عورت پہلے خود اپنی عزت کرے!


گزشتہ روز لاہور اور کراچی میں عورت مارچ کے نام ”عورتوں“ نے خود ہی عورت کی عزت کا جنازہ نکال ڈالا، عورتوں کا عالمی دن تو ان خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے لئے منایا جاتا ہے کہ جن کی خدمات کے معترف وہ مرد بھی ہوتے ہیں جن سے نفرت کا اظہار اس مارچ میں اٹھائے ہوئے پوسٹرز پر واضح دکھائی دے رہا تھا۔

عورت مارچ کے نام لبرل ازم، فیمنزم اور فریڈم آف اسپیچ کی دھچیاں بکھیر دی گئیں، پاکستان میں خواتین اگر مساوی حقوق نہ ملنے کا واویلا مچائیں تو حیرت کے ساتھ ساتھ کسی مخصوص لابی کی پشت پناہی اور کم علمی کا خدشہ یقین کی تقویت پکڑتا دکھائی دیتا ہے۔

جس ملک میں وزیر اعظم، اسپیکر اسمبلی، فائٹر جیٹ پائلٹ، ایک روزہ سینٹ چیئرمین، منسٹر، سی ایس پیز، اسٹیٹ بینک گورنر، فارن افیئرز ڈیپارٹمنٹ کے افسران، مائیکرو فنانس کے قومی سطح کے پراجیکٹس، ایرو ناٹیکل مینٹینینس ایکسپرٹ اور آٹو موبیل مینٹینینس کنسلٹنٹ خواتین رہ چکی ہوں یا ابھی فرائض انجام دے رہی ہوں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے جب اسی ملک ایک مخصوص طبقہ ایسی آواز بلند کرے جو خواتین کا سر شرم سے جھکا دے۔

یہ تو تھی ہمارے ملک کی کہانی اگر مذہبی تاریخ بھی اٹھائی جائے تو خواتین کی آزادی کا ڈھونگ رچانے والے یورپ میں جس وقت 6 لاکھ خواتین کو چڑیل اور جادوگر قرار دے کر موت کے گھاٹ اتارا گیا تب قرطبہ میں ایک محلے میں 170 خواتین قرآن مجید کی کتابت کرتی تھیں۔ امام سخاوی کی کتاب ”الضوء اللا مع لاھل القران التاسع“ میں ایک ہزار خواتین کا ذکر ہے جو اپنے وقت کی علم کی سرچشمہ تھیں اور امت کی قیادت کرتی تھیں۔ جب کہ استاد محمد اکرم ندوی کی 40 جلدوں پر مبنی کتاب ”المحدثات من النساء“ میں 8 ہزار ایسی خواتین کا ذکر ہے جو حدیث نبوی کی بہت بڑی عالم تھیں۔

عورت مارچ میں ایک پوسٹر پر لکھی تحریر کچھ یوں ہے کہ ”کھانا گرم کر دوں گی اپنا بستر گرم خود کرو“ جسے اگر مثبت معنی بھی سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ میاں بیوی کے رشتے کو کسی نا جائز تعلق سے مشابہہ قرار دیا گیا ہے۔ اور بطور جیون ساتھی یا بیوی کی عزت کو از خود پامال کرنے میں ان ”عورتوں“ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

سائیکل، موٹر سائیکل خود چلانا، مردوں کے شانہ بشانہ کام کر لینا، مردوں پر بطور سینئر افسر کام کرلینا اور ”ماڈرن“ کپڑے پہن لینا آزادی کا دوسرا نام ہرگز نہیں ہے ہاں یہ مغربی ایجنڈے کی اندھا دھند تقلید ضرور ہے جس میں چھپے ہوئے مقاصد سے اس مارچ میں شامل ”عورتیں“ ہرگز باخبر نہیں ہیں۔

عورت مارچ میں اٹھائے جانے والے ان پوسٹرز پر سوشل میڈیا پر مرد تو مرد خواتین نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اور اسے چند ایک افراد کا مخصوص ایجنڈا قرار دیا ہے جو ایسی ”عورتوں“ کو عورت کا ترجمان نہیں سمجھتی ہیں۔ جب کہ اظہار آزادی کے اس جنازے کے جواب میں بہت سے جوابی پوسٹر بھی وائرل ہوئے ہیں۔

اس دن کو منانے کا مقصد یہ تھا کہ ان خواتین کو خراج تحسین پیش کیا جائے جنہوں نے ملک کا نام روشن کیا اور ان خواتین کو حوصلہ دیا جائے جو ایسی خصوصیات کی حامل ہیں جو ملک کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔ نا کہ ان خواتین کو سہم جانے پر مجبور کیا جائے جو شاید مردوں کی اس تنگ نظری کا شکار ہیں کہ گھر سے باہر ان کی بیوی، بیٹی یا بہن ایسے ہی کسی عورت یا مرد کی شکار نہ بن جائے جو اس کی عزت نیلام نہ کر دے۔

برائے نام جدت کے اس دور میں یہ ایک نئی بحث چل پڑی ہے، جس میں ہر کوئی یہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے کہ مرد یہ کر سکتا ہے اور عورت یہ نہیں کر سکتی، جب کہ میرے نزدیک حقیقت یہ ہے کہ جو انسان جس چیز میں بھی قابل ہو وہ اپنا رستہ خود بنا لیتا ہے؛ وہ اپنے حقوق یا کام کے مواقع حاصل کرنے کے لئے اپنی صنف اور اخلاقیات کا جنازہ نہیں نکالتا۔

ان پوسٹرز سے یہ واضح ہے یہ سوچ ہرگز پاکستانی خواتین کی نہیں ہے یہ کوئی تھنک ٹینک ہے جو ہمارے ہی لوگوں کی شکلوں میں بے راہ روی کو فروغ دے رہا ہے جس کا انجام نسلوں کی نہ ختم ہونے والی تباہی ہو گا اور ہم سب کو آج نہیں تو کل نبرد آزما ہونا پڑ سکتا ہے۔

اس قوم کو وومینز ڈے کی ضرورت نہیں ہے جس میں جوان ہوتے بچوں کو یہ بات سمجھا دی جائے کہ ماں باپ کا روزانہ دیدار حج کا ثواب دیتا ہے، بہن پر خرچ صدقہ، بیٹی کی پرورش جنت میں نبی پاک کی ہمسائیگی اور بیوی کو مسکرا کر دیکھنا اللہ کی خوش نودی کی ضمانت ہے۔