عورت مہد سے لحد تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چار سال پہلے جب میری بیٹی پیدا ہوئی تو میں میٹھا لے کر مسجد میں چلا گیا۔ مسجد میں ایک باوضو بندے نے پوچھا کس خوشی میں بھائی۔ جواب دیا تین سال بعد بیٹی پیدا ہوگئی۔ پلیٹ سے میٹھا اُٹھاتے ہویے ایک مضحکہ خیز انداز میں بولا ”تین سال بعد بچہ ہوا اور وہ بھی بیٹی، ایسا بولو کہ میرے گھر داماد کی پیدائش ہوئی بیٹی نہیں“۔ اس نمازی کی بات سے میرا دل پھٹ گیا لیکن کچھ مسجد کی تکریم اور کچھ بڑوں کی تحریم کی وجہ سے خاموشی میں مصلحت سمجھی اور باقی کی مٹھائی گھر لے کر واپس آیا۔

عورت کی پیدائش اور مرنے تک بار بار مرنا، ہمارے سماج کی ایک ایسی تلخ حقیقت ہے، جیسا کہ آسمان نیلا اور پہاڑوں میں پتھر ہوتے ہیں۔ میں اس نو ماہ کی بات نہیں کررہا ہوں، میں اس نو دہائیوں کی بات کررہا ہوں جس میں عورت وجود کی کشمکش میں ہوتی ہے۔ ایک لڑکی پیدا ہوتی ہے نہ وہ جشن ہوتا ہے اور نہ وہ خوشی، اور نہ محلے کی خواتین مبارکباد دینے آتی ہیں، کیوں؟ یہاں ایک خاتون کی پہلی موت واقع ہوجاتی ہے، جب محلے کے خواتین خود ایک بچی کی پیدائش کو خوشی نہیں سمجھتی۔

دوسال تک جب وہ ماں کا دودھ پینے سے فارغ ہوکر کچھ کھانے لگ جاتی ہے، تو باقی گھر والوں کی نظروں میں وہ صرف زیادہ کھانا نہیں کھاتی بلکہ آدم خور ہوتی ہے۔ وہ روتی ہے تو چڑیل لگتی ہے اور اگر ذوالقرنین روتا ہے تو علاوالدین خلجی۔ بیٹی کی قسمت میں مہرالنساء کے پرانے استعمال شدہ کپڑے اور بیٹے کے لیے اخون زادہ کلاتھ ہاؤس کا نیا جوڑا، بیٹی کے لیے شگفتہ کے پرانے جوتے اور بیٹے کے لیے خلجی شو پیلس سے نئے جوتے۔ بیٹا پیشاب کرے تو خوبصورت دریائے نیل اور بیٹی پیشاب کرے تو گندا بدبودار غضبناک سیلاب، عورت کو اس جیسے رویوں سے بچپن میں آشنائیت ہوتی ہے۔

پانچ سال کی تکمیل کے بعد جب تعلیم کا دور آتا ہے تو یہاں بھی خاندان تذبذب کا شکار ہوتا ہے۔ مسجد کی مولوی سے لے کر حجام تک سب کے ساتھ مشورے کے بعد اس بات پہ راضی ہوجاتا ہے کہ چلیں گلی کے نکھر والے ”سر سید احمد خان پبلک سکول“ میں ڈال لیتے ہیں۔ آہ کس نام سے منسوب سکول میں بچی کا داخلہ لیاجاتا ہے۔ وہ سرسید احمد خان جولڑکیوں کو ایسی تعلیم دینا چاہتے تھے جس سے مرد آسانی سے ان پر حکومت کر سکیں۔ لڑکیوں کی تعلیم کا عمدہ طریقہ ان کی نظر میں وہ تھا جس سے ’لڑکیوں کے دل میں نیکی اور خدا ترسی، رحم اور محبت اور اخلاق‘ پیدا ہو۔ چلیں موضوع کی طرف۔

بچی بچ بچا کر پانچویں کلاس تک پہنچ جاتی ہے اور اسی اثنا میں ایک ”عمران“ نامی بندہ آجاتا ہے جو بچی کے ساتھ زبردستی کرکے قتل کردیتا ہے۔ اور یہاں ایک عہد کا قتل ہوجاتا ہے۔ کوئی بچی بچ جاتی ہے تو دسویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے یا تو اس کی منگنی ہوجاتی ہے اور یا کالج کا فیس ایک بہانہ ہوتا ہے۔ شادی ہوگئی تو ایک اور نیا زمانے کی ابتداء، اب چاند سے زیادہ گول روٹی، برتن کو سماج کے ذہنوں سے زیادہ صاف کرنا، کپڑوں کو واعظین کے ننیتوں سے زیادہ صاف کرنا ان کی زندگی کا مقدر بن جاتا ہے۔

شادی سے پہلے اور شادی کے بعد سماج کے رویوں کے خلاف آواز اٹھانا ایک لازوال جدوجہد جو کہی نہ کہی عورت کی فطرت کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ اس حوا کی بیٹی کی کبھی قرآن سے شادی ہوتی ہے یا درخت کے ساتھ، اور یا ”سورے“ میں دی جاتی ہے۔ غرض یہ کہ عورت اپنی زندگی معرض وجود کی کشمکش میں ختم کردیتی ہے۔ اور اسی اثنا میں مسجد کا مولوی اعلان کرتا ہے ”حضرات ایک ضروری اعلان سنیں، زید کی ماں، بکر کی بہن اور عمر کی بیوی وفات پاگئی ہے، رات آٹھ بجے سکول کے گراونڈ میں نماز جنازہ ہو گی“۔ یہاں دو باتیں سننے کی ہیں، پہلی بات عورت کو پھر مرد سے منسوب کیا گیا، دوسری بات عورت کے جنازے میں مرد کے جنازے کے مقابلے میں کم ہجوم ہوتا ہے۔

اس سماج کی میں کیا بات کروں، جہاں ایک خاتون اپنی جائیداد کے لیے اگر آواز اٹھاتی ہے تو بھائی دشمن بن جاتا ہے، سماج لعن طعن کرنے لگتا ہے۔ وہ بولتا ہے نا، کہ یہ خاتون میراث خور ہے، حالانکہ یہی خاندان اسلام اور مذہب کے پیروکار ہوتے ہیں۔
اس سماج کی بدبختی تو دیکھیں، نہ عورت کی پیدائش پہ خوشی اور عورت کی موت پہ غم۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •