پلیز مجھے خودکشی کا آسان طریقہ بتا دو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 70
  •  

مطلوبہ کتاب خریدنے کے بعد اردو بازار کے رش سے گزرتے ہوئے اچانک میرا کندھا کسی کے کندھے سے ٹکرا گیا۔ میں جو کسی خیال میں مگن اس تنگ بازار سے گزر رہا تھا چونکا تو پہلا احساس یہ تھا کہ وہ کوئی لڑکی ہے۔ ”سوری“ میں نے نظریں جھکائے ہوئے شرمندگی سے کہا اور آگے بڑھنے لگا تو وہ میرا راستہ روک کر کھڑی ہو گئی۔ ”رکو۔ رکو۔ کہاں جا رہے ہو؟ “ لڑکی نے کہا۔ تب میں نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا تو ایک بار پھر چونک اٹھا۔

”رمشا! کیا واقعی تم ہو؟ “ میں نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ کہا۔ ”مجھے بھی یقین نہیں آ رہا ہم پندرہ برس بعد کس ماحول میں ملے ہیں۔ “ اس نے ارد گرد نگاہ ڈالتے ہوئے کہا پھر میری طرف ہاتھ بڑھا دیا۔ میں نے اس سے ہاتھ ملایا تو میری نظر اس کے ساتھ کھڑی تیرہ چودہ سال کی ایک لڑکی پر پڑی جو حیرت سے ہم دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ ”یہ میری بیٹی ہے۔ “ رمشا نے کہا۔ اس کی بیٹی نے سوالیہ انداز میں ماں کی طرف دیکھا۔

”بیٹی یہ انکل میرے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ “ یہ سن کر اس کی بیٹی نے فوراً مجھے سلام کیا۔ ”جیتی رہو بیٹا۔ “ میں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ حال وغیرہ پوچھنے کے بعد رمشا نے بتایا کہ وہ شاپنگ کرنے نکلی تھی۔ راجہ بازار کے بعد اسے صدر جانا تھا۔ وہ مجھ سے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی بہت سی باتیں پوچھنا چاہتی تھی۔ اس نے اصرار کیا کہ میں اس کے ساتھ چلوں۔ مجھے سکیم تھری میں ایک دوست کے ہاں ایک دعوت میں جانا تھا۔

میرے پاس ایک گھنٹے کا وقت تھا۔ میں اس کے ساتھ چل پڑا۔ اس نے اپنی گاڑی رش سے دور ایک محفوظ جگہ پر پارک کی تھی۔ ہم گاڑی میں بیٹھے اور وہ اسے ڈرائیو کرتے ہوئے مری روڈ کے رش میں لے آئی۔ سگنل پر گاڑی رکی تو اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔ ”کمال ہے پندرہ سالوں میں تم ذرا بھی نہیں بدلے اور میں کتنی موٹی ہو گئی ہوں۔ “ ”نہیں خیر موٹی تو نہیں ہو، فربہی مائل کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ “ میں نے سادگی سے کہا۔

رمشا ہنسنے لگی۔ ”بہت خوب موٹی کہہ بھی دیا اور ایسے کہا کہ مجھے برا بھی نہ لگے۔ “
”میرا یہ مطلب تو نہیں تھا، شاید تم چاہتی ہو کہ میں تمہاری تعریف کروں۔ “ میں نے سنجیدگی سے کہا۔
”جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں، ویسے بھی میں تین بچوں کی ماں ہوں اور اس حساب سے اتنا موٹا ہونا جائزہے۔ ویسے میں بتاؤں میں نے کس سے شادی کی تھی؟ اس نے خواہ مخواہ سسپنس پیدا کرتے ہوئے کہا۔

” نہ بھی بتاؤ تو میں اندازہ لگا سکتا ہوں، وہ حمزہ کے سوا کون ہو سکتا تھا۔ یونیورسٹی کے چپے چپے میں ہم تم دونوں کو ساتھ دیکھا کرتے تھے۔ “ میں نے کہا۔

اتنے میں سگنل گرین ہو گیا۔ ”تم بدلے بدلے سے لگ رہے ہو۔ اچھا میں بعد میں پوچھوں گی۔ “ اس نے گاڑئی آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ صدر میں ’الجنت مال‘ سے وہ بیٹی کے لئے ڈریس لینا چاہتی تھی۔ اس کی بیٹی کو کوئی ڈریس پسند نہیں آ رہا تھا۔ ”بس میں اس کی اسی عادت سے بہت تنگ ہوں۔ فیصلہ کرنے میں بہت دیر لگاتی ہے اس کے دونوں بھائی ایک منٹ میں بتا دیتے ہیں کہ یہ پینٹ چاہیے یا یہ شرٹ چاہیے۔ “ اس نے منہ بنا کر کہا۔

” یعنی تمہارے بیٹے تم پر گئے ہیں۔ “ میرے جملے پر وہ پھر ہنسنے لگی۔ اسی دوران اس کی بیٹی نے ایک لباس پسند کیا۔ وہ ٹرائی روم میں گئی۔ تو رمشا نے بے حد سنجیدگی سے سرگوشی کی۔ ”وہ تمہیں یاد ہے یا تم نے اسے بالکل بھلا دیا ہے؟ “ میرا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔ میں کب سے سوچ رہا تھا کہ وہ اس کے بارے میں کچھ نہ پوچھے۔ میں نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا مگر کچھ کہہ نہ سکا۔ حلق میں گولا سا پھنس گیا تھا۔

