ایک قدیم ہسپانوی ناول – چلتا پرزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 8
  •  

اُردو ترجمے کی روایت میں محمد سلیم الرحمن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اُن کا شمار اُردو کے ان معدودے چند مترجمین میں ہوتا ہے جن کے کیے ہوئے تراجم عزت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ فورٹ ولیم کالج، دہلی کالج، انجمن ترقی اُردو سے لے کر آج تک صاحبان فن مترجمین کی فہرست حیرت انگیز حد تک مختصر ہے، مولوی عنایت اللہ دہلوی، ظ انصاری، مولانا ظفرعلی خاں، ابن انشا، محمد حسن عسکری، شاہد حمید، محمد سلیم الرحمن، محمد عمر میمن۔ ایسا نہیں کہ اردو میں یہی مترجم موجود ہیں۔ مترجمین کی فہرست لا متناہی ہے مگر جن ترجموں پر صاد کیا جاسکتا ہے، وہ ترجمے انہی مترجمین سے مخصوص ہیں۔

اس جگہ محمد سلیم الرحمن کے ترجمہ کردہ ناول چلتا پرزہ (Lazarillo De Tormes) کا تعارف مقصود ہے۔ یہ سولھویں صدی کا ہسپانوی ناول ہے۔ اس کے مصنف کا نام آج تک معلوم نہیں ہوسکا۔ لاثار لیو دے تور میس کا شمار بلاشبہ ان ناولوں میں ہوتا ہے جو اپنی دلچسپی کے اعتبار سے بار بار پڑھے جانے کے قابل ہوتے ہیں۔ تکنیک، زبان، بیان اورکردار نگاری پر ناول نگار کو حیرت انگیز حد تک مہارت حاصل ہے۔ لاثار لیو کی حرکات پرقاری جگہ جگہ انبساط کی کیفیت محسوس کرتا ہے۔

اس ناول کی کہانی ایک بچے کے گرد بنی گئی ہے جس کی ماں اُس کی کفالت سے بچنے کے لیے اُسے ایک اندھے فقیر کے ساتھ روانہ کردیتی ہے۔ بچہ فقیر کے ساتھ اپنی چستی کے اعتبار سے نہلے پر دہلا ثابت ہوتا ہے۔ اندھے کی جملہ عیاریوں کو اپنی بصیرت سے چت کرتا ہے اور موجود حالات میں زندگی کو اپنے لیے گوا را بناتا ہے۔ اندھے کے بعد لاتار لیو کا واسطہ ایک پادری سے پڑتا ہے۔ وہاں بھی صورت حال کی دلچسپی قاری کو نہال کرتی جاتی ہے۔

تنقیدی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ سولھویں صدی کا حقیقی بیانیہ ہے جس میں کلیسا کی حاکمیت کے بارے میں طنزیہ رویہ اختیار کیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے دستیاب نسخوں، جو تینوں 1554 میں چھپے، کے پانچ سال بعد اس پر پابندی لگا دی گئی مگر اس وقت تک یہ ناول فرانسیسی، انگریزی، جرمن، اطالوی، ولندیزی اور لاطینی میں ترجمہ ہوچکا تھا۔

اردو میں اس کتاب کے انتخاب کی داد محمد سلیم الرحمن کو جاتی ہے جو یونانی ادب کا شاہ کار جہاں گرد کی واپسی، یورپ کی نو آبادیاتی لوٹ کھسوٹ کا بیانیہ ’قلب ظلمات، ‘ چیخوف کے ڈراموں، ”کارل اور اینا ’، ‘ گمشدہ چیزوں کے درمیان، ’اسیرذہن“، رباعیات سرمد، پہاڑ کی آواز اور اس طرح کے کئی اور تراجم کے حوالے سے کسی تعارف کے محتاج نہیں۔

چلتا پرزہ میں مترجم کی زبان ترجمے کی خواندگی میں سہولت پیدا کرتی ہے۔ ناول کا پس منظر سولہویں صدی کے مناظر پر محیط ہے اس لیے مترجم نے زبان میں محاورے کا التزام کیا ہے جو قرات میں دلچسپی پیدا کرتا ہے۔ چلتا پرزہ اردو کے افسانوی ادب کے تراجم میں بے مثال کتاب کا درجہ حاصل کرچکا ہے جسے ریڈنگز کے اشاعتی ادارے القاپبلشرز نے شایان شان طریقے سے چھاپا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 8
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں