میاں صاحب کی گاڑی اور پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 38
  •  
  •  

میاں صاحب سے مراد ہمارے محترم میاں نواز شریف نہیں ہیں۔ میاں نواز شریف اس طرح کی گاڑی چلانے کا تصوّر بھی نہیں کر سکتے نہ ہی اس طرح کی سڑکیں ان کی شایان شان ہو سکتی ہیں۔ وہ تو سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوئے تھے۔ شہزادے نہیں تھے مگر زندگی شہزادوں کی طرح گذاری۔ اپنے ساتھ ساتھ آپ کے اور میرے لئے بھی ایسی سڑکیں اور موٹروے بنائے جہاں میرے دوست ملک ظفر نے اپنی پرانی سوزوکی ایک سو چالیس کی رفتار سے بھگادی اور چالان ہونے سے پہلے ہی حادثے کا شکار ہو گئے۔ بھلا پانچ سال پرانے ٹائر کتنی دیر نئے موٹروے کی رگڑ برداشت کرتے۔

ہمارے میاں صاحب پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے۔ اس طرح کے وکیل آج کل نایاب ہیں۔ میاں صاحب کے آدھے کلائنٹ ایسے تھے جو تاریخ والے دن ناشتہ بھی میاں صاحب کے گھر سے کرتے۔ میاں صاحب ان کی خاطر داری ماتھے پر سلوٹ ڈالے بغیر کرتے۔ کوئی فیس دے گیا، کوئی گاؤں سے مکئی کا آٹا اور ساگ۔ ایک کیس تو میاں صاحب اس امید پر پندرہ سال لڑتے رہے کہ ان کے کلائینٹ نے جیتی ہوئی آدھی جائیداد میاں صاحب کو بطور فیس دینے کا وعدہ کیا تھا۔

میاں صاحب نے آخر کیس جیت لیا مگر مخالف نے اس جیت کو اعلٰی عدالت میں چیلنج کردیا۔ میاں صاحب نے باقی زندگی اعلٰی عدالت کی تاریخیں بھگتانے میں گزار دی۔ ان کے کلائنٹ اور خود میاں صاحب عدالتی انصاف کے انتظار میں اللہ کو پیارے ہوئے۔ میاں نواز شریف بھی طاقتور سیاستدان ہونے کے باوجود اپنی باقی زندگی انہی عدالتوں سے انصاف مانگتے مانگتے اس فانی دنیا سے کوچ کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ تین بار وزیراعظم رہنے اور ایک بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہونا اس حوالے سے انہیں کوئی فائدہ پہنچاتا نظر نہیں آتا۔

ہمارے میاں صاحب اسی طرح کی ہمدردیاں کرنے اور مفتے کے کلائینٹس کی بھر مار کی وجہ سے نہ تو ڈھنگ کا مکان بنا سکے نہ ہی ڈھنگ کی گاڑی رکھ سکے۔ لیکن دوستوں کے لئے ان کے گھر اور گاڑی کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے۔ ان کی گاڑی کے ماڈل کا تو پتہ نہ چل سکا۔ باڈی البتہ ڈاٹسن کی تھی۔ انجن کرولا کا اور سٹیرنگ پجارو کا۔ دراصل یہ گاڑی استاد کالے خان کی ذاتی مہارت اور ان کی میاں صاحب سے خاص محبت کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی تھی۔

اب اس میں بڑے سے بڑا انجینیر بھی کچھ اضافہ نہ کر سکتا تھا۔ میاں نواز شریف کی وزیر اعظم ہاوس میں چھوڑی گاڑیوں کی طرح اس گاڑی کو بیچنا تقریباْ ناممکن تھا کہ کوئی ذی شعور اس گاڑی پر ہونے والے اخراجات کی قیمت ادا کرنے سے قاصر تھا۔ دوسرا میاں صاحب اس گاڑی سے اتنی محبت کرتے تھے کہ اسے بیچنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے۔ فرماتے تھے میں نے یہ گاڑی بچوں کی طرح پالی ہے۔ خریدار پتہ نہیں اسے سنبھال سکے یا نہیں۔

ایک بار لاہور جاتے ہوئے میاں صاحب کے پرزور اسرار پر بس کا ٹکٹ بچانے کے چکر میں آپ کے ساتھ بیٹھ گئے۔ میاں صاحب کی گاڑی اتنی بڑی تھی کہ اگلی نشست پر بیٹھ کر عقب کا پتہ ہی نہ چلتا تھا۔ میاں صاحب موسیقی کے دلدادہ تھے۔ گھر میں بھی صاحب نے ڈائننگ روم، واش روم اور لان میں موسیقی کا انتظام کیا ہوا تھا۔ ان کی گاڑی میں پرانے زمانے کا سٹیریو ٹیپ ریکارڈر لگا ہوا تھا۔ سفر شروع ہوا تو میاں صاحب نے پنجابی گانے لگا دیے۔

