گمراہ فیمینسٹ عورتوں کا فتنہ و فساد


اگر دوپٹہ اتنا پسند ہے تو آنکھوں پر باندھ لو۔
اگر دوپٹہ اتنا پسند ہے تو خود لے لو۔
میں لالی پوپ نہیں عورت ہوں۔
میری شرٹ نہیں تمہاری سوچ چھوٹی ہے۔
میرے کپڑے میری مرضی۔

اب دیکھیں لباس کے متعلق کیسے خیالات ہیں۔ یعنی مرد اب خاتون کے لباس سے اس کے کردار کا اندازہ بھی نہ لگایا کریں؟ ویسے تو تمام مرد نہایت نیک ہوتے ہیں مگر اب عورت ہی انہیں بہکا دے تو وہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ غلطی ان لڑکیوں ہی کی ہوتی ہے جو معصوم معصوم سے عابد و زاہد مردوں کی نظروں کو بہکا دیتی ہیں اور ان کے گناہوں میں اضافے کا موجب بنتی ہیں۔ وہ لالی پوپ ہی ہوتی ہیں۔ اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ وہ لالی پوپ کے ریپر یعنی شٹل کاک برقعے سے باہر آ کر یہ توقع رکھیں کہ صالح مردوں کی رال نہیں بہے گی۔

اکیلی، آوارہ، آزاد۔
میں آوارہ، بدچلن۔
میں کروں تو سالا کیریکٹر ڈھیلا۔
تو کرے تو مرد، میں کروں تو بدکردار۔
سنتھیا کرے تو شاباش، میں کروں تو بدمعاش۔
خبردار، گنہگار عورت آ رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب بھی مرد جب کسی عورت کو آتے دیکھتے ہیں تو اپنی نیت اور عاقبت خراب ہوتے دیکھ کر افسوس کرنے لگ جاتے ہیں کہ اس بدچلن اور گنہگار عورت کی وجہ سے ان کے گناہوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نہ وہ ہوتی، نہ معصومم مرد اسے گھورتے، چھِیڑتے اور اپنی زندگی خراب کرتے۔ مرد بجا طور پر ان عورتوں کو یہ سب کچھ کہتے ہیں۔ لگتا ہے کہ بالآخر عورتوں کو بھی یہ احساس ہو گیا ہے کہ وہ گناہوں کی پوٹ ہیں، اس لئے وہ توبہ کرتی ہوئی ایسے پلے کارڈ اٹھا کر خود نکل آئی ہیں جن پر مردوں کے دیے ہوئے خطاب درج ہیں۔

اپنے عضوئے تناسل کی تصویریں اپنے پاس رکھو۔
تم کتنی عورتیں مارو گے، ہر گھر سے عورت نکلے گی۔
نظریں نیچے کریں، عورتیں آ رہی ہیں۔
بس کرو، یہ سڑک میری بھِی ہے۔
تاڑنا ہے تو میوزیم چلے جاؤ۔
نظر تیری گندی اور پردہ میں کروں؟

اب ادھر فیمنسٹوں کی ڈھٹائی اور گمراہی ملاحظہ کریں۔ یہ عورتیں انٹرنیٹ اور سمارٹ فون استعمال ہی کیوں کرتی ہیں کہ سیدھے سادھے مرد ان کے وجود کو غلط معنی پہنا کر انہیں اپنی نہایت ہی نجی اور ننگی تصاویر بھیجنے پر مجبور ہو جائیں۔ اب کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی عورت آ رہی ہو تو مرد اسے دیکھے بغیر گزر جائے؟ سڑک پر آنکھیں کھول کر گزرنا ضروری ہوتا ہے ورنہ قطعی لاشعوری طور پر مرد ان خواتین سے ٹکرانے لگیں گے تو پھر مزید بدنام ہوں گے۔ جہاں تک نظر کی گندگی کا تعلق ہے، تو مرد ہرگز بھی گندی نظر سے انہیں نہیں تاڑتے۔ وہ تو بس دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ ان عورتوں کا کردار کیسا ہے۔ اب اگر کردار کا تجزیہ کرنے میں کچھ زیادہ محویت ہو جائے یا وقت زیادہ لگ جائے تو اسے مائنڈ نہیں کرنا چاہیے۔

ایسا نہیں کہ لونڈے لونڈے ہی رہیں گے، وہ اپنے اعمال کے لئے ویسے ہی جواب دہ ہوں گے جیسے لڑکیاں ہوتی ہیں۔

بہرحال یہ گمراہ فیمینسٹ عورتیں بدمعاشی پر اتر آئی ہیں۔ کہتی ہیں کہ کہ لونڈوں کا کردار بھی خراب ہوتا ہے اور وہ کوئی غلط حرکت کریں گے تو جواب دہ ہوں گے۔ بھلا کبھِی کسی مرد کا کردار بھی خراب ہو سکتا ہے؟ ہم نے تو کبھی ایسا نہیں سنا۔ ہمیشہ عورت کا کردار ہی خراب ہوتا ہے۔

غصہ محسوس کیجیے۔

ان فیمینسٹوں کا دعوی ہے کہ ان پوسٹروں اور پلے کارڈوں پر وہی سب کچھ لکھا ہے جو وہ سنتی اور برداشت کرتی ہیں۔ یہ پوسٹر ان کے غصے کا اظہار ہے کہ انہیں بھی مردوں جتنا انسان سمجھ کر ایک نارمل زندگی گزارنے دی جائے۔ جو مرد چپکے چپکے پیٹھ پیچھے انہیں کہتے ہیں، وہی ان فیمینسٹوں نے اپنے پوسٹروں پر لکھ کر اقبال جرم کیا ہے۔ ہماری رائے میں مردوں کو چاہیے کہ ان فیمینسٹوں کو معاف کر دیں۔ انہوں نے اپنا جرم تسلیم کر لیا ہے کہ سارا قصور ان کا ہے کیونکہ وہ عورت ہیں اور مرد بالکل درست کہتے ہیں، تو انہیں اصلاح کا موقع دے دیا جائے۔ بلکہ ان کے ساتھ گھل مل کر، انہیں میسیج بھیج کر اور رستے میں روک کر انہیں اچھی اور بری باتوں کے بارے میں بتایا جائے۔ ویسے تو یہ کام پہلے ہی نہایت شد و مد سے کیا جا رہا ہے مگر پھر بھی کوئی کمی رہ گئی ہے تو اسے دور کر لیا جائے۔

جہاں ہزار برے ہوتے ہیں وہاں چند نیک لوگ بھی ہوتے ہیں۔ خواتین کے معاملے میں یہ یقین کرنا تو نہایت مشکل ہے کہ گھر سے باہر نکلنے والی کوئی خاتون اچھی بھی ہو سکتی ہے لیکن ہم نے ہزاروں فیمنسٹوں کے اس طوفان کے مقابلے میں پوری دو عدد خواتین دیکھی ہیں جو یہ پوسٹر اٹھائے کھڑی ہیں

چادر اور چار دیواری میں رہنے والی عورتوں کو می ٹو اور ٹائمز اپ جیسی تحریکوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔
شاید تمہاری سوسائٹی میں آگے بڑھنے کا واحد ذریعہ تمہارا جسم ہے۔
تمہارا جسم پیسے والے کی مرضی۔
میرے گھر کے فرد میری حفاظت کے لئے اپنی جان بھی دے سکتے ہیں۔ لبرل آنٹی تم شاید اتنی قدر و اہمیت سے محروم ہو۔

اب ان کی دلیری اور قومی خدمت کا جذبہ دیکھیں۔ ان کی تصاویر بظاہر گھر سے باہر کی ہیں۔ یعنی یہ چادر اور چار دیواری کے تحفظ کو چھوڑ کر اس قومی خدمت کے لئے نکلی ہوئی ہیں حالانکہ یہ بخوبی جانتی ہیں کہ اس کے نتیجے میں ان کو می ٹو اور ٹائمز اپ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ ویسے ان کی حوصلہ شکنی کرنے کو مختلف ادارے اعداد و شمار جاری کر رہے ہیں کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم سب سے زیادہ گھر میں ہی قریبی لوگوں اور جاننے والوں کے ہاتھوں سرزد ہوتے ہیں، لیکن کسی بھِی ذی شعور شخص کو اس پر یقین کرنے میں تامل ہو گا۔ بفرض محال ایسا ہوتا بھی ہے تو ایسی بات کو دبا لینے میں ہی عزت ہوتی ہے خواہ اس کے نتیجے میں بار بار ایسا ہوتا رہے۔

نیز انہوں نے فیمنسٹوں کو بتا بھی دیا ہے کہ انہیں ترقی کرنے کا ایک ہی راستہ پتہ ہے، جسم استعمال کرنے کا۔ اس کے علاوہ انہیں ترقی کرنے کی کوئی دوسری راہ معلوم نہیں ہے۔ نیز یہ کہ ان کے گھر والے انہیں گھر میں محفوظ رکھنے کے لئے اپنی جان دینے پر تیار ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان خواتین کی جان لینے پر بھی تیار ہوں گے۔ آخر نہایت غیرت مند جو ہوئے۔ لبرل آنٹیوں کو بھلا ایسی غیرت کہاں میسر ہوتی ہے۔

ویسے غیرت مند مردوں کو ان گمراہ فیمنسٹ عورتوں پر محبت کی نظر ڈالتے ہوئے انہیں معاف کر دینا چاہیے۔ ان فیمنسٹوں کی نیت بری نہیں ہے، بس طریقہ غلط ہے۔ اس اصول پر جب طالبان کو معاف کر دینے کی اپیل کر دی جاتی ہے تو انہیں بھی کر دیں۔ یہ والی تو خود کش بھی نہیں ہیں۔ جو مرد زیادہ غیرت مند نہیں ہیں ان سے کوئی اپیل نہیں ہے۔ وہ خود گمراہ ہیں۔ اچھے طنز پر ہنستے ہیں اور برے مذاق کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar