میرا وومن ڈے اور میری سٹوڈنٹ کی کہانی
چوٹیں گہری ہوں تو سمجھ نہیں آتا کہ درد کو بیان کیسے کیا جائے، ایسا ہی حال اس سمے مجھ پر بیت رہا ہے۔ عورت ہونا اور اس حقیقت کوتسلیم کرنا کڑواہٹ جیسا ہے۔ بچپن میں بھی مجھے گڑیوں سے زیادہ پتنگ بازی عزیز رہی کہ مجھے تازہ ہوا سے عجب نسبت ہے۔ شاید ہر آزاد روح اس سے پیار کرتی رہی ہو۔
اس سال سے پہلے میرے لئے عورت ہونے کو محسوس کرنا بھی اتنا اہم نہیں تھا کہ جھٹلائے جانے سے پہلے سچ کو آنچ کا پورا اندازہ نہیں ہوا کرتا۔ ذاتی تجربات سے لے کر معاشرتی مثالوں تلک ایک سلایڈ شو ہے جو دماغ میں چل رہا ہے اور اس منظر کا ہر گوشہ زخمی ہے۔ مجھے وہ ساری خواتین یاد آرہی ہیں جنہوں نے دستار کو اونچا کر دیا اور خود ریت میں زندہ دفن ہوئیں، وہ چہرے۔ جو بولتے نہیں ہیں مگر چیختے ہیں۔ وہ قدم، جو ہر بار دھکا کھانے کے بعد اسی طرح اُٹھتے ہیں جیسے چیونٹی، آدمی کی سفاک چالوں سے گھبرا کرچُپ چاپ راستہ بدل لیتی ہے۔ میرا معاشرہ اتنا آگے آکر بھی ان کریہہ ناک حقیقتوں میں لپٹ کر، کہیں پیچھے کھڑا ہے، جہاں بیٹی کے دفنانے کو مٹی کی نفسیاتی، روحانی، جسمانی اور کئی دوسری اقسام موجود ہیں!
انہی سوچوں میں الجھے میرا پختہ ارادہ تھا کہ آٹھ مارچ کے حوالے سے، کم از کم اس سال اپنی سٹؤڈنٹس کو کوئی مثبت اورعملی سبق دیا جا سکے۔ کچھ ایسا جو انہیں مضبوط ماں، بیٹی، بہن اور بیوی سے بڑھ کر مضبوط عورت بنا سکے۔ کچھ ایسا جو ان میں یہ احساس اتار سکے کہ وہ سب ذمہ داریوں کے لئے اہم ہونے سے بڑھ کر خود اپنے لئے بھی اہم ہیں۔ انہیں یہ سکھایا جا سکے کہ اکیلے ہونے سے وہ تنہا نہیں ہوسکتیں، وہ پوری دنیا کی تقدیر بدلنے میں کوئی نہ کوئی حصہ بھرپور طریقے سے ڈال سکتی ہیں! سو آٹھ مارچ دو ہزار انیس لکھنے کے بعد میں نے متوقع سبق کا نام لکھنے کی بجائے تختہ سفید پرعجب سرشاری کے ساتھ لکھ دیا : ”ہیپی وومن ڈے“
میں پورے لیکچرمیں اپنے تھوڑے بہت تجربات اور دنیاوی مثالیں بیان کرکے ذاتی طور پر بہت خوش تھی کہ بارش کے باوجود آج حاضری پوری تھی اور ہر بچی نے کچھ نہ کچھ حصہ اس گفتگو میں ضرور ڈالا تھا۔ میں نے گوانتا ناموبے کی جیلوں اور بہت سی مظلوم اقوام کا بھی ذکر کیا اور بچیوں سے وعدہ لیا کہ وہ اس حوالے سے مستقبل میں کوئی نہ کوئی عملی یا علمی قدم ضرور اٹھائیں گی۔ سوائے ایک بچی کے، جو سارا وقت اپنے آنسو پونچھتی رہی اور جس کی خاموشی مجھے سرشار کرتی رہی کہ شاید میری آج کی کاوش رائیگاں نہیں گئی! ( میں نے سوچا، یقیناَ وہ اس بھاشن سے زیادہ متاثر ہوئی ہوگی )
ڈپارٹمنٹ میں آئے چند لمحے گزرے ہوں گے کہ وہی طالبہ روتی ہوئی مجھے کہنے لگی کہ اُسے مجھ سے کچھ کہنا ہے۔ میں نے دوسرے اساتذہ کی موجودگی کے پیشِ نظر اُسے نسبتاَ خآلی کمرے میں بٹھایا اور اس کی کانپتی حالت کو پریشانی سے دیکھ کر پانی کا گلاس اس کے آگے رکھ دیا۔ وہ ایک گھونٹ پینے سے بھی مانع تھی اور ایک بھی لفظ بولنے سے عاری!
