نوید اور نبیلہ کی لو اسٹوری


میں اور دیگر سنجیدہ کولیگز تو بیزاری سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے جبکہ نوید اور نبیلہ ہی وہ عظیم شخصیات تھیں جنھیں جوک نے متاثر کیا۔ نبیلہ بولی سر کتنا کیوٹ جوک ہے، چھوٹی سی چیونٹی اور اُسکا چھوٹا سا ہیلمٹ۔ نوید نے کہا سر آپ کے جوکس بھی کمال ہوتے ہیں، کِس آہستگی سے ہیلمٹ کی اہمیت کو اجاگر کرکے ایک سوشل میسیج بھی دیا ہے واہ۔ میں نے نوٹ کیا کہ نبیلہ باس کو اِس محبت سے سر کہتی ہے کہ بس تاج کہنے کی دوری رہ جاتی ہے جبکہ باقی کولیگز خصوصاً جِن سے کوئی فائدہ ممکن نہ تھا اُ نکے نام کے ساتھ بھائی لگاتی ہے۔

اس سے ایک معاشرتی راز بھی کھُلا کہ ہمارے ہاں عورتوں کو بھائیوں سے وہ مراعات میسر نہیں آسکتیں جودیگر مہیا کرسکتے ہیں۔ کچھ دیر بعد نوید آفس پیون کو باس کی گاڑی پہ اچھی طرح کپڑا مارنے کا حکم دیتا ہے تو پیون کمر درد کی شکایت کرتے ہوئے معذوری کا اظہار کرتا ہے۔ نوید غصے میں صفائی کا کپڑا لئے پارکنگ کی جانب روانہ ہو جاتا ہے۔ اب ہنڈیا بالکل دم پہ تھی کیونکہ اگلے روز ہیڈ آفس سے لوگوں نے آنا تھا اور انکریمنٹ کے حوالے سے باس کے ساتھ مل کر فیصلے ہونا تھے۔

اگلی صبح میں آفس آیا تو خلافِ توقع باس کے کمرے سمیت نوید اور نبیلہ کے چہروں پہ بھی خالی پن نظر آیا۔ میں نے بیٹھتے ہوئے ایک کولیگ سے پوچھا کیا ہوا ہے؟ وہ بولا رات باس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا، ڈاکٹروں نے چھ ماہ کے لئے بیڈ ریسٹ کا کہا ہے ایسے میں نیوز چینل کا کام تو نہیں رُک سکتا چنانچہ ہیڈ آفس ایک نئے صاحب کو وقتی یا مستقل طور پر باس بنا کربھیج رہاہے۔ مجھے نوید اورنبیلہ پہ رحم آیا جبکہ سابقہ باس کا خیال۔

چنانچہ لنچ ٹائم میں ہم چند کولیگ ہسپتال پہنچ گئے۔ باس کی جس گردن میں سریا ہوا کرتا تھا آج وہاں پلاسٹر چڑھا ہوا ہے۔ ہم نے صدقِ دل سے مگر روایتی انداز میں تیمارداری کی اور واپسی کی راہ لی۔ گاڑی میں آرہے تھے تو میں نے کہا کہ ہم باس کی مکمل دلجوئی نہیں کرپائے وہ تھوڑا دکھی لگ رہے تھے۔ ایڈمن صاحب کہنے لگے وہ اپنے چہیتوں نوید اور نبیلہ کی تلاش میں تھے۔ میں نے سوالیہ انداز میں کہا چہیتے؟ کہنے لگے ہاں تو اور کیا سب کا سالانہ ریگولر دس فیصد انکریمنٹ ہوتا رہا ہے جبکہ باس کی خصوصی رپورٹ پہ اُن دونوں کا پچھلے تین برس سے بیس فیصد ہورہا تھا، لیکن وہ ایسے احسان فراموش نکلے کہ تیمارداری کو نہیں آئے۔

میں نے کہا آج باس سمجھ گئے ہوں گے کہ نوید اور نبیلہ ان سے نہیں ان کی کرسی سے محبت کرتے ہیں۔ میں نے مزید فلسفہ جھاڑا کہ چاپلوسی کرنے والوں کی کوئی تو عزتِ نفس ہونا چاہیے، یا پھر جن کی چاپلوسی کی جارہی ہو انکی۔ فلسفہ ذرا مشکل تھا چنانچہ کسی نے جواب نہیں دیا اور میں داد کا منتظر ہی رہ گیا۔ ہم سب اس غلط فہمی میں مبتلا آفس پہنچے کہ چلو اس سال تو سب کی تنخوا ہ میں برابر اضافہ ہوگا، لیکن نہیں۔ نئے باس آفس لابی میں موجود تھے اور نوید اور نبیلہ ان کے گرد کھڑے تھے۔

ہم لوگوں کے جیسے پاوں جم گئے، باس کہہ رہے تھے کہ ایک چیونٹی کے پیچھے پولیس لگی تھی وہ بھاگتے ہوئے مسجد میں جا چھپی لیکن پولیس نے اُسے وہاں سے بھی پکڑ لیا۔ کیسے؟ نوید اور نبیلہ اپنی نئی محبت کے سامنے انجان بنے تھے کہ نئے باس گویا ہوئے وہ ایسے کہ چیونٹی کی جوتیاں باہر پڑی تھیں۔ نبیلہ نے کہا کیوٹ جوک سر، چھوٹی سی چیونٹی کی چھوٹے چھوٹے شوز اور وردیاں پہنے ہوئے چھوٹی چھوٹی آنٹ پولیس۔ نوید نے اضافہ کیا سر آپ کی ذہانت اور دینداری کو داد دینا پڑے گی، جوک میں بھی آپ نے جوتی مسجد سے باہرہی اُتروائی۔ واہ۔ سب کولیگز نے ایک دوسرے کا منہ دیکھا اور نئے باس کو منہ دکھانے لابی میں داخل ہو گئے اور میں کھڑا سوچ رہا تھا کہ ایک بار پھرنوید اور نبیلہ کو نئی محبت مِل گئی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2