روشن خیالی کے نام پر تاریک خیالی اور اپنی جہالت کے پوسٹر


عقل کی دشمن ان خواتین کو کون بتائے کہ اگر مرد بھی غیر معمولی یا کم کپڑے پہنے گا تو اس کو بھی وہی توجہ ملے گی۔ ویسی ہی آوازیں اس کا بھی پیچھا کریں گی۔ آپ کو توجہ نہیں چائیے تو پنگے نہ لیں۔ چائیے تو پھر کھال موٹی کریں۔ کچھ نوجوان بھی بے ہودہ ترین پوسٹر کیے کھڑے تھے، ایک پر لکھا ہے ”عورت میری پسلی سے نہیں میں اس کی vagina سے نکلا ہوں“ یہ بد بخت اتنا بھی نہیں جانتا کہ وہ اپنی ماں کو چوک پر کھڑا ذلیل کر رہا ہے۔

اس پوسٹر کو پڑھنے کے بعد اس کی ماں صرف ایک ہی حوالے سے جانی جائے گی۔ اس بات کو کہنے مقصد کیا ہے، غالباً یہ کہ عورت میری محتاج نہیں یا میں اس کا محتاج ہوں۔ اس بات کو پہنچانے کا یہ کون سا طریقہ ہے۔ اس طرف جائیں تو پھر یہ خود اپنے والدین کو کیا نام دے گا۔ کون سے مغرب میں یہ بے ہودہ مثال دی جاتی ہے۔

آزاد خیالی یا روشن خیالی کس چڑیا کا نام ہے پہلے جان تو لیں۔

روشن خیالی کا مطلب کپڑے اتارنے، فری جنسی تعلقات، منشیات نہیں، اس کا مطلب ہے دوسروں کے خیالات و نظریات سے اتفاق نہ رکھتے ہوئے بھی ان کا احترام اور جینے کی آزادی۔ گالی اور طعنہ ہی تو روشن خیالی کی ضد ہے۔

ٹیکنالوجی کے آتے انقلاب کو غیر مذہبی قرار دینا تاریک خیالی ہو گی، لاؤڈ اسپیکر کو غیر مذہبی قرار دیا گیا۔ ایک انسان کا خون دوسرے کو لگانا غیر مذہبی قرار پایا، تصویر کو حرام کہا گیا، ٹی وی حرام، پرنٹنگ پریس حرام، الٹرا ساؤنڈ حرام، ایکسرے حرام اور عرب کے صحراؤں میں تیل نکالنے کی کوششیں بھی شروع میں حرام قرار پائیں تھیں۔ یہ ہیں تاریک خیالی کی مثالیں اور ان تاریک خیالات سے لڑنے کو روشن خیالی کہتے ییں۔

ملا بھائی نے اسلام کے نام سے بہت لوگوں کو چڑ کروا دی ہے، اس کے چنگل سے اسلام کو چھڑوانا اور سمجھنے کی کوشش روشن خیالی ہو گی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عین جوانی میں اپنے سے قریب پندرہ برس بڑی بیوہ سے شادی کر کے روشن خیالی کا ثبوت دیا تھا اور آپ کو شادی کا پیغام بھیجنے والی نے روشن خیالی کا ثبوت دیا تھا۔ کیا آج بھی ہم اس روشن خیالی کو اپنا پائے ہیں۔ یہاں ایک چالیس سالہ بیوہ، ایک پچیس سال کے کنوارے نوجوان کو شادی کا پیغام بھیج کر تو دیکھے۔

یہ ہے تاریک خیالی۔ آنکھیں اور کان ترس گئے کہ کوئی خاتون قرآن اٹھا کر ملا بھائی کی تاریک خیالی کو چیلنج کرے اس سے پوچھے کہ بتاؤ کہاں لکھا ہے کہ کہاں مجھے کام کرنے سے روکا گیا ہے۔ کہاں لکھا ہے کہ میری عزت اور مرد کی عزت میں فرق ہے۔ کیا جنت اور جہنم کے اصول مردوں کے لئے اور ہیں عورتوں کے لئے اور۔ کہاں مرد کو اجازت ہے کہ وہ عورت کو غیرت کے نام پر قتل کر دے، کہاں لکھا ہے کہ عورتوں کا جسم قبائلی جھگڑے ختم کرنے کے لئے ونی کرنا جائز ہے، کہاں لکھا ہے کہ شادی پر تالیاں بجاتی بچیوں کو قتل کردیا جائے۔