نور جہاں کی آواز کے ساتھ ساتھ اس کی جوانی کی فلمیں اور اداکاری بھی موضوع گفتگو بن گئے۔ اچانک پنجابی گانوں میں انگلش میوزک کا شور آنے لگا۔ میاں صاحب نے کیسٹ نکالی، اس کو کئی تھپڑ لگائے اور کیسٹ دوبارہ لگا دی۔ بے ہنگم موسیقی کا شور بدستور جاری تھا۔ میاں صاحب سڑک کو کوسنے لگے۔ اتنی گندی سڑک تھی۔ بار بار جھٹکے لگ رہے تھے۔ پرویز مشرف کی حکومت تھی۔ میاں صاحب نے سڑک کی خرابی کا ذمہ دار پرویز مشرف کو ٹھرا دیا جس نے ایک سڑک دوست وزیراعظم کی حکومت گرا دی تھی۔

میاں صاحب نے گاڑی روک دی۔ شور ختم ہو گیا۔ نیچے اتر کر دیکھا، پچھلے دونوں ٹائر پنکچر تھے بلکہ کچلے گئے تھے۔ میاں صاحب نے گاڑی سڑک کی سائیڈ پر روکی اور ایک ٹائر کھول کر سڑک کنارے کسی بس کے انتظار میں جا کھڑے ہوئے۔ اس زمانے عام طور کھلی کھڑکیوں والی بسیں چلتی تھیں۔ ایسی ہی ایک لوکل بس نے مہربانی کی۔ میاں صاحب جو موسیقی کے بغیر گزرے لمحات کو زندگی کا حصہ نہیں سمجھتے تھے، بس کے پائیدان پر پاوں رکھتے رکھتے کنڈکٹر سے پوچھنے لگے ”ٹیپ چل رہی ہے“۔

کنڈکٹر نے ٹائر پر لات ماری، میاں صاحب کو ایک طرف دھکیلا اور اونچی آواز سے بولا ”چلو استاد جی؛چھوٹی سواری اے“۔ میاں صاحب غصے سے بولے ”بد تمیز کہیں کا۔ گاڑی دیکھو اور اس کی اکڑ دیکھو۔ ذرا غصہ کم ہوا تو فرمانے لگے میاں ؛پاکستان کی گاڑی بھی ایسے ہی ہے۔ ٹوٹی سڑک پر رواں، شیشے ٹوٹے ہوئے، بغیرلائسنس یا جعلی لائیسنس کے ڈرائیور اور موسیقی کے بغیر“۔

کافی انتظار کے بعد ایک ٹریکٹر ٹرالی وہاں سے گزری۔ ڈرائیور نے مصیبت زدہ سمجھ کر ہماری مدد کی۔ مزے کی بات یہ ہوئی ڈرائیور پنجابی گانوں کا شوقین۔ اس وقت بھی وہ نور جہاں کے گانے لگائے ہوئے تھا۔ میاں صاحب کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ ایک پراٹھا دوسرا چپڑا ہوا۔ ہم اوپن ایر میں سفر کر رہے تھے۔ جلد ہی ورکشاپ آگئی۔ مستری نے چیک کیا تو چھ پنکچر نکل آئے۔ اس نے کہا باؤ جی ٹائر بدل لیں۔

میاں صاحب گاڑی اور بیوی کے بارے بہت حساس تھے۔ان کی گاڑی بہت پرانی اور بیوی ذرا کم پرانی تھی۔ دونوں کی تزئین و آرائیش پر کافی اخراجات اٹھتے تھے مگر ان کے شوق میں کمی نہیں آئی۔ گاڑی کی پوشش بدلتے تو بیگم کو میچنگ سوٹ کی شاپنگ کراتے۔ ٹائر بدلتے تو بیگم کو نئے جوتے خرید کرواتے۔ گاڑی کی ڈینٹنگ پینٹنگ اور بیگم کے میک اپ کا سالانہ بجٹ اکٹھا بناتے۔ میاں صاحب گاڑی اور بیگم دونوں سے بے انتہا پیار کرتے تھے۔ ایک گھنٹے میں گاڑی چلنے کے قابل ہوئی۔ پچاس کلومیٹر چلے ہوں گے کہ بیٹری جواب دے گئی۔

