میں آوارہ میں بد چلن


عورت مارچ تو کب کا ختم ہو گیا لیکن اس کا شور اب تک سنا جا سکتا ہے اور یہی اس مارچ کا مقصد تھا۔

سوشل میڈیا پر تو ایک کہرام سا مچا ہے۔ پچھلے دو روز سے مجھے سوشل میڈیا پر نجانے کن کن پوسٹس پر ٹیگ کیا جا چکا ہے۔ ایک دوست نے تو وقار ذکا کی ویڈیو پوسٹ پر بھی ٹیگ کر دیا۔ میں نے معافی مانگ لی کہ میری آنکھیں اور کان اس ویڈیو کو برداشت نہیں کر سکتیں۔ ہلکا سا اصرار ہوا جو میں نے اگنور کر دیا۔

8 مارچ کو پاکستان کے کئی شہروں میں خواتین نے اپنے حقوق کے لیے ریلیاں نکالیں جنہیں عورت مارچ کا نام دیا گیا۔ اس مارچ میں شامل خواتین نے مختلف پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا مسئلہ لکھا ہوا تھا۔ ان خواتین۔ کی زبان پر بس ایک ہی نعرہ تھا۔ آزادی۔ آزادی۔ آزادی

عورت کیا مانگے۔ آزادی
ہے حق ہمارا۔ آزادی
ہم چھین کے لیں گے۔ آزادی

لاہور، کراچی، اسلام آباد کی سڑکوں پر گونجتے یہ نعرے ہر اس عورت کی آوازبن کر ابھرے جو اپنی زندگی میں ایک ادنیٰ سی چیز کے لیے بھی سخت جدوجہد کرتی ہے۔ اپنی مرضی کا لباس پہننا ہو یا اپنی مرضی کے مرد سے شادی کرنی ہو، خواتین کے لیے کوئی بھی راستہ آسان نہیں ہوتا۔

عورت مارچ میں شامل خواتین سے پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں کس قسم کی آزادی چاہیے۔ زندگی کے ہر شعبے میں تو یہ موجود ہیں۔ کچن سے لے کر مریخ تک ان کی کامیابیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ پھر بھی یہ خود کو آزاد کیوں نہیں سمجھتیں؟ سڑکوں پر آزادانہ مارچ کر رہی ہیں۔ ناچ رہی ہیں، گا رہی ہیں، پھر بھی آزاد نہ ہونے کا رونا رو رہی ہیں؟

آخر انہیں کیسی آزادی چاہیے؟

یہ خواتین بغیر کسی ججمنٹ کے اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کی آزادی مانگ رہی ہیں۔ یہ خواتین وہاڑی کی اس 29 سالہ بسم اللہ کے لیے آزادی مانگ رہی ہیں جس کے شوہر نے طلاق کا مقدمہ کرنے پر اس کی دونوں ٹانگیں کلہاڑی کے وار کر کے توڑ دیں۔

یہ خواتین کوئٹہ کی اس 32 سالہ شازیہ کے لیے آزادی مانگ رہی ہیں جسے اس کی ساس بیٹیاں پیدا کرنے پر طعنے دیتی ہیں۔
یہ خواتین اس 21 سالہ لڑکی کے لیے بھی آزادی مانگ رہی ہیں جو اپنی مرضی کی نوکری نہیں کر سکتی کہ زمانہ خراب ہے۔

یہ خواتین اس 8 سالہ بچی کے لیے بھی آزادی مانگ رہی ہیں جسے اس کی ماں گھڑ سواری کی اجازت اس ڈر سے نہیں دیتی کہ اس کا رنگ کالا ہو جائے گا۔
یہ ہر اس عورت کے لیے آزادی مانگ رہی ہیں جو دوسروں کے سامنے اپنے شوہر کو اپنی برائیاں کرتی دیکھتی ہے۔

گذشتہ برس عورت مارچ کے دو پلے کارڈز مشہور ہوئے تھے۔ ایک پر لکھا تھا میرا جسم میری مرضی اور دوسرے پر لکھا تھا اپنا کھانا خود گرم کرو۔ یہ دونوں پلے کارڈز مردوں کی انا پر لگے۔ عورت کچن کی ذمہ داری سے اپنے ہاتھ اٹھائے یا اپنے جسم پر اپنا حق جتائے یہ یہاں کسی کو پسند نہیں آتا۔

اس سال کئی پلے کارڈز وائرل ہوئے۔ ان میں سے چند آپ بھی پڑھیں اور لطف اٹھائیں۔
لو بیٹھ گئی صحیح سے۔
میری قمیض نہیں، تمہاری سوچ چھوٹی ہے۔

مجھے کیا معلوم تمہارا موزہ کہاں ہے؟
آؤ کھانا ساتھ بنائیں۔

آج واقعی ماں بہن ایک ہو رہی ہے۔
تاڑنا ہے تو میوزیم چلے جاؤ۔

ایک لڑکی اپنے پوسٹر پر ’میں آوارہ، میں بدچلن‘ لکھ لائی تھی۔ ہر لڑکی اس پوسٹر کا مطلب سمجھتی ہے۔ ہم سب اپنے بارے میں روزانہ ایسے تبصرے سنتی ہیں، کبھی مردوں کے منہ سے تو کبھی اپنی ساتھی خواتین کے منہ سے۔ اپنی مرضی کا لباس پہنا ہو یا اپنی مرضی سے کہیں جانا ہو آوارگی اور بد چلنی کا لیبل فوراً ہمارے نام کر دیا جاتا ہے۔ ہمیں اس لیبلنگ سے آزادی چاہیے۔

ہم اکیسویں صدی میں پتھر کے دور کے اصولوں سے آزادی چاہتے ہیں۔ ہم اپنے لیے وہی حقوق چاہتے ہیں جو مردوں کو حاصل ہیں۔ ہم بھی اپنی دوستوں کے ساتھ شمالی علاقہ جات کا بالکل ویسے ہی اچانک پلان بنانا چاہتے ہیں جیسے مرد بنا لیتے ہیں۔ ہم بھی اپنے جسم پر اپنا اتنا ہی حق چاہتے ہیں جتنا کہ کسی مرد کو اپنے جسم پر حاصل ہے۔ ہم بھی معاشرے کا ویسا ہی فعال رکن بننا چاہتے ہیں جتنا کوئی بھی آدمی ہے۔

یہ سب آپ کی غیرت برداشت نہیں کر سکتی تو ایسی غیرت سے ہی نجات حاصل کر لیں۔ اگر آپ کا کلچر ایسا نہیں ہے تو اپنا کلچر بدل لیں۔ یہ آپ کے مذہب کے منافی ہے تو اپنا مذہب دوبارہ سے پڑھیں۔

تب تک ہاں میں آوارہ ہوں۔ ہاں میں بد چلن ہوں۔ اگر میرا بولنا اور لکھنا بے حیائی ہے تو ہاں میں بے حیا ہوں۔ اگر میرا گھر سے باہر نکلنا بے شرمی ہے تو ہاں میں بے شرم ہوں۔ اگر میرے جسم پر میرا اپنا ہی حق جتانا خود سری ہے تو ہاں میں خود سر ہوں۔
آپ بھی تھوڑی سی آوارگی اور بد چلنی اپنا لیں۔ آپ کے گھر میں بیٹھی خواتین کی زندگی آسان ہو جائے گی۔

Facebook Comments HS