نوید اور نبیلہ کی لو اسٹوری


یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں نے زندگی کی دوسری نوکری شروع کی، دوسری اس لے ے کہ تب میں پہلی سے باعزت طریقے سے نکالا جاچکا تھا۔ باسزمیں ایک بات مزے کی ہوتی ہے وہ ہر کسی ملازم کو لات مار کر نہیں نکالتے۔ بڑے مردم شناس ہوتے ہیں صرف ڈھیٹ ملازمین کو دھکے دے کر نکالتے ہیں جبکہ شریف ورکرز کو چار چھ ماہ کی تنخواہیں روک کر۔ خیر یہ باس کی بات یہاں کہاں سے آگئی؟ یہ قصہ تو نوید اور نبیلہ کی محبت کا ہے۔ تو میں کہہ رہا تھا کہ میری دوسری نوکری کا پہلا دن تھا۔

تعارف کے بعد میں اپنی نشت پہ بیٹھا کولیگز کا جائزہ لے رہا تھا تو میری شاطر نگاہوں کو نوید اور نبیلہ کے درمیان کچھ خاص محسوس ہوا۔ ویسا ہی جیسا مرد و عورت میں ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو کن اکھیوں سے دیکھتے تھے، اِن کن اکھیوں میں اب میری اکھیاں بھی شامل ہو گئیں تھیں۔ دونوں ایک دوسرے کی ہلکی سے جنبش پہ چوکنے ہو جاتے تھے۔ مجھے نیوز چینل کی تعفن زدہ فضا میں یہ جذبہ تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہوا۔ اتنے میں نوید آہستگی سے اُٹھا اور مرکزی کمرے سے کسی ذیلی منزل کو روانہ ہوگیا، کچھ توقف کے بعد نبیلہ بھی پیچھے ہولی۔

اُنکی تو پتہ نہیں البتہ میرے دل کی دھڑکن بلاوجہ تیز ہوگئی۔ مجھے لگا کہ ان کی لگن نے اُنھیں آفس میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کے خوف سے بھی آزاد کردیا ہے۔ لیکن نہیں میرا گمان غلط نکلا چند لمحوں بعد ہی نبیلہ جس آہستگی سے گئی تھی اُسی خاموشی سے واپس آکر بیٹھ گئی اور پھرنوید بھی واپس آکر شیشے کے اُس پار باس کے کمرے میں موجود مہمانوں پہ نظر ڈالتا ہوا بیٹھ گیا۔ میں نے بھی نظر ڈالی تووہاں ایک شادی شدہ خاتون اور ایک شادی کا نتیجہ یعنی بچہ موجود تھا۔

مجھے بہت گھریلو سا ماحول لگا۔ ذہن میں سوال ابھرا کہ کہیں باس نوید اور نبیلہ کو رشتہءازدواج میں منسلک کرنے کے لئے مذاکرات تو نہیں کررہے؟ کیونکہ اِن دونوں کے چہروں پہ بے چینی نمایاں تھی اور سانسیں بے ترتیب تھیں۔ اتنے میں نبیلہ اُٹھی اور نوید سے نظر بچا کر کہیں چلی گئی چندلمحوں بعد نوید نے (میرے مطابق) ممکنہ شریکِ حیات کو نہ پایا تو اضطرابی انداز میں اس کے پیچھے گیا۔ گوکہ میں کلچرل رپورٹر کے طور بھرتی ہوا تھا مگر میرے اندرانویسٹی گیٹیو صحافت نے کروٹ لی اور میں نصیبو لال کے بعض غیر شائستہ گانوں کا عملی مظاہرہ دیکھنے، اُن دونوں کے تعاقب میں چل پڑا۔

میرے ارمانوں تب اوس پڑی جب میں نے اُن دونوں کو فاصلے پہ کھڑے پایا۔ میں اپنے چال چلن میں اعتماد بحال رکھتے ہوئے ریسپشنسٹ کے پاس گیا اور باتوں باتوں میں اُس سے باس کے کمرے میں موجود مہمان خاتون کا دریافت کیا تو پتہ چلا کہ وہ آفس کی خاتونِ اول یعنی باس کی بیگم ہیں اور بچہ بھی اسی رشتے کا شاخسانہ ہے۔ کچھ لمحوں بعد باس کے کمرے کا دروازہ کھلا۔ بیگم صاحبہ باہر آئیں تو نوید اور نبیلہ ان کی جانب لپکے۔ نبیلہ نے خاتونِ اول کو گلے لگا لیا لیکن نوید کو یہ سہولت میسر نہ آسکتی تھی چنانچہ اُس نے جیب سے چاکلیٹ نکالی اور باس کے بچے کو جا لیا۔