رمشا جو بات بات پر ہنس رہی تھی اب بہت سنجیدہ نظر آ رہی تھی۔ ”کچھ مت کہو، میں سب سمجھ گئی۔ “ اس نے اداس لہجے میں کہا۔ اس کی بیٹی ڈریس پہن کر آئی تو ہم اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ رمشا نے بہت اصرار کیا کہ میں اس کے گھر چلوں لیکن میں نے انکار کر دیا۔ کیونکہ میری کمٹمنٹ کہیں اور پہنچنے کی تھی اور اب زیادہ وقت نہیں تھا۔ حالانکہ اس کا میاں بھی ہمارا یونیورسٹی فیلو تھا اور اس سے ملنے کی خواہش بھی پیدا ہو گئی تھی۔

” تم تو ایک سال بعد ہی یونیورسٹی سے کیا نکلے، سب سے رابطے ہی توڑ گئے۔ کسی کو پتا نہیں تھا کہ تم لاہور چھوڑ کر کدھر گئے ہو لیکن اب تمہیں گم نہیں ہونے دوں گی اپنا فون نمبر دو۔ “ رمشا نے ڈریس خریدنے کے بعد کہا۔ ”تم اچھی طرح جانتی ہو میں نے یونیورسٹی کیوں چھوڑی تھی۔ اگر وہ واقعہ نہ ہوتا تو۔ خیر میں اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔ “ میں نے کہا لیکن اپنا نمبر بہر حال اسے دے دیا۔ ”اچھا جب بھی پنڈی دوبارہ آنا ہو میرے گھر ضرور آنا۔ “ رمشا نے تاکید کی۔

رات گئے جب میں مری واپس آ رہا تھا تو رمشا سے ملاقات کی تصویریں آنکھوں میں پھر رہی تھیں۔ پندرہ سال پہلے کے سب واقعات جنہیں میں کبھی بھلا نہیں پایا تھا اب تمام تر جزئیات کے ساتھ کسی فلم کی طرح میرے ذہن کے پردے پر چل رہے تھے۔ میری روح پر لگا وہ زخم جس سے رستا ہوا خون کبھی بند نہ ہوا تھا ایک بار پھر تازہ ہو گیا تھا۔ اسی لمحے سے بچنے کے لئے تو میں نے سب سے ناتہ توڑ دیا تھا۔ کاش وہ مجھے نہ ملی ہوتی۔

اب تو اس نے میرا نمبر بھی لے لیا تھا۔ اگر رمشا نے پھر ’اُس‘ کے بارے میں پوچھا تو درد کی شدت میں کچھ اور اضافہ ہو جائے گا۔ وہ خوابوں سے بھری آنکھیں جو مجھے کتنے پیار سے دیکھا کرتی تھیں، وہ مہکتے ہوئے براؤن بالوں کی لٹیں جو کبھی میرے شانوں پر بکھرتی تھیں، وہ شہد سے بھی شیریں آواز جو میرے کانوں میں رس گھولتی تھی، وہ مخروطی انگلیوں والے کومل ہاتھ میں جن کی لکیروں میں اپنا مقدر ڈھونڈتا تھا اور وہ گلاب کی پتیوں جیسے ملائم عارض جنہیں کبھی چھو لیتا تھا تو پھر دیر تک مجھے اپنے بدن سے اس کی خوشبو آتی تھی لیکن اب میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔

میں کس قدر تہی دامن ہو چکا تھا۔ شروع شروع میں آنکھ سے آنسو بہتے تھے تو تسکین کا کچھ سامان ہو جاتا تھا اب تو مدت ہوئی آنسو بھی خشک ہو چکے تھے۔ ایسا لگتا تھا سینے میں کسی نے دل کی جگہ پتھر رکھ دیا ہے۔ اس رات مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔ رات بھر پہلو بدلتا رہا۔ شاید صبح کے چھ بجے تھے جب فون کی گھنٹی بجی۔ موبائل فون پر ایک انجانا نمبر تھا۔ میں نے چند لمحے انتظار کیا۔ بیل مسلسل بج رہی تھی۔ میں نے فون اٹھایا۔

دوسری طرف سے کسی کی آواز سنائی نہ دی۔ ایک عجیب خاموشی تھی۔ میں کسی کی سانسوں کو محسوس کر رہا تھا۔ میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ ”مجھے پہچانا“ کئی لمحوں کی خاموشی کے بعد یہ الفاظ میری سماعت سے ٹکرائے اور مجھے یوں لگا جیسے دل پسلیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا۔ یہ آواز تومیں لاکھوں میں پہچان سکتا تھا۔ اس آواز کی بازگشت تو میں پندرہ سالوں سے سنتا چلا آیا تھا۔ الفاظ میرے حلق میں اٹکنے لگے۔

”جینا۔ جینا۔ تمہی ہو ناں۔ “ آخر میرے منہ سے آواز نکلی۔ ”مجھے پتا تھا تم نے مجھے نہیں بھلایا ہو گا۔ “ دوسری طرف سے رندھی ہوئی آواز سنائی دی۔ مجھے ایسا لگا جیسے وہ رو رہی ہے۔ ”جینا کیا ہوا تم رو کیوں رہی ہو۔ مجھے بتاؤ کیا بات ہے؟ “ میں نے تڑپ کر کہا۔ ”کچھ نہیں اتنے عرصے بعد تمہاری آواز سنی تو دل بھر آیا۔ میں تم سے ملنا چاہتی ہوں، ایک بار، بس ایک بار۔ مجھ سے ملو گے ناں۔ “ میرے دل و دماغ میں ایک زلزلہ برپا تھا۔ میں اس کی آواز اتنے برسوں بعد سن رہا تھا لیکن اس انداز میں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 70
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں