بھئی ہم نے ایف سولہ کا کوئی اچار ڈالنا تھا
لو بھئی یہ بھی خوب رہی۔ یعنی اُلٹے بانس بریلی کو۔ بجائے اس کے کہ زیادتی کرنے والے کو لعن طعن کیا جاتا کہ ڈوب مرو۔ نہتے اور معصوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے ہو۔ ہم سائے کو رگیدنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہو۔ اب رات کے اندھیرے میں اس کے گھر پر چڑھ دوڑے ہو۔ تو اب وہ اپنے دفاع میں کوئی ہتھیار اٹھائے تو پہلے یہ سوچے کہ بیچنے والے نے اس کے استعمال پر کون سی شرطیں عائد کی تھیں۔
میں بات کر رہی ہوں دنیا کے اِس بڑے تھانیدار کی۔ کوئی اُس سے پوچھے تو سہی کہ بھئی ایف سولہ کیا ہم نے اچار ڈالنے کے لیے خریدے تھے یا انہیں سجانے کا چاؤ تھا۔ ہماری ساکھ، ہماری عزت داؤ پر لگی ہو اور ہم ہینگروں میں سجے کھڑے اِن سوپر سونک کو بس للچائی نظروں سے دیکھتے رہیں اور خوش ہوتے رہیں کہ یہ ہمارے پاس ہیں۔ اب ہم اتنے بھی گئے گزرے نہیں۔ سچی بات ہے ذرا اِن سامیوں کو تو دیکھو اور سنو۔ سارے جہان کا درد ہمارے جگر میں ہے کی تفسیر بنے ہوئے ہیں۔
فوراً ہی تحقیقات کا پٹارہ کھول لیا ہے۔ چلّانا شروع کردیا ہے کہ دیکھو دیکھو انہوں نے طیارے کون سے استعمال کیے ہیں؟ دراصل بے چارے کیا کریں۔ کرنے کو کام تو بہتیرے ہیں۔ دنیا سدھار پروگرام ہی اتنا بڑا ہے کہ اِسے اگر نیک نیتی سے کرلیں تو اپنی عمر میں طوالت کے ساتھ دنیا جہان کی دعائیں بھی سمیٹ سکتے ہیں۔ مگر کریں کیا۔ اپنی لُچ تلنے والی عادتوں کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ مہذب اور ماڈرن ہلاکو خان بنے ہوئے ہیں۔ دنیا کے ہر معاملے میں دل چسپی اور اس کے معاملات میں ناک گھسیڑنے کی لت پڑ گئی ہے۔
اب پاک فضائیہ کا ڈپٹی چیف آف ایر سٹاف بڑے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہتا ہے کہ بھئی اگر ہم نے بھارت اپنے دشمن نمبر ایک کے خلاف انہیں استعمال نہیں کرنے تھے تو پھر باوا کے مول والی قیمت کے یہ خریدنے کی ضرورت کیا تھی ہمیں۔ دنیا میں ہمارے دو ہی تو دشمن ہیں۔ ایک یہ ہمارا سکا سودھرا (یعنی گہرا عزیز) رشتہ دار اور دوسرا تمہارا وہ بغل بچہ اسرائیل جسے تم اور تمہارے کزن نے ہم مسلمانوں کے دلوں میں انی کی طرح گاڑ دیا ہے۔
گو اس سے ہمارا براہ راست کوئی تصادم تو نہیں ہے مگرمسلمان تو ہیں نا۔ آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ اس وقت سے جب یہ ابھی ہماری طرح اٹھارہ انیس سال کا لڑکا تھا۔ اس کا وہ نامی گرامی دہشت گرد وزیر اعظم ڈیوڈ بن گورین (Ben Gurion) نے اس حقیقت کا اعتراف 1967 ء کی عرب اسرائیل جنگ کے فوراً بعد کیا تھا۔ پیرس (فرانس) کی ساربون یونیورسٹی میں ممتاز یہودیوں کے ایک اجتماع سے تقریر کرتے ہوئے بولا تھا۔
