پلیز مجھے خودکشی کا آسان طریقہ بتا دو
پتا نہیں وہ کیوں ملنا چاہتی تھی۔ ”جینا تم جب اور جہاں کہو میں آؤں گا۔ بتاؤ کہاں آؤں۔ “ میں نے جلدی سے کہا۔ ”کل اسلام آباد آ جانا۔ پلیز مجھے فون نہ کرنا۔ میں خود فون کروں گی یا میسیج بھیجوں گی۔ “ اس نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔ اف اس کی آواز سن کر حواس ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ حالاں کہ ہم نے باہمی رضا مندی سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ زندگی میں پھر کبھی نہیں ملیں گے لیکن اس کی آواز سننے کے بعد خود پر اختیار جیسے ختم ہو رہا تھا۔
میں نہ جانے کتنی دیر فون ہاتھ میں لئے بیٹھا رہا۔ کئی بار اس کا نمبر ڈائل کرنے کو دل مچلتا تھا لیکن اس کی بات یاد تھی اس لئے ہاتھ آگے نہ بڑھتا تھا۔ اگلے دن میں اسلام آباد میں تھا۔ بلیو ایریا کے ریسٹورانٹ میں بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا۔ پھر جب وہ آئی تو جیسے کائنات مسکرا اٹھی۔ مجھے ایسا لگا جیسے میرا دل مدتوں سے رکا ہوا تھا اور اب اس نے دھڑکنا شروع کیا ہے۔ وہ جیسے جیسے میرے قریب آ رہی تھی میری دھڑکنیں بڑھتی جا رہی تھیں۔
بے اختیار اسے بانہوں میں لینے کو دل مچل رہا تھا۔ برسوں کی ترسی ہوئیں نگاہیں اس سے ہٹتی نہیں تھیں لیکن پھر ایک تلخ حقیقت ہم دونوں کے درمیان آ کھڑی ہوئی۔ مجھے یہ تکلیف دہ احساس ہوا کہ اب وہ میری نہیں رہی پرائی ہو چکی ہے۔ ہم آمنے سامنے بیٹھے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ وقت نے اس سے بہت کچھ چھینا تھا لیکن اس کے حسن کو گہنا نہ سکا تھا۔ اگرچہ بہت کمزور لگ رہی تھی، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے تھے پھر بھی انتہائی حسین لگ رہی تھی۔
” تم تو بالکل بھی نہیں بدلے۔ “ بالاخر اس نے گفتگو کا آغاز کیا۔ ”ہاں میں نہیں بدلا۔ آج بھی وہی ہوں۔ مگر تم وہ نہیں رہیں۔ “ میں نے دھیرے سے کہا۔ اس کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ ”ایسی باتیں مت کرو۔ میں آج بہت خوش ہوں۔ “ اس نے اپنے گالوں پر لڑھکتے ہوئے آنسوؤں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہا۔ میں نے ٹشو اس کی طرف بڑھا دیا۔ وہ مسکرا اٹھی۔ ٹشو سے آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔ ”میں نے کہا تھا نا، تم بالکل نہیں بدلے۔ “ میں نے کھانے کا آرڈر دیا حالاں کہ مطلق بھوک نہیں تھی۔
ہم پرانی یادوں کو تازہ کرنے لگے۔ کئی باتوں کو یاد کرکے کبھی ہم ہنستے تھے تو کبھی اداس ہو جاتے تھے۔ ”اچھا بتاؤ تمہاری بیوی کیسی ہے؟ تمہارے بچے کتنے ہیں؟ “ اس نے سوال کیا۔ ”بتا دوں گا۔ پہلے تم بتاؤ؟ “ میں نے جلدی سے کہا۔ ”میری ایک ہی بیٹی ہے اور اس کا نام خوشی ہے۔ “ اس کی آنکھیں چمکیں۔ میں حیران رہ گیا۔ یہ وہی نام تھا جو ہم نے سوچا تھا کہ جب ہماری بیٹی ہو گی تو ہم اس کا یہ نام رکھیں گے۔
”پتا ہے میری بیٹی کیسی ہے؟ “ اس نے کہا۔ ”مجھے معلوم ہے وہ تمہارا عکس ہوگی۔ لٹل جینا۔ “ میں نے فوراً کہا اور جینا مسکرانے لگی۔ ”اچھا اپنے ہزبینڈ کے بارے میں بتاؤ۔ “ میں نے پوچھا۔ ”تمہیں یاد ہے ناں جب میری شادی طے ہوئی تھی تو میں کتنا روئی تھی مگر آج میں بہت خوش ہوں۔ میرا خاوند بہت اچھا ہے۔ میرا اتنا خیال رکھتا ہے کہ کیا بتاؤں۔ وہ کہتے ہیں نا کہ شادی ہو جائے تو پیار بھی ہو جاتا ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ آج میں اپنے گھر میں بہت خوش ہوں۔ میرا گھر میری جنت ہے۔ “ اس نے کہا۔
”یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ چلو شکر ہے تم خوش ہو۔ “ میں نے دھیرے سے کہا۔
”خوش تو حد سے زیادہ ہوں۔ اس وقت تو مجھے برا لگا تھا کہ مجھے ایم اے بھی نہیں کرنے دے رہے۔ پہلے سال کے بعد والدین میری شادی کر رہے ہیں لیکن اب کوئی گلہ نہیں۔ پتا ہے میں گھر کے سارے کام کرتی ہوں۔ کھانا بھی بہت اچھا بناتی ہوں۔ میرا خاوند تو میری کوکنگ کا دیوانہ ہے۔ وہ جب گھر آتا ہے تو بس میری ہی خاطر داری میں لگا رہتا ہے۔ پیار بھری باتیں کرتا ہے۔ میرے منع کرنے کے باوجود ہر کام میں میرا ہاتھ بٹاتا ہے۔ مجھے تو کوئی فرمائش کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی مجھے اتنی چیزیں لا دیتا ہے کہ سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔ بھلے ان لوگوں سے ہماری رشتہ داری یا واقفیت نہیں تھی لیکن ہمارا فرقہ ایک تھا ناں۔ میرے والدین کو تمہارے ساتھ میری شادی میں بڑا اعتراض یہی تھا کہ ہم سنی ہیں اور تم شیعہ۔ پھر ان کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ در اصل ہمارے خاندان میں شادیاں بڑے طے کرتے ہیں اور غیرت کا تو پوچھو مت۔ غیرت کے نام پر تو قتل کر دیتے ہیں۔ اگر میں تمہارے ساتھ اپنی مرضی سے شادی کر لیتی تو میرے ساتھ تمہاری ہڈیاں بھی گل سڑ چکی ہوتیں۔ “ جینا بولتی چلی گئی۔
”یہ سب تو میں جانتا ہوں تم اپنے خاوند کے بارے میں بتاؤ، ویسے وہ کرتا کیا ہے؟ “ میں نے پوچھا۔
”اس کا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس ہے۔ کروڑوں میں کھیلتا ہے۔ پیسے کی تو کوئی کمی نہیں۔ اور ہاں بہت کھلے ذہن کا آدمی ہے۔ اس نے مجھ پر کبھی کوئی پابندی نہیں لگائی۔ نہ کبھی کسی سہیلی سے ملنے سے روکا نہ کبھی بھاری برقع پہننے کا حکم دیا۔ بیٹی سے بھی بہت پیار کرتا ہے۔ کردار کا بھی بہت اچھا ہے کبھی کسی پرائی عورت کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا اس نے۔ اسی لئے تو میں اتنی خوش ہوں۔ اچھا میری چھوڑو، اب اپنی سناؤ، تمہاری بیوی کیسی ہے؟ بچے کتنے ہیں؟ “ اس نے گفتگو کا رخ میری طرف موڑ دیا۔ میں ذرا سا مسکرایا مگر خاموش رہا۔
”تم اپنی ماضی کی محبوبہ سے ملنے چلے آئے، تمہاری بیوی کو پتا چلا تو اسے برا نہیں لگے گا؟ “ اس نے میری خاموشی سے تنگ آ کر کہا۔ ”بیوی ہو گی تو اسے برا لگے گا ناں، جینا میں نے شادی نہیں کی۔ “ میں نے بتا دیا۔
وہ ایک لمحے کے لئے چپ سی ہو گئی۔ ”مجھے پتا تھا تم ایسی ہی حماقت کرو گے۔ ہمارا ملنا نہ میرے والدین کو منظور تھا نہ اس سماج کے لئے قابلِ قبول تھا۔ شاید ہماری قسمت میں یہی لکھا تھا۔ تو اب یہ سوگ منانا چھوڑو اور کوئی اچھی سی لڑکی دیکھ کر شادی کر لو۔ مجھے پورا یقین ہے تمہیں بہت اچھی لڑکی مل سکتی ہے۔ “
میں نے اس کی بات سن کر ایک گہری سانس لی اور بولا۔ ”میری بات چھوڑو، مجھے بھی پورا یقین ہے کہ مجھے بہت اچھی لڑکیاں مل جائیں گی لیکن میں کسی سے شادی نہیں کر سکتا کیونکہ ان میں کوئی بھی جینا نہیں ہوگی۔ میرا دل جینا کے سوا کسی کو جیون ساتھی کے روپ میں کبھی قبول نہیں کرے گا۔ “
”بس بس یہ فضول باتیں مت کرو۔ اگر مجھ سے محبت ہے تو میری خاطر مان جاؤ اور شادی کر لو۔ “ جینا نے جذبات سے بھرپور لہجے میں کہا۔
” دیکھو مجھے بلیک میل مت کرو۔ یہ ستم مجھ سے برداشت نہیں ہو گا۔ “ میں نے بے چین ہو کر کہا۔
جینا نے میری درخواست پر ٹاپک بدل دیا۔ ہم نے ڈھیروں باتیں کیں۔ آخر جدائی کا وقت آن پہنچا۔ جینا پھر اصرار کرنے لگی کہ میں شادی کر لوں۔ میں نے انکار کر دیا۔ جانے سے پہلے وہ مجھے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے مجھے ہمیشہ کے لئے اپنی آنکھوں میں بسا لینا چاہتی ہے۔
جانے سے پہلے وہ اداس ہو گئی پھربولی۔ ”سنو! پلیز مجھے خود کشی کا کوئی آسان طریقہ بتا دو۔ “
میں دھک سے رہ گیا۔ ”یہ کیسا سوال ہے تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو۔ خبردار جو ایسی کوئی بات کی۔ “
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

