بوڑھا نہ ہوگا سورج!

پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب تلاش میں لکھا ہے کہ تہذیب کو جاننے کے لئے انسان کے تصور کو وقت اور مقام کی لامحدود وستعوں میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ رابیندر ناتھ ٹیگور نے ایک جگہ لکھا تھا کہ میری وطن کو جاننے کے لے زمانے کی طرف دیکھنا چاہیے، جب انسان نے…

Read more

عشق کے ڈھائی الفاظ

میں اُن خوش نصیبوں میں سے ہوں جس کی تربیت کتابوں سے ہوئی۔ کچھ دن قبل شبنم گل کا اسلام آباد آنا ہوا تھا، وہ میرے لئے چند کتابوں کا تحفہ لائی تھی جس میں ان کی اپنی کتابیں بھی تھیں ان میں سے کتاب ”اڈائی اکھر عشق جا“ (عشق کے ڈھائی الفاظ) میری توجہ…

Read more

شاہ لطیف اور بیراگن

سورج آہستہ آہستہ غروب ہو رہا تھا اُس بیراگن کی غم زدہ آنکھیں جھرمر کرتی ہوئی سمندر کی لہروں کو تک رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ یہی تو وہ سمندر ہے جو مجھ میں رچا بسا ہوا ہے اور یہ ٹھاٹھیں مارتی لہریں بالکل ویسی ہی دکھتی ہیں جیسے میرے اندر اک اک…

Read more

میں ہرگز غیر سیاسی نہیں ہوں

ہمارے معاشرے میں ہر دوسرے اور تیسرے بندے کو یہ کہتے ہوے سنا جاتا ہے کہ وہ غیر سیاسی ہے۔ زیادہ تر پڑھے لکھے لوگ سیاست سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ اور مجھے آج تک یہ منطق سمجھ میں نہیں آئی۔ عام و خاص بندہ یہی سمجھتا ہے کہ سیاسی لوگ وہ ہیں جو منتخب نمائندگان ہوتے ہیں، جو ملک کہ بالا ایوانوں میں بیھٹے ہوتے ہیں اوران ہی کا کام ہے سیاست کرنا۔ یہ بات بالکل واجب ہے کہ ہم ان لوگوں کو چؐن کر ان اداروں تک پہنچاتے ہیں اس لئے وہ سیاسی نمائندے ضرور ہیں لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں باقی سب غیر سیاسی ہوگئے ہیں۔کسی بھی ریاستی ڈھانچے میں رہنے والے افراد کا اورریاست کا آپس میں باہمی تعلق ہوتا ہے۔ اگرہم ریاست سے لاتعلق نہیں تو پھر سیاست سے کیوں کر ہوسکتے ہیں۔ ہماری بنیادی ضروریات میں پانی، خوراک، صحت، تعلیم اورسوشل سیورٹی شامل ہیں اورریاست ذمیدار ہے کہ ہمیں یہ سب مہیا کریے تو پھر ان میں سے کوئی بھی امورغیرسیاسی نہیں ہے۔ ایک نومولود بچہ بھی غیر سیاسی نہیں ہے کیوں کہ اؐسے بھی ان تمام لوازمات کی ضرورت ہے جو دوسروں کو ہے تو پھرایک فرد کیسے غیر سیاسی ہوا۔

Read more

جناب یہ میری دھرتی ہے، کوئی اسٹیشن نہیں!

کراچی پریس کلب کے سامنے گورنر سندھ کی جانب سے دیے گئے سندھ کی تقسیم پر بیان کے ردعمل میں جو مظاہرہ ہوا، اس میں شریک زاہدا حنا، فاطمہ حسن، حبیب جنیدی اور دیگر مثبت سوچ رکھنے اور روشن خیال اردو بولنے والوں نے، کم سے کم لسانی انتہاپسندوں کی پیدا کی گئی زہرآلود سوچ…

Read more

شاہ لطیف کی سوہنی

اٌس کی آنکھیں بند تھیں وہ آنکھیں جو مسکن تھی اٌس درد کی، وہ درد جو عشق کہلاتا ہے۔ یہ عشق کی کیفیت ہے کہ جب محبوب پکارے تو اپنی انکھیوں کو قدم بنا لوں اور دوڑتے ہوے اس کے پاس پہنچ جاؤں۔ یہ عشق کی ہی کیفیت ہے کہ جس میں انسان کو کچھ…

Read more

موہن جو ڈیرو کی بیٹیوں کے لئے بلاول نہ اٹھا تو ہم لڑیں گے!

