عورت مارچ مہم، ذہین دماغوں کا کامیاب منصوبہ
عورتوں کا عالمی تاریخی حوالوں سے 1909 سے منایا جا رہا ہے۔ جب یہ فروری میں منایا جانا شروع ہوا۔ پھر 1917 سے آج کے دن سے منایا جا رہا ہے یعنی 8 مارچ کو عالمی دن برائے خواتین کا درجہ حاصل ہوا ہے۔ پاکستان مین بھی ظاہر سی بات ہے دیگر عالمی دنوں کی طرح یہ دن بھی منایا جاتا ہے لیکن اس حوالے سے گزشتہ دو دہائیوں سے کافی شعور اجاگر ہوا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی بھرمار، اخبارات کی اشاعت کا بڑھنا، اور سوشل میڈیا جیسے فورمز کا عام لوگوں تک رسائی ہو جانا ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے عالمی دن برائے خواتین کی طرح دیگر عالمی دن منانے کی روایت مضبوط ہوتی جا رہی ہے لیکن اس حوالے سے تمام کارکردگی دو ہزار کے بعد سے زیادہ نمایاں ہوئی ہے۔ پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ لیکن کچھ سالوں سے اس حوالے سے اہم اقدامات کیے گئے ہیں جن کے تحت اظہار کی آزادی ملنا شروع ہوئی ہے (کچھ مسائل ابھی بھی اس حوالے سے موجود ہیں، لیکن بطور مجموعی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں اظہار سوچ کا یا اپنے خیالات کا کسی قدر آسان ہو چکا ہے ) اور یہی وجہ ہے کہ بعض معاملات میں اس آزادی کا منفی استعمال بھی دیکھنے میں آیا ہے۔
اس حوالے سے آج کل بحث نے عالمی یوم خواتین پر پاکستان میں ایک نئی طرز کے احتجاج کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔ اس حوالے سے انفرادی سطح پر شہریوں کے کردار کے علاوہ ریاست کے اقدامات پہ بھی سوالیہ نشان اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس سال یعنی دو ہزار انیس میں عالمی یوم خواتین پہ عورت مارچ کے نام سے ایک مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ مارچ بھی اگر عمومی احتجاجی رویوں کی عکاسی کرتا تو شاید متنازعہ نہ ہوتا لیکن اس احتجاج نے پورے ملک میں مذہبی و اخلاقی حوالوں سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کیوں کہ اس مارچ کے دوران خواتین نے ایسے نعروں، فقروں، جملوں کی ترویج کی جو عمومی طور پر معاشرتی لحاظ سے ہمارے ہاں معیوب سمجھے جاتے ہیں۔
صرف ہمارے ہاں نہیں بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی ان نعروں کا جواز شاید کم بنتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ ان متنازعہ نعروں کی وجہ سے ہی ان نعروں کو بنانے والے توجہ پا گئے ہیں۔ خواتین نے جو پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اُن پہ کچھ نعرے تو ایسے تھے کہ جن پہ کسی کو اعتراض نہ ہو لیکن کچھ الفاظ ایسے بھی تھے جو اخلاق سے گرے ہوئے کہے جائیں تو ہرگز غلط نہ ہو گا۔ اور حیرت اور دُکھ کی بات یہ ہے کہ ان الفاظ پہ کسی قسم کی پشیمانی کے بجائے فخریہ طور پر ان کو اون کرنا سامنے آ رہا ہے۔


اس عورت مارچ میں حیران کن طور پر اُن کم سن بچیوں کے حقوق پہ بھی کوئی بات نہیں کی گئی جو اشرافیہ کے گھروں میں ظلم و ستم کا شکار ہو رہی ہیں؟ کیا وہ بچیاں مستقبل کی مائیں نہیں ہیں؟
کیا ان کے حقوق نہیں ہیں؟ کیا اس پورے مارچ کا قضیہ یہی تھا کہ طلاق یافتہ ہو کے خوشی کا اظہار کیسے کیا جائے؟ کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ شرعی ہوتے ہوئے بھی یہ ناپسندیدہ عمل قرار پایا ہے؟
اس عورت مارچ کے حوالے سے سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ اس پہلو پہ غور ہی نہیں کیا گیا کہ اس مارچ کو اسپانسر کس نے کیا، اس مارچ مین حصہ لینے والے افراد کے درمیان باہمی ربط کس طرح قائم کیا گیا، اس مارچ کی انتظامیہ کون تھی، اس مارچ میں شریک ہونے والوں کی وضح قطع ایک جیسی ہی کیوں تھی (کہ ان کا تعلق معاشرے کے ایک ہی طبقے سے محسوس ہو رہا تھا) ، اس مارچ میں نعروں کے لیے لکھے گئے تمام پلے کارڈز ایک جیسا منظر ہی کیوں دکھا رہے تھے، کیا ایسا تو نہیں کہ کچھ مفادات کے حصول کے لیے بعض انفرادی شخصیات یا اداروں نے (غیر ملکی اور ملکی این جی اوز) بطور خاص اس دن ایسا متنازعہ ایونٹ ترتیب دیا ہو، ان تمام سوالوں کا جواب ڈھونڈنا تو شاید اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ اقلیت میں چند افراد تھے جب کہ اس عورت مارچ کے حوالے سے سے باشعور خواتین جن کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے ہے نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
اور اسے عورت کی عزت سے زیادہ تذلیل سے تعبیر کیا ہے۔ سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں تو عورت اس وقت جہاز اُڑا ہی ہے، مسلح افواج میں اعلیٰ عہدوں پہ موجود ہے، طب کے شعبے میں کارہائے نمایاں سر انجام دے رہی ہے، نجی شعبے میں اپنے کاروبار کی خود نگران ہے، خواتین فیکٹریاں چلا رہی ہیں، سمال سے لے کر میڈیم انڈسٹری کی مالک بھی ہے، پاکستان میں عورت اداروں کی چیف ایگزیکٹو ہے، وہ پوری دنیا میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہے تو پھر یہ کون سا ٹولا ہے جو عورت کے نام پہ اپنے مفادات کی تکمیل چاہ رہا ہے۔







