قومی اسمبلی میں پہلی مرتبہ نماز کی ادائیگی
پاکستان کی موجودہ قومی اسمبلی سنہ 1973 کے دستور کے نتیجے میں اپنی موجودہ شکل میں آئی۔ دستور میں واضح کیا گیا کہ ملک اسلامی جمہوریہ ہو گا اور اس کا سرکاری مذہب اسلام ہو گا۔ لیکن یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ 1973 سے چھے مارچ 2019 تک قومی اسمبلی میں نماز ادا نہیں کی گئی۔ ایک سے بڑھ کر ایک دیندار شخص اسمبلی کا ممبر بنا۔ بے شمار علما نے اس ایوان کو اپنے مبارک وجود سے تقدیس بخشی۔ لیکن یہ اعزاز جناب اسعد محمود کے حصے میں آیا کہ انہوں نے پونے چار سو اراکین کی اسمبلی میں پورے درجن بھر نمازی ممبران تلاش کر کے ان کی جماعت کھڑی کر دی۔ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ قومی اسمبلی کے ہال میں نماز پڑھی گئی۔
اللہ جانے اس سے پہلے نمازی بچارے کہاں نماز پڑھتے ہوں گے۔ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کے متعلق سنا ہے کہ پکے نمازی ہیں۔ عمران خان بھی اکثر نماز پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کو تو خاص طور پر بہت دقت ہوتی ہو گی۔ کبھی کسی برآمدے میں نماز پڑھتے ہوں گے کبھی کسی کونے کھدرے میں۔
ہم تجویز پیش کرتے ہیں کہ قومی اسمبلی میں نماز پڑھنے کے لئے باقاعدہ مسجد بنائی جائے۔ نیز جب بھی نماز کا وقت ہو، تو اسمبلی میں اذان نشر کی جائے اور اس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی کی کارروائی اسی وقت روک کر نماز کے وقفے کا اعلان کیا جائے جس میں نمازی مسجد میں جا کر اپنا فرض پورا کر سکیں۔
بعض اطلاعات کے مطابق جناب اسعد محمود کی کھڑی کی گئی جماعت کو قبلے کے رخ کا تعین کرنے میں غلطی ہوئی تھی اور وہ غلط سمت منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ جب تک مسجد تعمیر نہیں کی جاتی اس وقت تک کم از کم یہ کیا جائے کہ سپیکر کو قبلہ رو کر کے بٹھایا جائے اور تمام ممبران کی کرسیاں بھی اس طرح رکھی جائیں کہ ان کی پشت قبلے کی طرف نہ ہو تاکہ آئندہ کسی جماعت سے ایسی غلطی نہ ہو۔
اگر قومی اسمبلی میں پہلے ہی سے کوئی مسجد بنی ہوتی اور اذان کی صدا کے ساتھ ہی نماز کی بریک ہوتی تو اس طرح چھوٹے مولانا کو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر درجن بھر افراد کی جماعت کروانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ بہرحال قومی اسمبلی کے ہال میں عبادات کی ادائیگی کا رواج اچھی روایت ہے اور بعض امکانات ہمارے ذہن میں آ رہے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام والے تو خیر دیوبندی مسلک کے افراد ہیں۔ ماحول تو اس وقت دیکھنے والا ہو گا جب بریلوی حضرات بھی قومی اسمبلی کو اپنی مذہبی تقریبات کے لئے استعمال کریں گے۔ نمازوں سے ہٹ کر بہت سے اعمال و افعال ہیں جنہیں بریلوی مسلک میں باعث ثواب سمجھا جاتا ہے۔ شاہ محمود قریشی صاحب جیسے بڑے پیر وہاں موجود ہیں۔ ممکن ہے کہ کوئی عرس ہی کروا دیں۔ قومی اسمبلی کے ہال میں قوالوں کی ٹولیاں لانے کی اجازت تو شاید نہ ملے مگر اس کے بہترین ساؤنڈ سسٹم پر ریکارڈنگ تو چلائی جا سکتی ہے۔ سپیکر کارروائی کر رہے ہوں گے، اچانک ہال میں قوالوں کی صدائیں گونجیں گی اور ممبران اسمبلی حال کھیلنے لگیں گے۔
اب ادھر ایک معاملہ کچھ پریشان کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی شق 20 الف واشگاف الفاظ میں کہتی ہے کہ ”ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہو گا“۔ ظاہر ہے کہ اسمبلی کے غیر مسلم اراکین کو بھی اپنے اپنے مذہبی فرائض ادا کرنے کی اجازت دینی پڑے گی۔ یعنی قومی اسمبلی کے ہال میں اب ہولی کے رنگ بھی اچھالے جائیں گے اور دیوالی کے دیپ بھی جلیں گے اور کرسمس اور ایسٹر کی تقریبات بھی ہوا کریں گی۔ ممکن ہے کہ ہیلووین بھی منایا جانے لگے۔ کوئی رکن اسمبلی بھالو بنا ہو گا تو کوئی خون آشام ڈریکولا۔
ایک صاحب جنہیں قومی اسمبلی جانے کا اتفاق ہوا ہے یہ بتا رہے تھے کہ ادھر اسمبلی میں اذان بھی گونجتی ہے اور اسے سنتے ہی کارروائی روک کر نماز کا وقفہ کر دیا جاتا ہے۔ ادھر اسمبلی ہال سے دو قدم کے فاصلے پر مسجد بھی بنی ہوئی ہے جہاں اراکین باجماعت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اور یہ کہ ان درجن بھر افراد نے اصل میں ”نماز احتجاج“ ادا کی تھی کیونکہ سپیکر قومی اسمبلی انہیں فیصل واؤڈا کے خلاف مذمتی قرارداد لانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے، بلکہ مصر تھے کہ مالیاتی بل پیش کیا جائے۔
سپیکر صاحب کو خیال کرنا چاہیے تھا۔ قوم کی زندگی میں مال کی وہ اہمیت کہاں جو مذمت کی ہے۔ مذمت کرنے دیتے۔ بلکہ اسمبلی میں ہڑتال کروا دیتے۔ اب بھلا اچھے رہے کہ نماز احتجاج کی ریت ڈلوا دی۔
بہرحال یہ سب بڑے لوگوں کی باتیں ہیں۔ ہمیں آپ کو یہ سمجھ نہیں آئیں گی۔ ایک نہایت قدیم لطیفہ یاد آ رہا ہے۔ اس سے ہی لطف کشید کرتے ہیں۔ ایک مولوی صاحب ایک مرتبہ ٹرین میں سفر کرنے لگے۔ ٹکٹ خریدنا وہ تصنیع اوقات سمجھتے تھے۔ جب ٹی ٹی چیک کرنے آیا تو وہ نیت باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ ٹی ٹی آگے چلا گیا۔ کچھ دیر بعد دوبارہ آیا تو مولانا نے اسے دور سے آتے دیکھ کر ہی اقامت اختیار کر لی۔ مگر اس مرتبہ کم بخت ٹی ٹی وہیں کھڑا ہو گیا۔ مولوی صاحب نے نماز جتنی طویل ہو سکتی تھی کی مگر کانی آنکھ سے دیکھتے رہے کہ ٹی ٹی جانے کا نام ہی نہیں لیتا۔ آخر تھک ہار کر سلام پھیرا اور دوبارہ کھڑے ہوتے ہوئے بلند آواز میں بولے ”نیت کرتا ہوں سو رکعت نماز نفل کی“۔ حاصل کلام یہ کہ کئی مرتبہ سچی نیت سے ادا کی گئی نماز دنیاوی مقاصد پورے کرنے میں بھی معاون ہوا کرتی ہے۔



