سیاسی دعائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں ایوان بالا میں کچھ ارکان اسمبلی کو سپیکر کے ڈائس کے سامنے نماز مغرب کی ادائیگی کرتے دیکھا تو جانے کیوں گردن کو اکڑا کران نادان لوگوں کی طرف مسکرایا جواپنے تائیں معاشرے پر ایک طاہرانہ نگاہ ڈال کرپوچھتے تھے کیا واقعی پاکستان ایک اسلامی ملک ہے!

مولانا اسد محمود کے امامت میں پڑھی جانے والی یہ تاریخی ”احتجاجی نماز“ شاید ان کے ان بڑوں کی کارگردگی پر بھی پانی پھیرگئی ہو گی جنہوں نے 1974 کے پارلیمانی سیشن میں 13 دنوں کے بحث مباحثے کے بعد اس وقت خود کو ایک فرقہ قرار دینے والوں کو دھول چٹانے میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا تھا۔

پرنماز میں شرکاء کی قلیل تعداد دیکھ کرجہاں دکھ ہوا وہاں دل میں ایک حسرت ضرورپیدا ہوئی کہ کاش اعلی عدالت کے تخت پراس وقت سابقہ چیف جسٹس صاحب براجمان ہوتے۔ وہ نمازیوں کے اس قلیل تعداد پراگرجوڈیشل کمیشن نا بھی بناتے تو کم از کم سوموٹو ایکشن ضرورلیتے۔

خیربات کرتے ہیں قومی اسمبلی میں ادا کی جائے والی اس احتجاجی نماز کی جس نے راقم کو متجسس کیا کہ جب یہ معززین نماز پڑھتے ہوں گے توظاہر ہے دعایئں بھی مانگتے ہوں گے، پرجب دعائیں مانگتے ہوں گے تو مانگتے کیا ہوں گے! (وضاحت : یاد رکھیں جو سیاستدان اسمبلی میں نماز نہیں پڑھتے وہ مسجدوں میں جا کر پڑھتے ہیں اورمسجد میں نا پڑھنے والے، گھروں یا دفتروں میں تو پڑھتے ہی پڑھتے ہیں۔ آخر تمام ممبران آرٹیکل 62 اور 63 کے چھاننی سے گزر کرآتے ہیں یہ اللہ میاں سے بدیانتی کیسے کرسکتے ہوں گے! )

ایسے میں غیب کا علم تو اللہ میاں کے پاس ہے پرمیرے خیال میں سیاستدانوں کی دعاوں کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا۔ کیونکہ صادق اورامین کی شرط پر پورا اترنے کی وجہ سے سیاستدان منافق نہیں ہوتے۔ اور یوں ان کے دلوں کا حال جاننا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔

ایسے میں شرطیہ کہا جاسکتا ہے کہ خان صاحب کی حالیہ دعایئں دل میں نوبل پرائز کی کسک لیے ملک کو مودی کے شر سے بچانے کے گرد گھومتی ہوں گی۔ جبکہ سننے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ خان صاحب دعاوں میں اللہ میاں سے مخالفین کو این۔ آر۔ او نا دینے کا وعدہ کرتے سنے پائے جاتے ہیں لیکن اس کے ساتھ شکوہ بھی کرتے ہیں کسی این۔ آر۔ آو والے سائلی کو در پر بھیجتا کیوں نہیں۔

دوسری طرف یہ کہنے میں بھی عار نہیں کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی دعائیں اپنی حالیہ ضمانت کے بعد اب باعزت رہائی پرمرکوز ہوتی ہوں گی۔ کبھی ٹائم ملے تو نیم دلی سے بھائی کے لئے بھی کچھ مانگ لیتے ہوں گے۔ ٓآ صف زرداری صاحب تو دعا مانگتے وقت زبان پر تو شاید منی لانڈرنگ کیس سے بریت کی التجا کرتے ہوں۔ پر سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ ان کا شاطر دماغ مزید کارروائیاں ڈالنے کے ”مواقعوں“ کی فریادی بنتی ہوں گی۔