کہاں لکھا ہے کہ عورت کی زندگی کا مقصد صرف شوہر کی جنسی خواہشات کی تکمیل ہے، کہاں لکھا ہے عورت کھیل کود کے مقابلے میں حصہ نہیں لے سکتی، کہاں لکھا ہے کہ اسے پڑھنے کی یا نوکری کی اجازت نہیں۔ مگر اس کے لئے پڑھنا ہو گا۔ سمجھنا ہو گا۔ یہ مشکل ہے گالی دینا آسان۔ اگر خود کچھ نہیں کرنا تو جو لوگ پہلے سے یہ کام یا جہاد کر رہے ہیں ان کا ساتھ دیں اور یہ بھی نہیں تو نہ دیں انہیں کمزور تو نہ کریں۔

آزادی کے نام پر آپ کپڑے اتارنا چاہتی ہیں دوسروں کو دیکھنے کی آزادی بھی نہیں۔ کپڑے اتار پھینکیں گی یہ آپ کر سکتی ہیں آپ کے بس میں ہے لیکن اس کا ایک نتیجہ نکلے گا اور وہاں آپ کی آزادی ختم دوسرے کی شروع ہوتی ہے۔ دنیا میں جسمانی زور کا دور مدت سے ختم ہو چکا۔ کیوں آپ کی قابلیت، ایجادات، ہنر، حسن بیان، اخلاق آپ کی عزت نہیں کروا پاتا، لڑائی در اصل یہ ہے۔ آپ پھر وہی کپڑے پھر وہی جسم۔

خواتین موٹر سائیکل چلائیں، مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہیں تو خوف و ہراس کے بغیر کر پائیں، دن میں یا رات کو باہر نکلیں تو امن سے واپس آ جائیں۔ یہ روشن خیالی ہے۔ ایک بیوہ یا طلاق یافتہ عورت سے کنوارے کی شادی کو اس لئے کھلے دل سے قبول کرنا کہ ان کی اپنی آزاد مرضی ایسی ہی ہے، روشن خیالی ہو گی۔ کوئی عورت یا مرد شادی کے بغیر زندگی گزارنا چاہے تو خوشی سے گزارے اس کو طعنہ بنا دینا تاریک خیالی اور اس کی اس خواہش کا احترام روشن خیالی ہو گی۔

اب ذرا مغرب سے جڑی جاہلانہ سوچیں بھی پرکھیں۔ میں اپنی زندگی کے بہترین سات سال لندن میں رہا اور بہت انگریزوں سے دوستیاں بنیں۔ کچھ آج تک قائم ہیں۔ مجھے خود انگریزوں سے دوستی اور بے تکلف گپ شپ کے بعد پتہ چلا کہ ہم کن غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ ان کی شام کی دوستوں کی گپ شپ میں لڑکیوں کا ذکر عین اسی انداز میں ہوتا ہے جیسے یہاں۔ لڑکیوں کے کپڑوں پر، ان کے انداز پر، ان کے جسم پر عین وہی تبصرے ہوتے ہیں جس طرح کے یہاں، خود لڑکیاں جو گروپ میں بیٹھی ہوتی ہیں اسی طرح باتوں کے مزے لے رہی ہوتی ہیں اور اپنے تبصرے بھی کرتی ہیں۔

ہنسی مذاق میں گپ شپ میں دوستی میں ہر طرح کی بکواس بھی شامل ہو جاتی ہے اور اسی کو بے تکلفی کہتے ہیں۔ اب جن گوریوں کی نقل یہ جعلی مغرب زدہ خواتین کرتی ہیں، خدا کی قسم یہ ان کی ہمت اور تمیز تہذیب میں ان سے آدھی بھی نہیں۔ عام انگریز خاتون، سب سے پہلے آٹھ کر شوہر بچوں کو تیار کرواتی ہے، ناشتہ کروا کر بھیجتی ہے پھر خود تیار ہو کر، دفتر، واپسی پر پھر شوہر، بچوں کی خدمت، رات کا کھانا۔ تمام ویک اینڈ کپڑوں اور گھر کی صفائی، استری، جوتے پالش۔

اپنے سارے کام خود اورگھر والوں کے بھی۔ کیونکہ گھریلو ملازم ایسی عیاشی ہے جو اپر مڈل کلاس کی استطاعت سے بھی باہر ہے۔ گاڑیاں دھوتی ہیں، پیٹرول خود ڈالتی ہیں، ٹائیروں میں ہوا بھی خود بھرتی ہیں۔ گھر کے بلوں کا حساب سمیت ہر وہ کام جو گھر چلانے کے لئے ہوتا ہے اس کے ساتھ عام طور پر نوکری یا بزنس کی ذمہ داری اٹھا کر گھر کا خرچہ چلانے میں مدد گار بھی ہیں۔ اور ان سارے کاموں میں کوئی ملازم نہیں جو ٹاکی مارے یا کپڑے استری کر دے۔ یہ عام سی بات ہے کہ بوائے فرینڈ یا شوہر شراب خانے یا کسی پارٹی میں کھل کر شراب پیے، واپس گھر جاتے گاڑی گرل فرینڈ یا بیوی چلا کر جائے۔ کیونکہ وہ یا تو پیے گی نہیں ورنہ بہت کم پیے گی کہ گاڑی اس کو چلانا ہے شوہر نہیں چلائے گا۔

ان تمام فرائض کو نبھانے کے بعد وہ اپنا بھی خیال رکھتی ہیں۔ عام طور پر جب تک ایک مرد کے ساتھ ہیں اسی کے ساتھ رہیں گی، سچ بولتی ہیں۔ دوسرا پسند آگیا تو بتا دیں گی، رشتہ ختم کر کے انجام بھگتیں گی مگر جھوٹ بول کر دو سے افئیر نہیں بناتیں اور ایسا کرنا تسلیم شدہ غیر اخلاقی عمل ہے۔ آپ کسی لڑکی یا خاتون کے لئے کہیں بھی عزت سے دروازہ کھول دیں تو شکریہ کرتی ہیں۔ اپنی سیٹ آفر کریں تو شکریہ۔ ڈسکو یا کلب میں آپ انہیں ڈانس کی یا دوستی کی دعوت دیں تو یا قبول کر لیں گیں یا شائستگی سے بتا دیں گی کہ وہ اپنے بوائے فرینڈ یا شوہر کے ساتھ ہیں، گالیاں نہیں دیں گیں۔

تہذیب، شائستگی اور اخلاق ان کی شخصیت میں نظر آتا ہے۔ مطلب وہی فرق ہے جو، جمائما خان اور ریحام خان کا ہے۔ ظاہر ہے کہ دو انسان کبھی ایک سے نہیں ہو سکتے، معاشرہ تو بہت بڑی چیز ہے اس لئے عمومی رویے پر ہی بات ہو سکتی ہے۔ اور اس عمومی رویے میں مجھے اپنی چیخ وپکار کرتی مغرب زدہ خواتین، گوریوں کے پاس بھی کھڑی دکھائی نہیں دیتیں۔ عام گوریاں تو ہمارے ڈنگروں کی طرح کام کرتی ہیں اور دل لگا کر کرتی ہیں یہ ہی رویہ ان کا جنس میں بھی ہے۔

جب قریب ہوتی ہیں تو ساتھ لگ کے چلنا، ہاتھوں میں ہاتھ، سر کو کندھے پر رکھنا، اپنے بوائے فرینڈ یا شوہر کی ہر ضرورت اور شوق کا خیال رکھنا۔ وہ اس کو اپنی توہین سمجھتی ہے کہ اس کا ساتھی کسی اور کو دیکھے کیوں کہ وہ ہر طرح سے اس کے جذبات حتیٰ کہ شوقینوں کا خیال رکھتی ہیں۔ ان کے مقابلے میں شور مچاتی ہماری مغرب زدہ عورتیں بد تمیزی اور گنوار پن کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں۔ ان کے منہ سے گالی کے سوا کچھ نکلتا نہیں۔

ان کو راستہ دو تو یہ منہ بنا کر گزر جائیں گی۔ ان کو اپنی نشست آفر کرو تو جھاڑ کر پیچھے پڑ جائیں گی۔ اپنی نوکرانی کو یہ محض بے جان چیز سمجھتی ہیں۔ اپنا کام خود کرتے ان کو موت آتی ہے۔ گوری جینز اس لئے پہنتی ہے کہ اسے کام کرنے میں آسانی رہے یہ پہنتی ہیں کہ فیشن ہے۔ اس ایک مثال سے فرق سامنے نظر آ جاتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3