رئیس کی بیوی سب سے اچھی


گاؤں سے رئیس اپنی بیوی حاجرہ کو لے آیا تھا۔ آج صاحب کے گھر بڑی محفل تھی۔ مرد عورتیں سب ہی شریک تھے۔ بیگم صاحبہ کے کہنے پر وہ حاجرہ کو کام میں مدد کے لیے لے تو آیا، پر اسے یہ بے شرمی والا ماحول بالکل پسند نہیں آیا۔ اس نے حاجرہ کو اپنے کوارٹر میں بھیج دیا۔ اور خود سب کو مشروب دینے لگا۔ اس محفل میں چہرہ چھپانے والی تمام خواتین ان عورتوں کو بے شرم کہہ رہی تھیں، جنہوں نے اپنے چہرے کھولے ہوئے تھے، لیکن میک اپ سے بے نیاز تھے۔

سادگی پسند خواتین، میک اپ والی خواتین کو بے شرم کہہ رہی تھیں، میک اپ والی خواتین کی نظر میں بغیر برقعہ خواتین بے حیا ٹھہریں، بغیر برقعے والیاں، بغیر دوپٹے والی خواتین کو ملامت کر رہی تھیں، اور بغیر دوپٹے والی خواتین ننگے بازؤوں والی خواتین پر تف کر رہیں تھیں۔ اور بغیر دوپٹے، ننگے بازؤو والی خواتین ڈانس کرنے والی خواتین کو طوائف کہہ رہی تھیں۔ ڈانس کر کے فارغ ہونے والی خواتین کی نظر میں فلموں میں مردوں کے ساتھ محبت بھرے سین کرنے والیاں بکاؤ تھیں۔ اور رئیس سوچ رہا تھا یہ شہروں میں رہنے والی عورتیں کتنی بے شرم ہیں۔ کہیں اس کی بیوی کو بھی ہوا نہ لگ جائے ان کی۔ اس نے سوچا تھا کہ اپنی بیوی کاچہرہ بھی کسی کو دیکھنے نہ دے گا۔ پر یہ چہرہ چھپائے عورتیں بھی بڑی عجیب ہیں۔ فون کر کے کسی کریم یا اوبر کو بلاتی ہیں، اور اکیلے مرد کے ساتھ نکل جاتی ہیں۔

بڑے شہروں کی عورتیں توبہ توبہ اللہ معاف کرے۔ ایک بھی عورت ایسی نہیں جس کا کیریکٹر صحیح ہو۔ اگلے روز اس نے بیگم صاحبہ سے چھٹی لی اور حاجرہ کو گاؤں چھوڑنے چلا گیا۔

اور ادھر بڑے شہر میں سب ہی کو وہ لڑکیاں اور بچیاں بے شرم لگ رہی تھیں جنہوں نے 8 مارچ کو بے باک نعروں والے بینرز اٹھا رکھے تھے۔ 8 مارچ خواتین کے عالمی دن، خواتین نے اس دن کی اہمیت اورمقصد سمجھے بغیر مردوں کے شانہ بشانہ خواتین کے بینرز کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے گزار دیا۔ اور لگتا ہے پورا مہینہ اسی سرگرمی کی نذر ہو گا۔

اگلے سال کے لیے اب ان بچیوں اور لڑکیوں کے پاس مزید نئے نعرے ہوں گے۔ لیکن وہ سارے بھی اسی طرح بے حد مہذب ہوں گے۔ سب نعروں میں احتیاط ملحوظ ہو گی، کیوں کہ کچھ ہو جائے ہماری عورت وہ زبان نہیں بول سکتی، وہ گالی ادا نہیں کر سکتی جو مرد کھانا ٹھنڈا اور پانی گرم ہونے یا اپنا موزہ، گھڑی اور وائلٹ نہ ملنے پر دیتا ہے۔ اسی طرح نرم نازک عورت کے اس نعرے سے بھی خائف ہونے کی ضرورت نہیں کہ مارو گے تو مار کھاؤ گے۔ شوہر تو مجازی خدا ہے زندگی، موت، عزت ذلت اس کے ہاتھ ہے۔ مارے گی تو ہاتھ پیر تڑوائے گی یا جان سے جائے گی۔

عورت تو عورت کی نظر میں بھی بے حیا بے شرم ہے، تو مرد سے کیا گلہ، اس لیے اگر وہ جھنجلاہٹ میں یامردکی تسلی کے لیے خود کو ایسا کہہ رہی ہے تو پریشان مت ہوں، آپ اپنی حاجرہ کی فکر کریں اسے ان کی صحبت اور ان گمرہ کن نعروں کی ہوا نہ لگنے دیں۔ ایسا کریں آپ بھی رئیس کی طرح اپنی حاجرہ کو کسی گاؤں چھوڑ آئیں۔

Facebook Comments HS