نوے کی دہائی میں بیتا بچپن


بچپن کا زمانہ ہر کسی کے لئے بہت خاص ہوتا ہے اور اس کی یادیں ایک سہانے خواب کی مانند ہوتی ہیں۔ یہ وہ دور ہوتا ہے جب زندگی امکانات سے بھرپور ہوتی ہے۔ پریشانی نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ چھوٹی چھوٹی سی باتیں ڈھیروں خوشیوں کا سامان ہوا کرتی ہیں۔ حسد، رقابت، بغض اور کینہ جیسے منفی جذبات کا ادراک ہی نہیں ہوتا۔ اگر کوئی غیر معمولی حادثہ نہ پیش آ جائے تو ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوتی ہیں۔ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں کہ ذہن میں آ جائیں تو آنکھوں میں آنسوؤں کا ایک سیلاب امڈ آتا ہے۔

ہم نوے کی دہائی میں بچپن گزارنے والے شاید وہ آخری نسل ہیں جس کا بچپن پچھلی نسلوں کی روایتوں سے اک گہرا ربط رکھتا ہے۔ ہمارے کھیل، رسم و رواج، شادی بیاہ، میلے ٹھیلے اور گاؤں کی چوپالیں ہی ہماری کل کائنات ہوا کرتے تھے۔ میرے ابتدائی بچپن میں ہمارے گاؤں میں بجلی نہیں ہوا کرتی تھی۔ گرمیوں کے دن دھریک کی چھاؤں تلے گزارے جاتے۔ ذرائع آمد و رفت انتہائی محدود تھے۔ گھوڑا، گدھا یا پھر سائیکل عام سواری ہوا کرتے۔ دو تین دن بعد ابا جی سے ایک آدھ روپیہ مل جاتا تھا جسے ہم شاہانہ انداز میں خرچ کرتے۔

سکول کی زندگی بھی کیا سہانی زندگی ہوا کرتی تھی۔ ہمارے گاؤں میں لڑکوں کا ہائی اور لڑکیوں کا مڈل سکول ہے۔ ہم یار دوست ٹولیوں کی شکل میں سکول جایا کرتے۔ تقریباً ہر بچہ ہی گھر سے ٹاٹ لے کے جاتا تھا۔ ہم سکول کے اوقاتِ کار سے کافی پہلے سکول پہنچ جاتے تھے تاکہ تھوڑا بہت شغل کا سامان کر لیں۔ ہمارے ایک استاد حافظ صاحب تھے اور ہم سے روزانہ کی بنیاد پہ پنجگانہ نمازوں کا حساب لیا کرتے تھے۔ میں نے مولوی صاحب سے سن رکھا تھا کہ نمازیں قضا بھی کی جا سکتی ہیں سو میں فجر کے ساتھ ہی گزشتہ دن کی نمازیں قضا کر کے سرخرو ہو جاتا تھا اور ان کی سرزنش سے بچ جاتا تھا۔ سکول جاتے سمے ’کوندر‘ کو گرہیں لگا کے جاتے تھے۔ مشہور تھا کہ اگر تالاب کے کنارے اگنے والے اس سبزے کو گرہ لگا جائیں تو استادوں سے مار نہیں پڑتی۔ سردیوں کی ٹھٹھراتی صبحیں ہی کسی عذاب سے کم نہ تھیں اوپر سے تشریف پہ ڈنڈے پڑنا تو کہیں بڑا عذاب تھا۔

استاد ہمیں باقاعدگی سے گھر کا کام دیا کرتے تھے اور معمول کے مطابق چیک بھی کرتے تھے۔ میں ہمیشہ سکول جانے سے پہلے دادی یا امی کی منت سماجت کر کے ان سے تختی لکھوایا کرتا تھا۔ کلاس کے مانیٹر سے کبھی بھی اچھے تعلقات نہ ہوتے تھے کیوں کہ وہ استاد جی کو سچ بتا دیتا تھا کہ فلاں فلاں کا کام مکمل نہیں ہے۔

صرف دسویں جماعت کا امتحان بورڈ منعقد کرواتا تھا باقی سارے امتحانات سکول میں ہی ہوا کرتے تھے اور اچھے خاصے بچے فیل ہو جاتے تھے۔ آج کل تو بچوں کو فیل کرنے کا رواج سکولوں سے ختم ہی ہو چکا ہے۔ سکول سے تفریح کے وقت سارے بچے مفرور قیدیوں کی مانند باہر بھاگ جاتے تھے۔ اگر کوئی ہم جماعت گھر سے کھانا لاتا تو اسے تناول کرنا کم ہی نصیب ہوتا تھا۔ سب مل کے چھین جھپٹ لیا کرتے تھے اور وہ بے چارہ بے بسی سے منہ تکتا رہ جاتا۔