میری آنکھیں عجیب لطف وکرم کے مناظر دیکھ رہی تھیں۔ باس کے بچے کو باس جتنا پروٹوکول دیا جارہا تھا، نوید بچے کے قد کے برابر ہونے کی خاطر زمین بوس ہوچکا تھا۔ بچے کو چاکلیٹ چھیل کر پکڑانے کے بعد اُسکے جوتوں کو ازسرِ نو کھول کر باندھ رہا تھا۔ دوسری طرف آفس کی خاتونِ اول اور نبیلہ باہمی دلچسپی کے امور پہ تبادلہ خیال کررہی تھیں۔ اُن دونوں کے درمیان کچھ طے پایا۔ میں دور ریسپشن پہ کھڑا آڈیو سے تو محروم تھا البتہ ویڈیو صاف دکھائی دے رہی تھی۔

نبیلہ آگے بڑھی اور باس کے بچے کو نوید سے تقریباً چھینتے ہوئے خود سے لگا لیا، جیسے برسوں کے بچھڑے ہوئے مل گئے ہوں حالانکہ کے بچہ ابھی لگ بھگ دو برس کا تھا۔ نبیلہ، باس کی خاتونِ اول اور ضربِ اول کو ساتھ لئے براستہ ریسپشن آفس سے باہر چلی گئی۔ نوید کسی ہارے ہوئے عاشق کی طرح انہیں نظروں اوجھل ہوتا دیکھتا رہا اور کہیں چلا گیا۔ میں نے سوالیہ نظروں سے ریسپشنسٹ کودیکھا اور پوچھا یہ سب؟ وہ بولی زیدی صاحب آپ نئے آئے ہیں یہ تو روز کی کہانی ہے، آپ نے چاپلوسی، بٹرنگ، ٹی سی، یا کم از کم نمبر بنانے کا لفظ تو سُنا ہوگا؟

میں نے جواب دیا ہاں۔ بولی بس یہ سب انہی الفاظ کا مجموعہ ہے۔ میں نے کہا، یہ ذرا زیادہ ڈرامہ نہیں کرگئے؟ کہنے لگی سر یہاں فلمیں چلتی ہیں آپ ڈرامے کی بات کرتے ہیں۔ ریسپشنسٹ سے گفتگو میں ہلکی بے تکلفی محسوس ہوئی تو میں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے پوچھا، کیانوید اور نبیلہ کا آپس میں کوئی الفت و محبت کا معاملہ؟ کہنے لگی سر دونوں میں محبت تو ممکن ہی نہیں، بس ایک ریس ہے، باس کو خوش کرنے کی۔ سارا سال بھاگتے رہتے ہیں آج کل آخری راونڈ چل رہا ہے کیونکہ سالانہ انکریمنٹ لگنے والا ہے۔

آغاز میں بیان کی گئی، اپنی غلط فہمی پہ سر مارتا میں وہاں سے چل پڑا اورنتیجہ یہ تھاکہ نوید اور نبیلہ کو باس سے محبت ہے۔ میں چلتا ہوا کیفے ٹیریا پہنچا تو وہاں نوید سیگریٹ سے دشمنی نکال رہا تھا، چہرہ زرد، آنکھیں لال اور جلے ہوئے سیاہ ہونٹ، یعنی شدید غم کے عکس میں رنگ بھرے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھاخیریت ہے؟ نوید نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے ایک بڑا کش لیا۔ ریسپشنسٹ کی معاونت سے میں سارے معاملے کی حقیقت تو جان چکا تھا۔

چنانچہ صحیح چوٹ لگائی۔ میں نے کہا مجھے لگتا ہے کہ یہ سب مِس نبیلہ کی وجہ سے ہے؟ بچہ کِس محبت سے آپ کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ نبیلہ نے رنگ میں بھنگ ڈال دی۔ اس جملے کے دوران نوید نے یوں میری طرف دیکھنا شروع کیا جیسے میں اُسکا واحد ہمدرد ہوں۔ فوراً بولا اُسکی یہی عادت ہے ہمیشہ رنگ میں بھنگ ڈالتی ہے۔ زیدی تم خود بتاؤ کیا بچوں کے دانت چاکلیٹ سے خراب ہو جاتے ہیں؟ میں سچ بولنا چاہتا تھا لیکن مجبوراً کہہ دیا نہیں۔