ہارن بجنا بند ہوا تو میاں صاحب نے ٹیپ کی آواز پوری کھول دی۔ وہ ٹیپ کی آواز کو بطور ہارن استعمال کر رہے تھے۔ پاکستان میں ہارن اور بریک کے بغیر کوئی گاڑی چل ہی نہیں سکتی۔ یہاں بار بار بریک لگتی ہے ذرا گاڑی رواں ہوتی ہے تو پھربریک لگ جاتی ہے۔ ایک ورکشاپ پر بیٹری میں تیزابی پانی ڈلوایا اور تیزابی گانے لگا کر پھر عازم سفر ہوئے۔ راستے میں بارش شروع ہو گئی۔ گاڑی کا وائپر شاید کبھی استعمال نہیں ہوا تھا۔ چلا تو سہی مگر آخری بار۔ بریک پانی میں بھیگے تو بیکار ہوگئے۔ گاڑی پیپل کے درخت کے نیچے پارک کی اور بارش رکنے کی دعا کرنے لگے۔ دو گھنٹے بعد سفر شروع کرنا چاہا تو گاڑی نے چلنے سے انکار کر دیا۔ دوگھنٹے بند رہنے کی وجہ سے بیٹری پھر جواب دے گئی تھی۔ قریب کے گاؤں سے لوگ مدد کوآئے گاڑی کو دھکا لگانے۔

ہمیں گھر سے نکلے چھ گھنٹے ہو گئے تھے۔ صبح کا ہلکا سا ناشتہ کیا ہوا تھا۔ پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ میاں صاحب سے عرض کی ”بھوک لگی ہے“۔ میاں صاحب بھی بھوک سے بے حال تھے مگر گاڑی روکنے کا رسک نہیں لینا چاہتے تھے کہ بیٹری ڈاون تھی۔ دھکا کون لگاتا۔ کافی سوچ بیچار کے بعد ایک ڈرائیور ہوٹل پر گاڑی روکی۔ گاڑی بند نہیں کی۔ گاڑی کی ریس پر اینٹ رکھ دی کہ اینٹ کے دباؤ سے گاڑی سٹارٹ رہے۔ گاڑی دھواں اگل رہی تھی، اونچی آواز میں گانے چل رہے تھے اور ہم کھانا کھا رہے تھے۔ اچانک گاڑی کا ہارن بجنے لگا۔ ہوٹل کے مسافر رحم طلب نظروں سے ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے اٹھ کر ہارن کی تار نکال دی۔ ایسے محسوس ہوا جیسے جنگ ختم ہو گئی ہو۔

باقی ماندہ سفر خوشگوار تھا۔ اتنا شاندار موسم کافی عرصے بعد آیا تھا۔ ہم ساری تھکن بھول گئے جب ایک نئی افتاد آن پڑی۔ پولیس نے ناکا لگایا ہوا تھا۔ اور اس کا اصرار تھا کہ کاغذات دور بیٹھے افسر کو اس کے پاس جا کر دکھائے جائیں۔ میاں صاحب قانون دان تھے اور بضد تھے کہ افسر ادھر آ کر کاغذات چیک کرے۔ اسی تو تکار میں میاں صاحب کا پاوں ریس پر سے اٹھ گیا۔ گاڑی بند ہو گئی۔ چند منٹوں میں پیچھے گاڑیوں کی لائین لگ گئی۔ ہارن پر ہارن بج رہے تھے۔ آخر کار پولیس والوں نے مل کر دھکا لگایا۔ گاڑی ایک جھٹکے سے سٹارٹ ہوئی۔ دھکا لگانے والے اوندھے منہ نیچے گرے۔ میاں صاحب نے ریس تیز کی اور پچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

آج اگر غور کیا جائے تو پاکستان کی گاڑی بھی ایسے ہی چل رہی ہے۔ اس گاڑی کا برانڈ اسلامی ہے۔ اس پر بھونڈے طریقے سے جمہوری رنگ کیا گیا ہے۔ اس کا انجن آمرئیت کا بنا ہوا ہے اور ڈرائیور کا لائسنس جعلی ہے اس گاڑی کے اصل ڈرائیور یا تو حادثے کا شکار ہو کر دنیا سے کوچ کر گئے یا ان کا چالان کردیا گیا۔ یہاں چالان کروانے کے لئے بالکل ضروری نہیں کہ آپ ٹریفک کی خلاف ورزی کر رہے ہوں۔ کئی بار ٹارگٹ پورے کرنے کے لئے بھی چالان ہو جاتا ہے۔ یہ گاڑی کبھی ایک دم رفتار پکڑ لیتی ہے اور کبھی جام ہو جاتی ہے۔ کبھی ہارن ایک دم بجنا شروع ہو جاتا ہے تو کبھی بیٹری ڈاون ہو جاتی ہے اور دھکا لگانا پڑتا ہے۔ ڈر ہے کسی دن دھکا لگانے والے اوندھے منہ نہ گر جائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 38
  •  
  •