جاوید بھٹو سندھ کی امانت تھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنا ہے کل دو ہنسوں کا جوڑا اُڑتے ہوئے کراچی ایئرپورٹ پر پہنچے گا۔ جس میں سے ایک اشکبار آنکھوں سے اور دوسرا ابدی نیند سوئے ہوئے اپنی دلبر دھرتی پہ اتریں گے۔ نفیسہ آپ اور ادا جاوید تو ہر دفعہ اپنے دھرتی کو دیکھنے، اپنے عزیزوں اور دوستوں سے ملنے آتے تھے۔ پر ایسا استقبال تو کبھی نہیں ہوا کہ سوشل میڈیا پر خبر چلائی گئی ہو کہ آؤ اپنے محبوب دوست کا استقبال کرو اس کا جسدِ خاکی کو ریسوو کرو۔ یہ خبر دل کو ڈبونے کے لئے کافی ہے۔

زندگی اور موت تو فطری عمل ہے لیکن کچھ شخصیات کی موت اتنی تکلیف دہ کیوں ہو تی ہیں! جیسے ذوالفقار علی بھٹو، محترم بینظیر بھٹو اور بھی ایسے کیے نام۔ کیا وجہ ہیں کہ یہ۔ لوگ برسوں بعد بھی بھولے نہیں جاتے۔ دراصل یہ اموات فرد کی نہیں ایک نظریہ کی ایک سوچ اور ایک شعور کی ہوتی ہے، جو قوموں کی تعمیر کی بنیاد بنتی ہیں اور قوم کو ایک تقدس بھرا مستحکم معاشرہ فراہم کرتی ہیں۔ ان جیسی شخصیات اب کہاں ملیں گی۔ اب تو سوچ پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے ہمارے تعلیمی ادارے مدارس بن چکے ہیں۔ طلبہ سیاست پر بندش ہے۔

ادا جاوید آپ نے نصیر کو کہا تھا کہ آپ جلد واپس لوٹ رہے ہیں یہ سن کر میں خوش تھی سوچا جب آپ اسلام آباد آئیں گے تو کراچی سے سمندری مچھلی اور بھہ منگا کر رکھوں گی کیوں کہ آپ کو ناشتے میں یہ سب چیزیں پسند تھیں۔ تصوف کے متعلق کئی سوالات لکھ ڈالے کہ جب آپ آئیں گے تو آپ سے طویل گفتگو ہوگی۔ ! لیکن آپ بنا جواب دیے چلے گئے۔ آپ کے جگری یار دل پہ پھتر رکھ کر آپ کی آخری آرام گاہ کا تعین کررہے ہیں آپ کی جنم بھومی

شکارپور میں جو کسی دور میں خوبصورت دروازوں والا سندھ کا تجارتی مرکز تھا۔ جس کی پہچان دنیا بھر میں تھی، جس نے کئی ذرخیز ذہن افراد کو جنم دیا۔ جاوید بھی ان میں سے ایک تھا۔ شکار پور کے دوست مطالبہ کر رہے تھے کہ ان کا جاوید شکار پور کو لوٹا دیا جائے۔ یہ اُن دوستوں کی محبت ہے اپنے محبوب ساتھی کے لیے۔ لیکن کیا جاوید جیسے فرد کچھ افراد یہ کسی شہر کا اثاثہ ہیں یا ایسے لوگ قومی اثاثہ ہے۔ جب اسلام آباد میں میں نے جاوید کے لئے تعزیتی ریفرینس اور خراجِ تحسین پیش کرنے کا پروگرام رکھا اور میں نے احمد سلیم صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ میں صدمے میں ہوں جاوید کی وجہ سے۔ جاوید بھٹو کے لئے سندھ سے باہر بھی کئی آنکھیں اشکبار ہیں۔ جاوید بھٹو سندھ کی امانت ہیں اسے سندھ کے پاس لوٹ کے آنا ہوگا۔ جیسے حسن درس نے کہا تھا سندھ پورا محبوب کا سایہ!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •