گمراہ فیمینسٹ عورتوں کا فتنہ و فساد
پچھلے برس 8 مارچ کو یوم خواتین پر ایک دو شہروں میں چھوٹا موٹا سا جلسہ ہوا تھا۔ لیکن سچ کہا ہے درد دل رکھنے والے مفکرین نے کہ فتنے سے فوراً نہ نمٹا جائے تو وہ بڑھتا جاتا ہے۔ ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ پچھلے برس لگا تھا۔ اب یہ نعرہ نری گمراہی ہے۔ یعنی کیا واقعی کسی عورت کا جسم اس کی مرضی کے تابع ہو گا؟ کیا ان خواتین کو یہ علم نہیں ہے کہ شادی سے پہلے ان کو اپنے باپ بھائی چاچے مامے کے احکامات پر اپنی زندگی گزارنی ہوتی ہے، اور شادی کے بعد اپنے شوہر کے؟ ان کی اپنی شخصیت کی کوئی اہمیت ہوتی تو گھر ان کی مرضی پر چلا کرتا۔ ان کی زندگی کا مقصد ہمارا معاشرہ صدیوں سے مقرر کر چکا ہے، اور وہ گول روٹی بنانا اور اپنے مالک، اپنے مجازی خدا کے احکامات ماننا ہے۔ ان کی مرضی کہاں سے آ گئی؟ کیا وہ مغرب کے بہکاوے میں آ کر خود کو بھی انسان سمجھنے لگی ہیں جس کے مردوں جتنے حقوق ہوں گے؟ بدقسمتی سے اس برس یوم خواتین پر ان گمراہ فیمینسٹ عورتوں نے زیادہ پریشان کن پوسٹر بنا کر زیادہ بڑے پیمانے پر مظاہرے کر ڈالے ہیں۔
پہلے ”میرا جسم میری مرضی“ کو ہی لے لیں۔ ایک بی بی کہہ رہی ہیں ”کانسینٹ کی تسبیح روز پڑھو“۔ دوسری کہتی ہیں ”دیکھ مگر کانسینٹ سے“۔ تیسری کا حکم ہے ”میرے انکار میں اقرار مت ڈھونڈ“۔ چوتھی کی فرمائش ہے ”یہ کانسینٹ نہیں اگر مجھے نہ کہنے سے خوف آئے“۔

جو عورتیں یہ چاہتی ہیں کہ انہیں اس معاملے میں ایک جیتا جاگتا انسان سمجھا جائے، وہ سدھر جائیں تو اچھا ہے۔ ورنہ پھر ایک مجبور پاکستانی مرد کو اپنا فرض منصبی ادا کرنا پڑے گا اور وہ شکایتیں کرتی پھریں گی کہ مجھے نہ کہنے سے خوف آتا ہے۔ ویسے بھی اسلامی نظریاتی کونسل والے بتا چکے ہیں کہ ایسی ضدی بیوی کو سدھارنے کے لئے دو چار لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
چند خواتین یہ فساد برپا کر رہی ہیں کہ ماں، بہن یا بیوی ہونا ان کا رشتہ ہے پہچان نہیں۔ ایک کہتی ہیں کہ ”ماں ہوں، بہن ہوں، گالی نہیں ہوں“۔ تیسری کہتی ہیں کہ ”میرا عورت ہونا جرم نہیں“۔ چوتھی تو مردوں کو اپنا مالک تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ کہتی ہیں کہ ”میں نہیں تمہاری غیرت، بے غیرت! “۔
کیا معاشرے میں عورت کا ان رشتوں کے علاوہ کوئی مقام ہو سکتا ہے؟ ان کی پہچان یہی ہے۔ کیا وہ اپنی الگ پہچان بنانے پر مصر ہیں؟ کیا وہ یہ چاہتی ہیں کہ ان کے رشتے دار مرد ان کو معاشرے میں اپنی پہچان بنانے دیں اور خود کو بے غیرت محسوس کریں؟ خدا کی پناہ، یہ مردوں کو دو کوڑی کا کر دیں گی۔
اسی طرح چند خواتین کے ہاتھوں میں یہ پلے کارڈ تھے
کالی اور پیاری۔
اب یہ کیا کہنا چاہتی ہیں، کیا کالی رنگت والا لڑکا لڑکی پیارا ہو سکتے ہیں؟ کیا رشتہ دیکھتے وقت نین نقش، سلیقے، بول چال، تعلیم وغیرہ سے پہلے رنگت دیکھنا لازم نہیں ہے؟ اسی ایک فقرے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان مغرب زدہ فیمینسٹ خواتین کو ہمارے معاشرے کے رواجات اور حساسیت کا اندازہ نہیں ہے۔

