روشن خیالی کے نام پر تاریک خیالی اور اپنی جہالت کے پوسٹر
ان خواتین کی اکثریت یا تو کبھی سرے سے کسی مغربی ملک گئی ہی نہیں وہ تو ٹی وی، فیس بک، یو ٹیوب، یا انسٹا گرام سے مغرب کو جانتی ہے، جو گئی ہیں وہ دو چار ہفتے گھوم پھر کے واپس۔ کسی بھی معاشرے کو سمجھنے کے لئے یہ دونوں طریقے ناقص ہیں۔ کم از کم دو سال رہ کر آپ کسی معاشرے کو جان پاتے ہیں۔ اور وہ بھی تب جب آپ کا تعلق اور دوستیاں وہاں کے مقامی لوگوں سے ہو۔
انگریزی کا ایک لفظ ہے، spinster۔ اس لفظ کا اردو ترجمہ والا لفظ مجھے نہیں مل سکا۔ اس کا مطلب ہے، 25 سال یا اس سے زیادہ عمر کی غیر شادی شدہ لڑکی۔ یعنی ایسی لڑکی جس کی شادی 25 سال تک نہ ہو اب وہ گرل نہیں spinster ہے۔ یہ صرف ایک طعنہ نہیں آفیشیل میرج سرٹیفکیٹ کے جاری ہونے سے قبل آفیشل فارمز پر لکھا جاتا ہے۔ ایسی کوئی قید یا لفظ مرد کے لئے موجود ہی نہیں۔ مطلب کہ جس مغرب کو خوابوں میں دیکھا جاتا ہے سچ اس سے بہت مختلف ہے۔
آخر یہ کہ ہماری اصل اور خالص عورت عظیم ہے جو کھیتوں میں جان مارتی ہے، گھروں میں ساری زندگی اف کیے بغیر کام کرتی ہیے، خاندان کی جہالت پر ماری جاتی ہے۔ مار کھاتی تشدد سہتی زندگی گزار دیتی ہے۔ ڈاکٹر بنتی، سی ایس ایس کرتی، اور زندگی کے ہر شعبے میں خاموشی سے جدو جہد کرتی ہے۔ روشن خیالی ان عورتوں کی زندگی کو آسان بنانے کی جدو جہد کا نام ہے۔ ان کی عزت، احترام کو یقینی بنانا روشن خیالی ہے۔ تعلیم اور ہنر ہر کسی کی دسترس میں لانے کی کوشش، روشن خیالی ہے۔
تشدد سے ان کو بچانا روشن خیالی ہے۔ کسی مجبور کی عزت نہ بکے اس کو یقینی بنانے کی جدو جہد کا نام ہے روشن خیالی۔ غربت، جاہلانہ رسوم سے ان کو بچانا، نکالنا، روشن خیالی ہے۔ ننگا ہونا، بے شمار افراد کے ساتھ کسی بھی جگہ جنسی تعلقات کا مطالبہ کرنا اور ساری زندگی کو شلوار کے اندر سے دیکھنا تاریک خیالی ہے۔ اور یہ ہی وہ مقام ہے جہاں انتہا پسند ملا اور چیخ و پکار کرتی یہ عورتیں ایک ہو جاتے ہیں کیوں کہ یہ دونوں زندگی کو ایک ہی جگہ یعنی شلوار سے دیکھتے ہیں۔ حقیقت میں اسلام کا کوئی تعلق نہ انتہا پسند ملا سے ہے اور نہ ہی ان خواتین کا کوئی تعلق مغربی تہذیب سے ہے۔

