آٹھ مارچ اور تیزاب حملوں کی شکار خواتین


آج 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، اور جگہ جگہ بڑی تقریریں کی جا رہی ہیں کہ خواتین کو مساوی حقوق دیے جائیں۔ زیادہ تر تقریر کرنے والوں میں وہ مرد حضرات بھی شامل ہیں، جو اپنی اپنے کو بڑا کہلوانے کے لیے خواتین کے گُن تو گاتے ہیں، لیکن ان کے گھر کی خواتین بھی نسلی امتیاز کا شکار ہیں۔ آج میرے کالم کا موضوع وہ خواتین ہیں، جو بیچاری اپنی سارا حسن و جمال، اپنی ساری خوبصورتی صرف اسی لیے کھو دیتی ہیں، ساری عمر کے لیے درد اس لیے سہتی رہتی ہیں، کیونکہ مرد حضرات غصہ میں آکر، یا کوئی گھلونا الزام لگا کر ان پہ تیزاب پھینک دیتے ہیں۔

ایک خواتین کے لیے بہت ہی عذاب کی بات ہے، کہ اس کی چہرے کی نرم و ملائم اسکن پہ جلتا ہوا تیزاب پھینک دیا جائے۔ وہ گھڑیاں قیامت سے کم نہ ہوں گی، جب بیچاری خواتین چہرے پہ تیزاب گر جانے کہ بعد اتنا چیختی، چلاتی اور تڑپتی ہیں، جو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ایک تحقیق کے مطابق تیزاب صرف پانچ سے دس سیکنڈ میں ساری نازک جلد کو جلاد دیتا ہے۔ سال 2017 میں قومی اسمبلی میں اس وقت کی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چئیرپرسن ماروی میمن نے ایک بل ”دا ایسڈ اینڈ برن کرائم بل 2017“ کا مسودہ پیش کیا۔

جس میں یہ درج تھا کہ تیزاب حملوں کی شکار خواتین کا علاج کروایا جائے گا۔ اور ان پہ تیزاب پھینکنے والوں کے خلاف جلد از جلد قانونی اقدامات اٹھا کے کاروئی کرنا تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2016 میں 74، سال 2017 میں 47 اور سال 2018 میں 22 واقعات رونما ہوئے۔ انسانی حقوق کی کمیشن کے مطابق ایسے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے، پر تاحال ختم نہیں ہوئے۔

ایک مرد کو کسی قسم کا کوئی حق نہیں کہ وہ ایک عورت کی خوبصورتی کو چھین لے اور اسے درد کی آگ میں جھونک دے۔ خود کو سنوارنا، خود کو سجانا، میک اپ کرنا ایک عورت کا بنیادی حق ہے۔ پر اللہ جانے کیوں، جب کوئی شوہر اپنی بیوی پہ سخت ناراض ہو، اس پہ شک کرنے لگے تو اس کی خوبصورتی پر ح،لہ آور ہوتا ہے، اور اس پہ تیزاب پھینگ کر اس کی زندگی ایک بھیانک خواب بنا دیتا ہے۔ کہیں تو سسرال والے بھی، اپنی بہو پہ تھوڑی سے ناراضگی پہ، یا منہ مانگا جیہز نہ ملنے پر، تیزاب پِھینک کہ اس کی خوبصورتی کو ہمیشہ کے لیے چھین لیتے ہیں۔

اور تیزاب کی وجہ جو درد اور تکلیف اسے ہوتی ہے، اس کا تو صرف وہی اندازہ لگا سکتا ہے، جس نے یہ ظلم و ستم خود پر برداشت کیا ہو۔ بہت سے نوجوان لڑکے جو دیکھتے ہیں کہ فلاں لڑکی ہمارے ساتھ ہمارے شرائط پہ نہیں چل رہی، تو اپنا عارضی غصہ نکالنے کے لیے وہ اس لڑکی کی زندگی کو دوزخ کی آگ میں جھونک دیتے ہیں۔ اگر لڑکی شادی پہ راضی نہیں ہو رہی، اگر وہ ناجائز جنسی تعلقات پہ آمادہ نہیں ہو رہی، تو لڑکے انتقام لیتے ہوئے، ساری زندگی کے لیے اس کا حسین چہرہ بگاڑ دیتے ہیں۔

آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائی نے اسی موضوع پہ سال 2012 کو ”سیونگ فیس“ کے نام سے ڈاکیومینٹری بنائی، جس میں ان تیزاب کا شکار خواتین کا مختصر تعارف دیا گیا۔ اور یہ بھی دکھایا گیا کہ، وہ خواتین جن پہ تیزاب پھینکے گئے تھے وہ بس معمولی وجوہات بتا رہی تھیں، جن کی بنا پر انہیں زندگی بھر کا یہ عذاب دیا گیا تھا۔ اس ایوارڈ یافتہ ڈاکیومینٹری میں اس عورت کا بھی ذکر تھا، جو تیزاب کے حملے کا شکار ہونے کہ بعد خودکشی کرلیتی ہے۔ اور دوسری خواتین بھی دکھائی گئیں جو مصنوعی جلد کا سہارا لے کر علاج کروا رہی تھیں۔

مرد حضرات یوں تو خواتین کو ہر شعبہ زندگی میں پیچھے چھوڑنے کے لیے اپنی طاقت کا زور لگاتے ہیں، پر جب وہ ان سب میں ناکام ہوتے ہیں، اور خواتین ان کے سامنے کامیاب ہو کر دکھاتی ہیں تو، وہ دل برداشتہ ہو کر ایسے سنگین اقدام اٹھاتے ہیں، جس سے انسانیت بھی شرما جائے۔ علام اقبال نے اپنے اک شعر میں کہا ہے کہ، ”وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ“، یعنی کہ عورت اس کائنات کی سب سے خوبصورت ہستی ہے۔ اور ہو بھی کیوں نہ، اگر اس کی شکل شباہت، کو چھوڑ کر بھی دیکھا جائے تو، عورت رب دو جہاں کی سب سے عظیم تخلیق ہے۔

عورت کی خوبصورتی اور اس کے حسن و جمال میں اس سے زیادہ کیا اضافہ ہوگا کہ وہ ایک ماں ہے۔ وھ ایک ماں ہے، جو بچے کو کوکھ میں نو ماہ پال کہ جنم دیتی ہے۔ عورت ایک نئی زندگی کو تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ خواتین ہر روپ میں بے مثال ہیں، چاہے بیٹی ہو یا بہو، بہن ہو یا بیوی، ماں ہو یا دادی۔ پھر یہ کیسا انصاف ہوئا کہ اس عظیم ہستی پہ درندھ صفت لوگ تیزاب پھینکتے ہیں، تاکہ وہ ساری عمر جلتی رہے۔ یہ انتہائی بڑا گناہ ہے، جس کی معافی بھی نہیں مل سکتی۔

ایک دن سب کو اپنے رب کے سامنے پیش ہونا ہے، تو کیا جوابات دیے جائیں گے کہ ہم نے اس نازک ہستی پہ تیزاب پھینک کر اس کو اس لیے زندگی میں موت دے دی، کیونکہ یہ خوبصورت تھی، کیونکہ یہ میرا کہا مان نہیں رہی تھی، کیونکہ یہ مجھ سے شادی پر راضی نہیں تھی، کیونکہ اس پہ مجھے شک تھا۔ یوم خواتین کے دن پہ ان سب درندہ صفت مردوں سے ایک درخواست بنتی ہے، کہ اپنی بہو، بیٹی، بیوی اور گرل فرینڈ پہ تیزاب نہ پھینکے، اگر اتنا ہے غصہ ہے تو ایک بوند تیزاب کی خود پہ گرا کے دیکھئے۔ پھر پتا چلے گا کہ کیا ہوتی ہے تیزاب کی جلن، اس کا درد، اس کی تکلیف۔

Facebook Comments HS