مولانا فصل الرحمن تو اللہ میاں کو اپنے لئے مخالفین کے دلوں میں نرمی کا التجا کرتے پائے جاتے ہوں گے۔ کیونکہ فراغت کے ان دنوں میں ان کے پاس کوئی اور مشغلہ نہیں ہے۔ معصوم بلاول بھٹو جب اپنی گلابی اردوکی بہتری کی دعائیں مانگتے تھک جاتے ہوں گے تو اللہ میاں سے عوام کو راتوں رات انگریزی زبان سے آشنا کرنے کے معجزے کی استدعا کرتے ہوں گے۔ شیخ رشید صاحب جنہوں نے اعلان کیا تھا پاک بھارت کے جنگ کی صورت میں وہ استعفیٰ دے کر جنگ کے لئے روانہ ہوں گے اب شاید دعاوں میں اللہ میاں کا شکرادا کرتے ہوں گے کہ جنگ چھڑی نہیں۔

شاید شیخ صاحب پبلک اکاوئنٹس کمیٹٰی کی رکنیت کے ساتھ ساتھ اللہ میاں سے لال حویلی کے زیر علاج پتھری کے مریضوں کی شفایابی کی دعائیں بھی کرتے ہوں گے۔ وزیرخزانہ اسد عمرتو خیر دعائیں مانگتے ہی نہیں کیونکہ وہ دعاوں سے زیادہ نغموں کی کامیابی پر یقین رکھتے ہیں۔ فواد چوہدری صاحب کی دعائیں کا زور پی ٹی وی کے ایم ڈی کو ہٹانے کی کاوشوں کی کامیابی سے ہٹ کر اپنی وزارت بچانے پر مرکوز ہوتی ہوں گی۔ فیصل واڈا صاحب تو دعاوں میں ہرغلط جگہ پر صیح وقت پر پہنچنے والی فوٹوسیشن کی بھرپور پزیرائی کی کامیابی کے لئے گڑگڑاتے ہوں گے۔ جبکہ مراد سعید صاحب تو اللہ میاں سے ایسی طاقت کے متمنی ہوتے ہیں گی جس سے وہ اس وقت کو پلٹ دیں جس میں انہوں نے بیرون ملک سے 200 ارب لانے کا وعدہ کیا تھا اورپھر اس کی جگہ 200 ”عرب“ کا وعدہ کرتے۔

جبکہ باقی مانندہ پی ٹی آئی ارکین یا تودعاوں میں اللہ میاں سے وزارتوں کی طالب ہوتی ہوں گی یا پھر پارٹی کی کارگردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ میاں سے اپنے مستقبل کا تحفظ مانگتے ہوں گے۔ مسلم لیگ کے پیشتر ارکان کی دعایئں تواچھے دنوں کی آس لیے میآں صاحب کی صحت یابی سے زیادہ محکمہ زراعت سے پارٹی کے تعلقات کی بحالی پر مرکوز ہوتی ہوں گی۔ جبکہ پیپلز پارٹی والوں کی دعائیں بھی اللہ میاں سے ”ان“ کی اپنے اوپر ایک نظر کرم کی سفارش میں کٹتی ہوں گی۔ ایم کیو ایم والوں کی دعائیں تو ”بھائی“ کی زبان بندی تک پارٹی کی حفاظت اوربصورت دیگر جان کی حفاظت کی پر محیط ہوتی ہوں گی۔ جبکہ دیگر چھوٹی جماعتوں کی دعائیں بھی مسند اقتدار کے ساتھ شریک ہونے تک ہی محدود ہوتی ہوں گی۔

پس افسوس کی بات یہ ہے کہ ان نمائندگان میں کوئی بھی ملک کے عوام کی فلاح وبہبود کے لئے ہاتھ نہیں اٹھاتا ورنہ ان ”صادقوں“ اور ٓ ”امینوں“ کی دعایئں کے طفیل ہی ملک و قوم کی قسمت بدل جاتی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رضوان عبدالرحمان عبداللہ کی دیگر تحریریں
رضوان عبدالرحمان عبداللہ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں