جنگ کے خلاف جنگ ہونی چاہیے


بیچنے والے بھی کیا کیا کمال کرتے ہیں، کسی کو اس کی اپنی ہی چیز بیچ ڈالتے ہیں، کسی کو اس کی اشیآ کی افادیت اور حفاظت کے لیے اپنی مصنوعات کو لازم گردان کر بیچ ڈالتے ہیں۔ فروخت صرف اشیا کے عوض نہیں ہے بلکہ احساسات، جذبات، مذہب اور وطنیت کے عوض بھی جاری ہے اور یہ ذریعہٍ فروخت سب سے زیادہ منافع بخش تجارت ہے جو ہتھیاروں اور طاقت کی منڈی کو جٍلا بخشتا ہے۔ معروف معیشت دان جے بی سئے نے کہا تھا کہ رسد اپنی طلب خود پیدہ کر لیتی ہے مگر ہم جس تجارت کی بات کر رہے ہیں وہ طلب و رسد کے معاشی اصولوں سے ماورا ہے۔

وہ کہیں طلب پہلے پیدا کرتی ہے اور رسد کا سامان بعد میں، کہیں رسد پیدا کر کے پھر اس رسد کے لیے منڈی پیدا کرتی ہے۔ کچھ جگہوں پر تو اس کو منڈی پیدا کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی، یہ اہتمام بعض جہلا نے اپنے طورپر کر رکھا ہوتا ہے۔ یہ منڈیاں کسی نہ کسی انجانے خوف کا پرچار کر کے وجود میں لائی جاتی ہیں جن کا مقصد یا تو اصل مسائل سے توجہ ہٹانا ہوتا ہے یا حاصل شدہ طاقت اور اقتدار کوجائز قرار دے کر عارضی استحکام بخشنا ہوتا ہے یا پھر حصولٍ اقتدار کا راستہ بنانا۔

طاقت اور ہتھیار کی منڈیوں میں مذہب اور وطن وہ جنس ہیں جن کی مارکیٹ ویلیو صدیوں سے نہ صرف قائم ہے بلکہ مختلف زاویوں سے پھل پھول رہی ہے۔ مذہب ایک سیدھا اور صاف راستہ تھا، انسان اور خدا کے درمیان ایک خوبصورت اور خاموش ذریعہٍ گفتگو۔ کہیں یہ ایک خاموش عقیدت کے ساتھ تسبیح کے دانوں پر رینگتا تو کہیں کلیساؤں کی موم بتیوں میں چمکتا دکھائی دیتا مگر پھر یہ وہاں سے نٍکل کر صلیبیوں کی خون میں لت پت تلواروں پر چیختا دکھائی دیا۔

خیر صلیبیوں کی تلواروں تک پہنچنے سے بہت پہلے بھی یہ کئی بار میدانٍ جنگ میں گھوڑوں کے پیروں تلے روندا گیا اور نیزوں پر لہرایا گیا۔ طاقت اور مضبوط معیشت کے حصول کے لیے جنگ کے بعد دشمن کے وسائل کو قبضہ میں لے کر آپس میں بانٹنے کا رواج بھی بہت پرانا ہے جس کو اسلام نے مالٍ غنیمت کا نام دیا، شروع میں مالٍ غنیمت کی تقسیم تمام معاشرہ یا کم از کم جنگ میں حصہ لینے والے ہر خاص و عام تک کی جاتی تھی مگر پھر یہ تقسیم سکڑتی سکڑتی محض شرفاً تک محدود ہو گئی۔

اس سکڑتی تقسیم سے حاصل ہونے والی بے بہا دولت، اراضی اور طاقت کی لالچ شرفا کو کئی بحرٍظلمات میں لیے پھرتی رہی، ۔ اسی جستجو میں ایک ہی مذہب کے نمائندے ایک دوسرے کے خلاف بر سرٍپیکار نظر آئے۔ اسی جستجو میں شرفا بحرٍ ظلمات سے ہوتے ہوے سومنات کی ٖفصیلوں سے آ ٹکرائے اور تب تک ٹکراتے رہے جب تک فصیلوں نے اپنے بطن میں چھپے جواہر نکال کر باہر نہ رکھ دیے۔ جیسے آج کل مذہب کے بچاؤ کے نام پر بہت کچھ ہو رہا ہے تب مذہب کے پھیلاؤ کے نام پر بہت کچھ ہو رہا تھا۔

یہ بھی ہم سب جانتے ہیں کہ ایسا طرزٍ عمل محض مسلمانوں کا نہیں تھا بلکہ آج کے مہذب کہلانے والوں کے ہاتھ بھی خون سے رنگے ہیں۔ تاریخ کے اوراق چاہے ان جنگوں اور ان کے کرداروں کی تعظیم و تکریم ظاہرکریں لیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ وہ سب بھی وسائل، طاقت اور اراضی کے حصول کے لئے قتلٍ عام کے مرتکب ہوئے۔ وہ چاہے سکندر ہو، آشوک ہو یا منگول ہوں، ہٹلر، چرچل، نپولین یا ٹرومین ہو۔ سلطنتوں کے پھیلاؤ کا معاملہ نو آبادیاتی نظام تک آیا جس کے بطن سے دو عالمی جنگوں نے جنم لیا۔