کافی مشکل سے کہنے لگی: ”مِس کیا میرے ابو آپ کے پاس آئے تھے؟ “ میں نے ایک دم ہنس کر سچوئیشن سمجھی اور کہا: ”بالکل بھی نہیں! اور اگر وہ آ بھی جاتے اور آ کر کچھ بھی کہتے تو بھی میں آپ کو نہ ڈانٹتی! مجھے آپ پر مکمل اعتماد ہے۔ آپ ہر لحاظ سے ایک بہت اچھی اور قابل بچی ہیں۔ چھوٹی موٹی غلطی تو ہر بچے سے ہو جاتی ہے۔ سو ڈونٹ یو وری اباوٹ اینی تھنگ! “
اس نے ایک دم رونا شروع کر دیا اور پھر اس کے رکتے سانس کی کہانی نے جیسے میرا دماغ شل کر دیا۔ اس کے کانپتے وجود اور معصوم آہوں سے بُنی داستان یہ تھی کہ گزشتہ پانچ سالوں سے اُس کے باپ نے اس کی ماں کو ان چار بہنوں سے الگ رکھا تھا (طلاق کے بغیر) ۔ میرے سوالوں پر وہ بڑی ہچکچاہٹ سے بتاتی رہی کہ میں ایسے گھر میں رہتی ہوں جہاں کسی کھڑکی اور دروازے کو کھولنے کی اجازت نہیں! اُسے سمارٹ فون کو استعمال کرنا اس لئے نہیں آتا تھا کہ اُس کے نفسیاتی باپ نے ان کی ماں کو ساری زندگی مارنے پیٹنے کے بعد ایک آنکھ سے اندھا کرکے زبردستی گھر سے نکال دیا تھا اور اس کے بعد ان میں سے کسی کو بھی اپنے باپ کے فون نمبر کے علاوہ کسی اور کا نمبر ملانے یا یاد کرنے کی اجازت نہیں تھی۔
(وہ بولتے ہوئے یوں ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی جیسے اُس کا باپ کہیں پاس سے اُسے دیکھ رہا ہو) میں نے اس سے باقی خاندان والوں کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگی کہ بس ایک تایا ہیں جنہیں ہمارا ”احساس“ ہے وہ ہمارا دکھ سمجھتے ہیں مگر کچھ بولتے نہیں کہ ہمارے باپ کے سامنے دادا بھی نہیں کچھ کر سکتے! مجھے اندازہ ہوا کہ یقیناَ وہ مینٹل ریٹارڈِڈ تھا لیکن کوئی شعوری کمی آڑے تھی جس سے وہ تمام لوگ ناآشنا تھے۔ مزید، اُس نے بتایا کہ وہ ایک دو بار اپنے ہی باپ کے ہاتھوں میٹرک کے بعد کسی ساٹھ سالہ بوڑھے اور کسی آوارہ کزن کے ساتھ زبردستی بیاہے جانے کے دوران وہاں سے بھاگ کر یا گِر کر ٹانگ تڑوا چکی تھی جس کی سزا وہ سولہ سترہ سالہ لڑکی بعد میں یوں بھگتی رہی کہ اس کا سفاک باپ راہ چلتے لوگوں کو متوجہ کر کے کہتا کہ یہ وہ لڑکی ہے جو اپنے آشنا کے ساتھ بھاگتے پکڑی گئی ہے۔
اب وہی لوگ آتے جاتے اُس پر کھل کر ہنستے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے یہ لکھنے میں تین دن اسی لئے لگے کہ میں ابھی تک اسے سچ تسلیم نہیں کر پا رہی۔ میرے معاشرے میں تو راوی چین لکھتا ہے اور خواتین کو بہت سارے حقوق کسی نہ کسی حد تک حاصل ہیں۔ اتنا وقت یہ سب سوچنے پر لگا دیا کہ نا جانے اسے کہاں اور کیسے کہا جائے کہ اس درد کا درماں ہوسکے جو وہ بیچاری عجب خامشی سے سہہ رہی تھی۔
میرے بار بار سمجھانے پر وہ صرف یہی کہتی رہی کہ جو بھی ہے وہ میرے والد ہیں، میں ان سے اب بھی بہت زیادہ پیار کرتی ہوں اور انہیں کوئی مینٹل ہاسپٹل نہیں لے جاسکتا کیوں کہ وہ واپس آکر سب کو مار دیں گے۔ اپنی کلاس کی سب سے مہذب، لائق اور با ادب شاگردہ کو اس بُری طرح روتے دیکھ کر میرے پاس اُس وقت کوئی دلاسہ نہیں تھا۔ اُسے روزکسی بھی وجہ کے بغیر، وقت بے وقت پائپ سے پیٹا جاتا ہے، کسی بھی حالت میں کوئی بھی دوا کھانے کی اجازت نہیں (اُسی کے بقول، پچھلے ماہ، کافی دن اس کے کانوں سے خون آتا رہا اور کالج آنے پر، اسے یرقان کا جھوٹا میڈیکل سرٹیفیکیٹ بنا کر دیا گیا) اور تو اور اس کی نمازوں پہ بھی ان جملوں کو کسا جاتا ہے کہ وہ اپنے کسی یار کے لئے یہ سب ڈھونگ رچا رہی ہے!
اُس سے اگلے دن وہ کلاس میں بے ہوش ہوگئی تھی اور اُسے ایک سو چار بخار تھا، آدھے گھنٹے بعد جھٹکے سے ہوش میں آنے کے بعد وہ چیخ رہی تھی کہ مجھے کوئی دوائی نہیں کھانی، میں گھر واپس نہیں جانا چاہتی۔
میں نے کہیں سے سُن کر، اس کا ساتھ دینے کے احساس میں، کچھ دن پہلے یونہی کہا تھا کہ مجھے پتا ہے کہ آپ کی والدہ وفات پا چُکی ہیں حالانکہ آپ کی ذاتی نفاست دیکھ کر مجھے کبھی نہیں لگا کہ آپ کی امی زندہ نہیں ہیں۔ اس نے یہ جھوٹ کسی اور بچی سے بولا تھا اور مجھے ایسا کہتے ہوئے سُن کر آٹھ مارچ کو وہ اتنا ہی پوچھ سکی:
”مس کیا میرے ابو آپ سے ملے تھے؟ “


