وہ کہتی تھی کہ میں آوارہ اور بد چلن ہوں
”اور میں غالب کا فین ہوں۔ کیا سمجھی؟ “ میں نے کہا۔ ”سمجھ گئی۔ “ مایا نے ہنستے ہوئے کہا۔ کھانے کے بعد کچھ دیر ہم لان میں ٹہلتے رہے۔ پھر میں نے واپسی کی ٹھانی بہت دیر ہو چکی تھی۔ اگلے دن وہ شاید حبیب کو چڑانے کے لئے چست قسم کا لباس پہن کر آئی۔ حبیب کا ردِ عمل جلد ہی آ گیا۔ مایا کی سہیلی ثنا اس کا پیغام لے کر آ گئی۔ جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ مایا اپنی حرکتوں سے باز آ جائے اور اگر اس نے اپنی روش نہ بدلی تو حبیب صاحب یہ بھول جائیں گے کہ وہ کسی طاقتور باپ کی بیٹی ہے اور اسے سبق سکھا کر رہیں گے۔
جس وقت ثنا نے یہ پیغام سنایا میں وہیں موجود تھا۔ یہ باتیں سن کر مایا کے نتھنے تیزی سے پھولنے پچکنے لگے۔ ”یہ کیا مجھے سبق سکھائے گا میں اسے سبق سکھاؤں گی۔ “ مایا نے غصے سے کہا۔
”ریلیکس مایا۔ ایسے گھٹیا لوگوں کے منہ لگنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ “ میں نے کہا۔ بہر حال اسے سمجھایا تو وہ رک گئی وگرنہ ابھی حبیب کو جواب دینا چاہتی تھی۔ پھر ایک واقعہ رونما ہو گیا۔ ہم تینوں کینٹین سے نکل رہے تھے کہ حبیب کا خاص دوست اکرم آتا دکھائی دیا۔
وہ ہم سے لاتعلق ہماری مخالف سمت جا رہا تھا لیکن قریب سے گزرتے ہوئے جان بوجھ کر مایا سے ٹکرا گیا۔ اس نے دانستہ مایا کو چھوا تھا۔ مایا نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر جڑ دیا۔ آس پاس کھڑے تمام طلبہ و طالبات یہ منظر دیکھ رہے تھے کچھ کے منہ کھلے تھے اور کچھ ہنس رہے تھے۔
اکرم کو اپنی شدید توہین محسوس ہوئی مایا کو گالی دے کر بولا۔ ”اتنی تکلیف ہے تو گھر میں بیٹھو۔ “
”اکرم حد میں رہو، بات مت بڑھاؤ۔ ورنہ بعد میں بہت پچھتاؤ گے“ میں نے ان دونوں کے بیچ میں آتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔ اس سے پہلے کہ اکرم طیش میں کچھ اور کہتا۔
حبیب اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نمودار ہوا۔ ”دیکھو بی بی میں نے پہلے بھی سمجھایا تھا کہ یہاں شریف گھرانوں کی لڑکیاں پڑھتی ہیں۔ ہم کسی کو یہاں کا ماحول خراب نہیں کرنے دیں گے۔ اب تم ایسے کپڑے پہنو گی تو کسی کا بھی ایمان تو خراب ہوگا۔ ویسے بھی تم کون سی نیک پروین ہو کیا ہوا جو اکرم۔ ۔ ۔ “ حبیب اپنا بیان جاری رکھتا لیکن مایا نے چیختے ہوئے اس کی بات کاٹ کر کہا۔
”ہاں ہاں میں آوارہ ہوں، میں بد چلن ہوں۔ میں اپنے آپ کو چھپا کر نہیں رکھتی، میں اکیلی سفر کرتی ہوں خود گاڑی ڈرائیو کرتی ہوں، اپنی مرضی سے دوست بناتی ہوں، اپنی رائے رکھتی ہوں اس لئے میں آوارہ ہوں۔ بد چلن ہوں لیکن تم اپنی نگاہوں میں شرم نہیں رکھتے پھر بھی نیک ہو، پردے میں چھپے بدن کا ایکسرے کر لیتے ہو پھر بھی پارسا ہو، لڑکی کو دیکھ کر اپنے تصورات میں ہی اس کی عزت تار تار کر دیتے ہو پھر بھی باکردار اور صالح ہو۔ لیکن میری بھی ایک بات غور سے سن لو اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارے الزامات سے ڈرکر میں تمہاری محکوم یا غلام بن جاؤں گی تو یہ تمہاری بھول ہے۔ عورت کوئی جانور نہیں جسے تم کھونٹے سے باندھ کر رکھنا چاہتے ہو۔ عورت بھی انسان ہے۔ تم سمجھو یا نہ سمجھو لیکن وہ انسان ہی رہے گی۔ “ یونیورسٹی کی فضا تالیوں سے گونج اٹھی لیکن تالیاں بجانے والے ہاتھ بہت کم تھے۔