چند لوگوں نے طاقت کے حصول کی خاطر کروڑوں لوگوں کو مار دیا اور اتنے ہی لوگوں کو لاوارث اور زخمی کر دیا۔ کروڑوں لوگوں کے قتلٍ عام اور ہر شئے بر باد کر دینے کے بعد بھی ان چند شاطر لوگوں نے نسلٍ انسانی کے گرد اپنے خونی شکنجوں کو نہ چھوڑا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جب اپنے محکوم ملکوں کو قابو رکھنا مشکل ہو گیا تو بالواسطہ استعماریت کا گھناؤنا کھیل کھیلا گیا۔ دنیا کے نقشے پر لکییریں ڈال ڈال کر نئے نئے ملک بناے گئے اور ان کو نئے نام اور نئی شناخت دی گئی اور پھر ان پر اپنے وفادار اور کٹھ پتلی حکمران مسلط کر کے جو ایجنڈا دیا گیا اس میں ایک یہ بھی تھا کہ وہ ان نئے ناموں اور شناختوں کو مذہب سے ملا کر ایسا جذباتی رنگ دیے رکھیں کہ ان نئے ملکوں کے باسی اس کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیں۔

عالمی جنگوں کے بعد یورپ نے تو جنگ سے توبہ کر لی اور مہذب دنیا میں شامل ہو گیا لیکن اسلحہ بنانے میں آج بھی یورپ اور امریکہ سب سے آگے ہیں اور خریدنے والوں کی عوام کی شکلوں پر غربت اور جہالت کی گہری لکیریں استعماریت سے حاصل کردہ آزادی کا منہ چڑا رہی ہے۔ یہ آزادیاں ایسی منافع بخش منڈیوں کا روپ دھار گئیں کہ اسلحہ ساز صنعت دنیا کی سب سے زیادہ اثرو رسوخ والی صنعت بن گئی اور یہ اثر و رسوخ کہیں ہمیں کبھی نہ حل ہونے والے علاقائی تنازوں میں نظر آتا ہے تو کہیں مذہب اور وطن کے لئے اٹھنے والے ان خطرات میں نظر آتا ہے جو بلاوجہ کچھ عرصہ بعد نمودار ہو جاتے ہیں۔

بالواسطہ استعماریت کی وجہ سے جہاں ایک طرف وسائل کا رخ اسلحہ سازوں کی طرف ہے تو دوسری طرف ان نالائق حکمرانوں کی طرف جو بلا مقابلہ منتخب ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ چاہے آمر ہوں یا وہ منتخب کردہ عوامی نمائندے جن کا شجرہ سامراجیوں کی وفاداریوں سے جا ملتا ہے، یہ کبھی بھی جنگ کے ڈاکٹرائن سے باہر نہیں نکل پائیں گے۔ اور اگر سامراجیوں کی بنائی لکیروں کے ایک طرف کے لوگ اس ماحول سے نکلنا چاہیں بھی تو لکیر کے دوسری طرف سے کوئی ایسا بندوبست کر دیا جاتا ہے کہ پھر سے جنگی سازوسامان کی افادیت پہ بھاشن بھلے دکھائی دینے لگتے ہیں ’جنگوں اور جوانوں کے لئے گائے نغمئے خون گرمانے لگتے ہیں اور فلک شگاف نعروں کی گونج ہر دھیمی اور مناسب بات کو دبا کر رکھ دیتی ہے۔

یہ سلسلہ تب تک چلتا رہے گا جب تک ابنٍ آدم فلسفہٍ آدمیت کی طرف رجوع نہیں کرتا، جب تک وہ یہ مان اور منوا نہیں لیتا کہ وہ ایک خدا کی اس ایک زمین پر ایک آدم کی اولاد ہے، کل زمین آدم کی ملکیت ہے اور یہ لکیریں، مذہب، وطن اور دیگر معملات و اشیا اس کی آسودگی کے لئے ہیں نہ کہ تقسیم کے لیے۔ وہ ان کو اپنی مرضی سے استعمال کر سکتا ہے اور کسی دوسرے کو یہ حق نہیں کہ وہ مذہب اور لکیروں کی بنیاد پر آدم کو آدم سے دور کرے۔ اسی راستے پر چل کر کامل آدمیت کا قانون نافض کیا جا سکتا ہے اور اصل کامیابی یہی ہو گی کہ اگر قومیتیں اور لکیریں ختم نہ بھی ہو سکیں تو کم از کم آدم کے مقابلے میں حقیر اور بے معنی ہو کر رہ جائیں۔ اور وہ تمام درس اور سلسلے ختم ہو جائیں جن میں آدم غیر ضروری تقسیم کا شکار ہے۔

Facebook Comments HS