غوغہء کماں داری
یاد کی پٹاری میں بند سارے منظر کی
آنکھ کھلتی جاتی ہے
سو رہے تھے جو موسم چونک چونک اٹھتے ہیں
نیند کے دھندلکوں میں ڈوبتے نظاروں کے
جال پھیل جاتے ہیں
پھر ہوائیں کہتی ہیں
رنگ رنگ خوابوں کے جنگلوں میں بھٹکو آج
اک بہار چاہت کی، ایک وار پت جھڑ کا
پل میں آرزو کی ہر ڈال سوکھ جاتی ہے
اس کے آگے سب قصے کاسہء گدائی کی تلچھٹوں کا آئنہ
مانگ تانگ کر ساراعیش لہلہاتا ہے
گردنیں اکڑتی ہیں، دعوے پھڑپھڑپھڑاتے ہیں
ہانپتے پرندوں کی کانپتی زبانوں پر
بوند بوندپانی کی آس چھٹپٹاتی ہے
موسموں کے دھاروں پر زخم مسکراتے ہیں
دور دور تک ویراں ساعتوں کے چرچے ہیں
بارشیں سلگتی ہیں، آگ دل کے اندر ہے
خود ستائی کا نشہّ تیز وار کرتا ہے
وقت کی لکیروں کے قبضہ گیر کہتے ہیں
ہر طرف ہم ہی ہم ہیں، دوسرا نہیں ہو گا
فاتحانہ یورش کی چال ابھی ادھوری ہے
چال کام راں ہو گی
وقت کی کشاکش پر نقش نا مرادی کے
داغ دھوتے جاتے ہیں
(کیا کبھی وہ دُھلتے ہیں؟)
کاسہء گدائی کا منہ دراز رہتا ہے
یاد کی پٹاری سے سانپ ہی نکلتے ہیں
سانپ مسکراتے ہیں، خواب ڈوب جاتے ہیں
تالیوں کی بارش میں غوغہء کماں داری


