان کو فراہم کیا تھا۔ ان پر طالبان اور مولویوں کو پاکستان کے حکمرانوں نے مسلط کیا تھا۔ کیونکہ ملک بچانے کے لئے ایسا کرنا ناگزیر تھا۔

اس بات کی ملک کو ضرورت تھی کہ پاکستان کو دشمنوں سے بچایا جائے۔ مگر اس خوفناک کھیل میں جس طرح سے قبائلی علاقے تباہ و برباد ہوئے اس کا آج تک کسی محب وطن پاکستانی نے سوچا بھی نہیں ہو گا۔ کسی بھی محب وطن پاکستانی کو وہاں انسانی ہم دردی کے تحت جانے کا اتفاق تک نہیں ہوا اور نہ ہی کسی پاکستانی میڈیا چینل نے وہاں پر عوام کی قابلِ رحم اور خوف ناک زندگی کو رپورٹ کیا۔

میں ان غیور قبائلی مشران سے پوچھنا چاہتا ہوں (جنھوں نے آج تک صرف افسران بالا کے ہاں میں ہاں ملانے اور چمچہ گیری کرنے کے علاوہ کوئی اور کام سر انجام نہیں دیا) کہ کیا آپ نے کبھی پاکستانی حکمرانوں سے آئی ڈی پیز کے مسائل پر بات کی؟ کیا وہاں سب کچھ اچھا ہے؟ کیا آپ نے اپنے مسائل کے لئے حکومتی کارندوں کو کوئی ڈیڈ لائن دی؟ کیا آپ نے کبھی کیمپوں میں رہنے والے قبائلی خواتین، بچوں اور بوڑھوں کی حالت دیکھی؟

اگر نہیں، تو آپ محب وطن نہیں بلکہ پاکستان دشمن ہیں۔ عوام دشمن بھی ہیں۔ کیا قبائلی علاقے پاکستان کا حصہ نہیں تھے؟ کیا قبائلی عوام پاکستانی نہیں تھے؟ اگر پاکستانی تھے اور ریاست ان کو پاکستان سمجھتی تھی تو پھر پنجاب اور دیگر علاقوں میں اربوں روپے کی میٹرو ضروری تھی یا قبائلی بے گھر افراد کو دوبارہ اپنے گھروں میں آباد کرنا ضروری تھا؟ میں تمام پاکستانی میڈیا کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں آپ قبائلی علاقوں میں قائم آئی ڈی پیز کیمپس کا وزٹ کیجیے۔ اگر آپ مسلمان ہیں۔ اگر آپ انسان ہیں تو پلیز ان علاقوں کے تمام بنیادی مسائل پر بغیر کسی خوف کے بات کیجیے۔

Facebook Comments HS