بیٹھنے والی خاتون کو کیا یہ علم نہیں ہے کہ خواتین کی بول چال، اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے پر کڑی نظر رکھنا اور درست راہنمائی کرنا مردوں کا فرض ہے کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں مرد لڑکی پر کیسی نگاہ رکھتے ہیں۔
ہاں میں فیمینسٹ ہوں، میں مردوں سے نفرت نہیں کرتی۔
کیا کوئی فیمینسٹ ایسی ہو سکتی ہے جو مردوں سے نفرت کرنے کے سبب انہیں اپنا آقا ماننے سے انکاری نہ ہو اور خود کو ان کے برابر کا انسان نہ سمجھتی ہو؟ بادی النظر میں یہ دعوی غلط دکھائی دیتا ہے۔
ناچ میری بلبل، تجھے کوئی کچھ نہیں کہے گا۔
خدایا۔ یہ کیسی گمراہی ہے۔ کیا ان خاتون کو علم نہیں کہ ناچنے والیوں کو ہمارے معاشرے میں کیا کیا کہا جاتا ہے؟ بلکہ اکثر مرد تو اتنے محتاط ہوتے ہیں کہ جو نہ ناچتی ہوں، انہیں بھی وہی سب کچھ کہہ دیتے ہیں۔ اس پر یہ کیسی ترغیب دے رہی ہیں۔ پھر کہیں گی کہ مرد کتنی گندی سوچ رکھتے ہیں۔
میری شادی نہیں میری آزادی کی فکر کرو۔
مجھے ٹائر بدلنا آتا ہے۔
ہماری رائے میں یہ دونوں فقرے ملا کر پڑھنے چاہئیں۔ غالباً یہ اس مشہور کہاوت کی طرف اشارہ ہے کہ میاں اور بیوی گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں۔ یہ دھمکی دی جا رہی ہے کہ مرد نے اپنا جائز حق استعمال کرتے ہوئے بیوی کو کنیز سمجھا تو وہ ٹائر بدل کر آزاد ہو جائیں گی۔ یہ ازدواجی زندگی کی گاڑی تباہ کرنے کا منصوبہ ہے۔
بیٹی دل میں، بیٹی ول (وصیت) میں۔
جہیز بند کرو، جائیداد میں حق دو۔
یہ فیمینسٹ ہمارے معاشرے کی پرخلوص خواتین میں مال و دولت کا لالچ پیدا کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ حالانکہ جب گھر والوں نے انہیں ایک معقول جہیز دے کر نئے گھر بھیج دیا تو پھر انہیں مزید کیا چاہیے؟ پورا گھر تو بھر دیتے ہیں، اس پر بھی آبائی جائیداد میں حصہ مانگنا نرا لالچ ہی ہے۔ بلکہ ہمارا معاشرہ تو اس معاملے میں اتنا حساس ہے کہ بعض لڑکیوں کو اپنے حصے کی جائیداد سے تا زندگی فیضیاب کرنے کے لئے ان کی قرآن سے شادی کروا کر گھر میں ہی رکھ لیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی وراثت سے دور نہ ہوں۔ اور جہیز نہ دینے کا کیا مطلب ہے؟ کیا وہ معصوم لڑکیوں کو سسرال میں جہیز نہ لانے کے سبب قتل کروانا چاہتی ہیں؟

آئی آئی عورت آئی، ٹھرکی تیری شامت آئی۔
عورتیں صرف بنیادی حقوق چاہتی ہیں۔
تو چپ رہ کر جو سہتی ہے تو کیا یہ زمانہ بدلا ہے؟
ہمارے وجود کا احترام کرو ورنہ مزاحمت کے لئے تیار رہو۔
اب دیکھیں یہ کیسے نعرے ہیں۔ پہلے کہتی ہیں کہ ارینچ میریج مت کرو۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ خود اپنی مرضی سے اپنا شوہر منتخب کریں گی۔ اب ظاہر ہے کہ پہلا شخص ہی تو منتخب نہیں ہو گا۔ پانچ دس میں سے انتخاب ہو گا۔ جو منتخب یا غیر منتخب ہو گا وہ بھی تو کچھ ٹھرک جھاڑے گا۔ پھر اس کی شامت لانے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ یہ مطالبہ صرف مردوں کو ہراساں کرنے کی نیت سے کیا گیا ہے۔
غیرت کے نام پر قتل بند کرو۔
آج واقعی ماں بہن ایک ہو رہی ہے۔
اس کی ماں کی۔ ۔ ۔ اس کی بہن کی۔ ۔ ۔ عزت کرو۔
مجھے یہ بتانا بند کرو کہ میں کیا چاہتی ہوں۔
بجائے اس بات کے کہ لڑکیوں کو اپنی غیرت اور عزت سمجھ کر قتل کرنے اور دوسرے مردوں کو ان کی بہنوں بیٹیوں سے غیرت دلوانے کی خاطر ان کی ماں بہن کرنے کے عمل کی تعریف کی جائے، یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے ان کی عزت کی جائے۔ اسی کم فہمی کی وجہ سے تو خواتین یہ سمجھ نہیں پاتی ہیں کہ وہ کیا چاہتی ہیں، ان کے لئے کیا اچھا ہے اور کیا برا، اور مردوں کو انہیں بتانا پڑتا ہے کہ ان کے لئے کیا بہتر ہے اور انہیں کیسے زندگی گزارنی چاہیے۔