میں نے کہا پیسٹ اور ٹوتھ برش کِس مرض کی دوا ہیں۔ نوید کی آنکھیں چمک اُٹھیں اب اُسے میری خیر خواہی پہ شک ہی نہ رہا تھا۔ جھٹ سے موبائل نکالا اور فیس بُک پہ نبیلہ کی چند منٹ قبل کی تصویری پوسٹ دکھانے لگا۔ جس میں باس کی بیگم اور نبیلہ مارکیٹ میں گال سے گال لگائے مسکرارہے ہیں، اور لکھا تھا شاپنگ ودھ کلوزفرینڈ، فیلنگ ایکسائیٹڈ۔ میں ابھی دیکھ ہی رہا تھا کہ نوید تقریباً چیختے ہوئے بولا بکواس کرتی ہے جھوٹ بولتی ہے، باس کی بیگم کے میں زیادہ کلوز ہوں۔

میں نے راز داری سے پوچھا باس کو پتہ ہے؟ نوید بولا کِس بات کا؟ میں سمجھ گیا کہ میرا سوال غلط تھا، میں زیادہ ہی کلوز کر گیا تھا۔ نوید بولا زیدی تم بتاؤ تم تو نیوٹرل آدمی ہو، نئے آئے ہو۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ نوید دل کے پھپھولے پھوڑنے لگا، کہتا ہے ”باس اور ان کی فیملی سے میرے قریبی تعلقات ہیں، جب ان کا بیٹا پیدا ہواتو میں نے ہی سارے ہسپتال میں مٹھائی بانٹی تھی بلکہ جب نرس نے آکر کہا کہ مبارک ہو لڑکا ہوا ہے تو میں نے تسبیح روک کر سجدہ ءشکر ادا کیا تھا، یہاں تک کہ دیگر مریضوں کے لواحقین مجھے مبارک باد دینے لگے تو میں نے باس کی طرف اشارہ کیا اور سارا شک دور کیا۔

“ نوید فرطِ جذبات میں رونے ہی والا تھا کہ میں نے اُسے تسلی دی۔ نوید مزید تعلق داری جتاتے ہوئے بولا بچے کی ختنہ تو ہسپتال میں ہوئی لیکن ایک دن بارش کی وجہ سے ڈاکٹر پٹی بدلنے گھر نہ آسکا تو اُس نے ہی جاکر پٹی بدلی۔ میں نے کہا یہ تو کافی پرسنل اور مضبوط تعلق ہے، جو نوید آپ نے باس کی آنے والی نسلوں سے جوڑا۔ نوید ابھی بھی غمزدہ تھا۔ وہ دن تو خیر ایسے ہی گزرا۔ اب آنے والا ہر دن مجھے حیرت میں ڈالے جارہا تھا، میں نے دیکھاکہ انسان ایک انکریمنٹ کے چکر میں کِس حدتک نیچے جاسکتا ہے۔

ایک روز باس آفس کی لابی میں قوم سے خطاب کررہے تھے کہ ان کے فون پہ میسج آیا، انہوں نے ادھورا ایکسکیوز می کہ کر میسیج پڑھا اور مسکرانے لگے۔ وہ خطاب وہیں سے شروع کرنے والے تھے جہاں سے رابطہ منقطع ہوا تھا کہ نبیلہ انتہائی لجاحت سے کہنے لگی باس کِس کا میسیج آگیا جو یوں مسکرا رہے ہیں؟ باس نے کہا نہیں کسی کا نہیں۔ نبیلہ سنِ بلوغت سے پہلے کی بچی بنی لاڈ سے کہنے لگی، نہیں سر آپ کو سُنانا پڑے گا۔ اس سے قبل کہ وہ زمین پہ ایڑھیاں رگڑ کرضد کرنے لگتی۔

باس نے کہا جوک بھیجا ہے کسی نے۔ یہاں سے نوید نے حصہ ڈالا، کہنے لگا سر جوک تو سُنا ہی دیں صبح سے بور ہورے ہیں۔ نبیلہ اپنی سجائی ہوئی ڈش پہ نوید کولیموں نچوڑتا دیکھ کرتلملا اُٹھی۔ باس نے جوک سُنانا شروع کیا کہ ایک چیونٹی اور ہاتھی موٹر سائیکل پہ جارہے تھے، ایکسیڈنٹ ہوا اور ہاتھی مر گیا لیکن چیونٹی محفوظ رہی۔ کیونکہ۔ باس نے میسیج میں لکھے ہوئے سسپنس والے نقطوں جتنا پاز لیا اور گویا ہوئے کیونکہ اُس نے ہیلمٹ پہنا ہوا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2