ہمارے استاد امتحانات کے دنوں میں ہمارے ناتواں کندھوں پہ پڑھائی کا بہت زیادہ بوجھ ڈالتے تھے۔ ہم دعائیں مانگا کرتے تھے کہ یہ بیمار ہوں اور چھٹی کریں۔ لیکن یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوئی۔ نجانے وہ کیسے استاد تھے مغرب تک سکول بٹھا کے پڑھایا کرتے تھے لیکن کبھی ایک روپیہ بھی نہیں لیتے تھے۔

بچپن کی سہانی یادوں میں سب سے سہانی یاد نانکے گھر یعنی ننھیال جانے کی یاد ہے۔ جس شام یہ طے پاتا تھا کہ اگلی صبح نانی کے گھر جانا ہے ہماری رات تارے گنتے ہی گزرتی تھی۔ صبح سویرے ہی عازمِ سفر ہو جاتے تھے۔ مختلف گاڑیاں بدلتے بسوں کا سفر کرتے جب ننھیال گاؤں کے اڈے پہ اترتے تو ہمیں پر لگ جاتے تھے۔ گلیوں میں چلاتے نانی کے گھر کی جانب بھاگ پڑتے۔ رستے میں جتنی بھی عورتیں ملتیں بوسے دے کے استقبال کرتیں۔

کوئی کہتی میرا بھانجا آ گیا کوئی کہتی میرا نواسہ آ گیا۔ یوں لگتا تھا کہ سارا گاؤں ہی ہمارا ننھیال ہے۔ فون کا زمانہ نہیں تھا لہٰذا کسی کی اچانک آمد بھی ایک ناقابلِ بیاں خوشی کا باعث ہوتی۔ آس پڑوس کے لڑکے لڑکیاں مل کے کھیلتے کودتے۔ گاؤں کے تالاب میں بھینسوں کی پیٹھ سے چھلانگیں لگا کے تیراکی کے جوہر دکھایا کرتے تھے۔ گلی ڈنڈہ کھیلا کرتے۔ نانی بڑے اہتمام سے ساگ کو تڑکا لگا کے دیتیں اور جب ہم اپنے گھر واپس پلٹنے لگتے تو روپیہ دو روپے ضرور دیتی تھیں اور وہ کتنی بڑی دولت ہوتی تھی اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔

ہمارے بچپن کا زمانہ ایسا تھا کہ سب کی زندگیوں میں بلا کا ٹھہراؤ تھا۔ ہر کوئی ہر کسی کے ساتھ اٹوٹ رشتوں میں جڑا ہوا تھا۔ خونی رشتے داریاں نہ ہونے کے باوجود ہر کوئی ہر کسی کے دکھ سکھ کا ساتھی تھا۔ شادی بیاہ ہو یا کوئی مرگ ہو جائے سبھی ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے۔

اب زمانہ بدل چکا ہے اور معیارِ زندگی بھی۔ بلکہ یہ کہنا کچھ غلط نہ ہو گا کہ انسانی صورتِ حال ہی بدل چکی ہے۔ بہت سی مثبت تبدیلیاں بھی رونما ہوئی ہیں لیکن شاید کہیں کسی جگہ کسی مقام پہ آ کے ہم ’ڈی لنکڈ‘ ہو گئے ہیں۔ کوئی ربط ٹوٹ گیا ہے۔ نہ وہ طرزِ زندگی رہا ہے اور نہ وہ ٹھہراؤ۔ آج کے تصورِ تعلیم کی بنیاد ہی مقابلے پر ہے۔ ہماری کچی جماعت میں سات آٹھ سال کے لڑکے بھی ہوا کرتے تھے جب کی آج کل تین ساڑھے تین سال کے بچوں کو سکول داخل کروا دیا جاتا ہے۔

مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ والدین کو کون سی ٹرین کے چھوٹ جانے کا خدشہ لاحق ہے جو شیر خوار بچوں کو سکول میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔ ہماری زندگیاں بہت مصروف ہو چکی ہیں۔ ہماری اکثریت کی معاشرتی زندگی بہت محدود ہو گئی ہے۔ رشتوں کی نوعیت بدل چکی ہے اور اس کے ساتھ ہی ہماری شناخت کا تصور بھی بدل چکا ہے۔ بظاہر سوشل میڈیا نے ساری دنیا کو جوڑ دیا ہے لیکن ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والوں کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اب ہم اتنے ہی اہم تصور کیے جاتے ہیں جتنی ہماری ’پوسٹس‘ لائیک اور شئیر کی جاتی ہیں۔

وقت بدلتا ہے اور یہ عین فطری عمل ہے۔ تاریخ کا دھارا اپنی ہی روانی میں بہتا ہے۔ لیکن اس بہتے دھارے سے تھوڑا سا الگ ہو کے زندگی کے اصل معنوں کے بارے میں ضرور سوچنا چاہیے۔ زندگی ایک بہت ہی خوبصورت عمل ہے۔ زندگی میں رنگینیاں بھرنا ہی اصل زندگی ہے۔ اس کے بارے میں آئیڈیلز بھی ہمارے اپنے ہونے چاہیں نہ کہ ہجوم کی اندھا دھند تقلید میں یہ زندگی گنوا دی جائے۔

Facebook Comments HS