روح کا لرزنا کسے کہتے ہیں اس کا حساس ابھی مجھے بخوبی ہوا ہے! 23 مارچ کے دن جب قراردادِ پاکیستان پیش ہوئی تو ایک تاریخی معاہدہ ہوا اور یہ معاہدہ ایک ریاست میں رہنے والی قوموں سے تھا کہ پاکستان میں رہنے والی قومیں اپنی مکمل شناخت کو برقرار رکھتے ہوے اکٹھی رہیں گی۔…

Read more

جاوید بھٹو سندھ کی امانت تھے

سنا ہے کل دو ہنسوں کا جوڑا اُڑتے ہوئے کراچی ایئرپورٹ پر پہنچے گا۔ جس میں سے ایک اشکبار آنکھوں سے اور دوسرا ابدی نیند سوئے ہوئے اپنی دلبر دھرتی پہ اتریں گے۔ نفیسہ آپ اور ادا جاوید تو ہر دفعہ اپنے دھرتی کو دیکھنے، اپنے عزیزوں اور دوستوں سے ملنے آتے تھے۔ پر ایسا استقبال تو کبھی نہیں ہوا کہ سوشل میڈیا پر خبر چلائی گئی ہو کہ آؤ اپنے محبوب دوست کا استقبال کرو اس کا جسدِ خاکی کو ریسوو کرو۔ یہ خبر دل کو ڈبونے کے لئے کافی ہے۔

Read more

سندھی عورت اور شاہ لطیف

شاہ عبداللطیف بھاٹی کی پہچاں سندھی سماج میں فکری رہبر کی ہے پھر خواہ دور کوئی بھی ہو لیکن سندھ کے لوگ شاہ لطیف کے فکر سے جؑڑے ہوئے ہیں۔ لیکن عورت اور لطیف کا آپس کا تعلق بہت ہی گہرا ہے! آپ دنیا کے پہلے فیمینسٹ شاعر ہیں جس نے اپنی شاعری کے سات سُر سندھ کی سات عورتوں ( سورمیوں ) سے وابستہ کیے ہیں اور یہ سات عورتیں سندھ کے نامور کردار کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

جب دنیا کے بڑے بڑے مفکرین اس بات کو سلجھا نہیں پا رہے تھے کہ آخر یہ عورت کا معمہ کیا ہے تب لطیف نے کہا عورت محبت ہے! جب عورت کو گوشت کا لوتھڑا سمجھا جارہا تھا تب لطیف نے کہا عورت احساس سے بھرا انسان ہے۔ جب عورت کو ایک خوبصورت معشوق سے تشبیہ دی جارہی تھی تب لطیف نے کہا عورت عاشق ہے کیوں کہ عورت ہی عشق کرتی اور نبھاتی بھی ہی۔ عورت کا عشق ایک تسلسل ہے جو عمر بھر اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے

Read more

جس دن ہم عورتوں کی غیرت جاگ گئی؟

بچپن میں ہم کہانیاں سنا کرتے تھے کہ ایک گھنا جنگل ہوا کرتا تھا جس میں تمام جانور پُرامن طریقے سی زندگی گذارتے تھے! پھر اچانک اٌس جنگل میں درندے گٌھس آتے ہیں۔ پھر اس جنگل کا پٌرامن ماحول سبوتاژ ہوجاتا ہے، ساتھ یہ بھی سنا تھا کہ اس جنگل کا کوئی قانون بھی ہوا…

Read more