شادی کے علاوہ اور بہت کام ہیں۔
گھٹیا مرد سے آزادی، سر درد سے آزادی
اللہ اللہ۔ کیا کوئی عورت طلاق لے کر بھی خوش باش ہو سکتی ہے؟ کیا ہمارا معاشرہ مطلقہ کو اتنا برا نہیں سمجھتا کہ اچھے بھلے نیک مرد بھی اس پر بری نیت رکھ لیتے ہیں؟ عورت کے لئے شادی کے علاوہ اور کیا کام ہوتا ہے؟ اس کی زندگی کا مقصد ہی شوہر کو خوش رکھنا، کھانا پکانا اور شوہر کی خواہشات پوری کرتے ہوئے بچے پیدا کرنا ہوتا ہے۔ کیا وہ غیر فطری زندگی گزار کو خود کو انسان سمجھنا چاہتی ہے؟ ویسے بھی گھٹیا مرد سے آزادی بھلا کہاں ملتی ہے۔ یہ تو خوابوں خیالوں کی باتیں ہیں۔ وہ تو سر پر کالی گھٹا بن کر ساری زندگی برستا ہے۔
آؤ ساتھ کھانا بنائیں۔
چائے چاہیے؟ ہمیں بھی دو جناب۔
کھانا خود گرم کرو۔
کھانا گرم کر دوں گی، بستر خود گرم کرو۔
اب یہ مغرب زدہ رویہ دیکھیں۔ کیا مرد کا کام کھانا بنانا اور چائے پکانا ہے؟ اس کی ذمہ داری ملازمت یا کاروبار کرنا اور پیسے کمانا ہے۔ بفرض محال اگر بیوی بھی جاب کرتی ہو، تو یہ وہ محض اپنی خوشی سے کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے خانگی فرائض ترک کر دے اور بہانے کرے کہ وہ بھی جاب سے اتنی تھکی ہوئی آئی ہے جتنا اس کا شوہر اس لئے آج شوہر چائے بنا کر پلائے۔ بھلا یہ گھریلو کام ہوتا ہی کتنا ہے کہ اس کے لئے اتنے نخرے کیے جائیں۔ پانچ چھے بجے جاب سے گھر واپس آ کر کوئی بھی سلیقہ مند عورت یہ سارے کام پندرہ بیس منٹ میں نمٹا سکتی ہے، اس کے لئے شوہر کے آرام میں خلل ڈالنے کی کیا ضرورت ہے؟

یاد رکھو ساری چھریاں کچن میں ہوتی ہیں۔
مجھے کیا معلوم تمہارا موزہ کہاں ہے۔
اب دیکھیں کہ مغرب زدہ سوچ نے فیمینسٹوں کو کتنا بہکا دیا ہے۔ وہ غنڈہ گردی پر اتر آئی ہیں کہ شوہر نے اسلامی نظریاتی کونسل کی ہدایت کی روشنی میں انہیں سدھارنے کی کوشش کی تو وہ بھی ماریں گی۔ برطانیہ میں تو ابھی یہ رپورٹ آئی ہے کہ گھریلو تشدد کے تیس فیصد کیسوں میں بیویاں اپنے شوہروں کی پٹائی کرتی ہیں۔ کیا یہ فیمینسٹ مغرب کا یہی کلچر ہمارے ملک میں لانا چاہتی ہیں؟ یہ مغرب زدہ سوچ انہیں ہی مبارک ہو۔ ہماری روایت ہے کہ ہمیشہ بیوی کو ہی راہ راست پر لایا جاتا ہے، شوہر کبھی کچھ برا کرنے لگے تو ایک سعادت شعار بیوی کو صبر شکر سے چپ چاپ اس کے راہ راست پر آنے کی دعا مانگنی چاہیے۔ وہ جتنی اذیت اٹھائے گی اور شوہر کے ساتھ چپکی رہے گی، دنیا اس کی اتنی تعریف کرے گی۔
جہاں تک مردانہ موزے تلاش کرنے کا معاملہ ہے، یہ یا تو یہ خاتون نہایت کاہل ہیں یا پھر ان کی ناک بند رہتی ہے۔ ورنہ مردانہ موزے تلاش کرنے کے لئے کسی خاص کوشش کی ضرورت نہیں ہوتی۔ شاعر اس باب میں کہہ چکا ہے
ان کی آمد کا پتہ دیتی ہے خوشبو ان کی / اس گھڑی خود کو جہانوں سے الگ رکھتا ہوں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