”بین الاقوامی صیہونی تحریک کو کِسی طرح بھی پاکستان کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان درحقیقت ہمارا اصلی اور حقیقی آئیڈیالوجیکل ( نظریاتی) جواب ہے۔ پاکستان کا ذہنی و فکری سرمایہ اور جنگی و عسکری قوت و کیفیت آگے چل کر کِسی بھی وقت ہمارے لئے باعث مصیبت بن سکتی ہے۔ ہمیں اچھی طرح سوچ لینا چاہیے۔ بھارت سے دوستی ہمارے لئے نہ صرف ضروری ہے بلکہ مفید بھی ہے۔ ہمیں اس تاریخی عناد سے لازماً فائدہ اُٹھانا چاہیے جو ہند و پاک اور اس میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف رکھتا ہے۔ یہ تاریخی دشمنی ہمارے لئے زبردست سرمایہ ہے۔ لیکن ہماری حکمت عملی (Strategy) ایسی ہونی چاہیے کہ ہم بین الاقوامی دائروں کے ذریعہ ہی بھارت کے ساتھ اپنا ربط و ضبط رکھیں۔‘‘ (یروشلم پوسٹ 9۔ اگست 1967 ء)
یہ اور بات کہ ہماری بد قسمتی ہم ابھی تک وہ نہ بن سکے جس کی ہمارے دشمن ہم سے توقع لگائے بیٹھے تھے اور خوف زدہ تھے مگر اب ہم اتنے بھی گئے گزرے نہیں تھے کہ ہم پر چور دروازوں سے ہمارے گوانڈی وار کریں اور ہم اس کا مزہ نہ چکھائیں۔
اب لاکھ یہ دنیا کا تھایندار کہے کہ خریداری کے معاہدے مشروط تھے۔ شق میں گوانڈی شامل تھا کہ اس پر اس سے وار نہیں کرنا۔ ہاں ذرا پرے کے گوانڈی مستثنیٰ تھے کہ اس کا تو سر پھوڑ دو، کچل دو اُسے۔ بہت مہربانیاں اور عنایتیں اُس دشمن کا سر کچلنے کے لیے ہی تو ہم پر کی گئیں۔ نتیجتاً ہم تو اپنے ہی گھر میں آگ لگا بیٹھے۔
1917 کا روسی انقلاب سچی بات ہے اِن کی چھاتی پر مونگ دل رہا تھا۔ دنیا کے یہ چاچے، مامے پس پشت خم ٹھونک کر اینٹی کیمونسٹ عناصر کی پشت پناہی کے لیے میدان میں اُتر آئے تھے۔ وائٹ گارڈز (زادوں کی حامی فوج) جاگیرداروں، نوابوں کو ہتھیاروں اور پیسے کی فراہمی در پردہ شروع ہو گئی تھی۔
دنیا کو آج تک جتنے کم ظرف لوگوں نے تاراج کیا۔ ان میں آج کے چاچے مامووں کا مقام سب سے بلند ہے کہ میٹھی چھری کی طرح برّصغیر کا کلیجہ چیر دیا۔ آزادی تو دی مگر ساتھ ہی بارودی گولہ بھی درمیان میں رکھ دیا۔ سرحدوں کی لکریں کھینچ رہی تھیں۔ ریڈکلف کے ہاتھ میں قلم تھا اور سوچ میں یہ عنصر بھی تھا کہ کچھ ایسا ہوامن تو ہونے نہ پائے۔ لکیروں کے اِدھر اُدھر کرنے میں عورتوں کی رائے بہت اہم تھی۔ برّصغیر میں لیڈی ماؤنٹ بیٹن کی سفارش پر یک قلم فیروز پور اور گورداس پور کو انڈیا کے ساتھ جوڑ دیا۔ اِسی طرح جیسے جرٹروڈبیل نے مشرق وسطیٰ کا ناس مارا۔ برطانیہ نے اسرائیل کا بیج بویا اور اس نے ونسٹن چرچل اور میسوپوٹمیا کے پرسی کو کس کے ساتھ مل کر شام کے ٹکڑے کیے۔ عراق کو تخلیق کیا۔ کویت کو الگ کیا۔ کویت اور بصرہ جو ہمیشہ سے برطانیہ کی کم زوری تھے۔
اب کرتے رہو تحقیقات۔ پریسلر امینڈمنٹ کے تحت پاکستان پر پابندیاں لگاتے رہو۔ بس دعا ہے کہ پاکستانی قوم جاگ جائے اور ایک ہوجائے۔ انفرادی سود و زیاں سے بالا ہو کر اجتماعی اور ملکی مفاد کے لیے ہلکان ہونا شروع کر دے۔
بس پھر ستّے ہی خیراں۔


