”ٹوٹی ہوئی سڑک“ کا آدمی

جمیل اختر کی ”ٹوٹٰی ہوئی سڑک“ پڑھ کر احساسِ قوی ہوا کہ انہیں اس معاشرتی، اخلاقی اور نفسیاتی سڑک کی مرمت کی فکرمجھ ایسوں سے زیادہ ہے، جسے وہ افسانہ در افسانہ مرمت کرنے کا مصمم ارادہ کیے ہوئے ہے۔ بہت کچھ ہے جسے اُس نے افسانوں میں کہہ کر اپنے لئے ایک مناسب راہ…

Read more

میرا وومن ڈے اور میری سٹوڈنٹ کی کہانی

چوٹیں گہری ہوں تو سمجھ نہیں آتا کہ درد کو بیان کیسے کیا جائے، ایسا ہی حال اس سمے مجھ پر بیت رہا ہے۔ عورت ہونا اور اس حقیقت کوتسلیم کرنا کڑواہٹ جیسا ہے۔ بچپن میں بھی مجھے گڑیوں سے زیادہ پتنگ بازی عزیز رہی کہ مجھے تازہ ہوا سے عجب نسبت ہے۔ شاید ہر آزاد روح اس سے پیار کرتی رہی ہو۔ اس سال سے پہلے میرے لئے عورت ہونے کو محسوس کرنا بھی اتنا اہم نہیں تھا کہ جھٹلائے جانے سے پہلے سچ کو آنچ کا پورا اندازہ نہیں ہوا کرتا۔

ذاتی تجربات سے لے کر معاشرتی مثالوں تلک ایک سلایڈ شو ہے جو دماغ میں چل رہا ہے اور اس منظر کا ہر گوشہ زخمی ہے۔ مجھے وہ ساری خواتین یاد آرہی ہیں جنہوں نے دستار کو اونچا کر دیا اور خود ریت میں زندہ دفن ہوئیں، وہ چہرے۔ جو بولتے نہیں ہیں مگر چیختے ہیں۔ وہ قدم، جو ہر بار دھکا کھانے کے بعد اسی طرح اُٹھتے ہیں جیسے چیونٹی، آدمی کی سفاک چالوں سے گھبرا کرچُپ چاپ راستہ بدل لیتی ہے۔ میرا معاشرہ اتنا آگے آکر بھی ان کریہہ ناک حقیقتوں میں لپٹ کر، کہیں پیچھے کھڑا ہے، جہاں بیٹی کے دفنانے کو مٹی کی نفسیاتی، روحانی، جسمانی اور کئی دوسری اقسام موجود ہیں!

Read more

قلم کی روشنی

ادب سے لگاؤ رکھنے والے اچھی کتابوں کے منتظر ہمیشہ رہتے ہیں اور کوئی بھی منفرد کتاب و رسالہ ہاتھ لگنے پر، جلد از جلد، اُس سے سیراب ہونا چاہتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی تجربہ میرے ساتھ ”قلم کی روشنی“ موصول ہونے پر ہوا۔ اردو ادب کی عظیم مصنفہ محترمہ بانو قُدسیہ کی زیرِ سر پرستی وجود میں آنے والے ادبی مجلے ”قلم کی روشنی“ سے میرا پہلا تعلق شاید اسی لیے بنا کہ بانو آپا سے دلی عقیدت رکھنے والی ایک ادنٰی مرید میں بھی ہوں۔ اس مجلہ کی بانی و چیف ایڈیٹر (مرحومہ) رفعت خان اور موجودہ مولفِ اعلٰی (ناول و افسانہ نگار) جناب محمود ظفر اقبال ہاشمی ہیں۔

Read more

سفر زاد

آج کل کے پُرشور ماحول میں پڑھنے کے لئے پُرمغز تحاریر میسر ہو جانا بڑی نعمت ہے، اسامہ خالد کی نظموں سے میرا پہلا تعارف سوشل میڈیا پر ہوا۔ کچھ عرصہ پہلے ان کی پہلی کتاب ”سفر زاد“ موصول ہوئی، جس کا زیادہ تر حصہ شاندار غزلوں اور آخری حصہ نظموں پر مشتمل ہے۔ پہلی فرصت میں حصہ نظم پڑھ کر جی میں آیا، اسے پڑھنے والوں سے شئیر نہ کیا جانا ان نظموں کے ساتھ زیادتی ہوگی!

اگست 2018 میں شائع شدہ ”سفر زاد“، اسامہ خالد کے شعری سفر کے امکانات کی تمام حدود واضح کرتی نظر آتی ہے۔ پہلی نظم ”خدا کو میری نظمیں اچھی لگتی ہیں! “

Read more

جرمنی میں ننھے بچوں کا والدین کے خلاف احتجاج

ویلیمز ورڈز ورتھ نے بالکل ٹھیک کہا تھا “Child is the father of man” ویسے تو یہ کہاوت حالاتِ حاضرہ میں بہت سے معنوں میں درست ہے لیکن یہاں، میری مراد گزشتہ روز ہیمبرگ میں ہونے والے سات سالہ ایمل کے احتجاج سے ہے۔ یہ مظاہرہ ہیمبرگ کی سڑکوں پر ننھے مگر حساس و سمجھدار…

Read more

 تسطیر ۔۔۔۔۔۔ ادب سے عشق کا استعارہ

بات تو پرانے زمانے کی لگتی ہے لیکن عصرِ حاضر کے نمائندہ اور سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادبی جریدے " تسطیر" کی اشاعت کی خبر سن کر، میں دن میں بار بار، بے چینی پالے، کھڑکی سے گلی میں جھانکتی رہی، بلا شُبہ یہ احساس اپنوں کے خط کا انتظار کرتے میٹھی کسک…

Read more
––>